Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یہ نسل کشی کی حمایت ہے‘، اسرائیل کا دورہ قبول کرنے پر فلپائن کے صحافیوں پر شدید تنقید

سوشل میڈیا صارفین نے اسرائیل کا دورہ کرنے والے صحافیوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے (فوٹو: فیس بک، اسرائیلی سفارت خانہ، فلپائن)
فلپائن کے صحافیوں کو اسرائیل کی جانب سے سپانسر کیے گئے دوروں میں شرکت کے بعد اپنے ملک میں شدید ردِعمل کا سامنا ہے۔ ملک کی مرکزی صحافتی یونین کا کہنا ہے کہ ایسے میڈیا دوروں میں شرکت فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی کی حمایت کے مترادف سمجھی جا سکتی ہے۔
اسرائیلی حکومت گزشتہ کئی برسوں کے دوران فلپائن کے صحافیوں کے لیے متعدد میڈیا دوروں کا اہتمام کرتی رہی ہے، جن میں اکتوبر 2023 میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے نسل کش حملوں اور محاصرے کے دوران کیے گئے دورے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے فلپائن میں فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق، اس ماہ 19 فلپائنی صحافی ایسے ہی ایک دورے میں شرکت کر رہے ہیں۔ سفارت خانے نے جمعے کو ان صحافیوں کی اسرائیل آمد کی تصویر بھی شیئر کی۔
اس دورے نے فلپائن کی صحافتی تنظیموں میں تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ نیشنل یونین آف جرنلسٹس آف دی فلپائنز نے اپنے ارکان اور دیگر میڈیا کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے دعوت نامے مسترد کر دیں۔
یونین نے ایک بیان میں کہا کہ ’نسل کشی کے مرتکب ہونے کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کی جانب سے سپانسر کیے گئے دورے قبول کرنا سراسر غیر اخلاقی ہے۔‘
یونین کے مطابق یہ سرگرمی اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی حقیقت کو ’پوشیدہ رکھنے اور اس پر پردہ ڈالنے‘ کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔
یونین کی سیکرٹری جنرل روزالن اولیا نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ لوگ غلطیاں بھی کرتے ہیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ وہ دوروں کی پیشکش قبول کرتے وقت زیادہ محتاط اور سمجھ بوجھ سے کام لیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس نوعیت کے دوروں میں شرکت کو کسی نہ کسی درجے میں اس عمل میں شمولیت یا اس کی حمایت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر فلپائن کے شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس دورے میں شریک صحافیوں اور ان کے متعلقہ میڈیا اداروں کے نام ظاہر کیے جائیں۔ بعض صارفین نے ان صحافیوں کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی ہے۔
عرب نیوز کی جانب سے رابطہ کیے گئے دورے کے بعض شرکا نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، تاہم ان میں سے ایک پالاوان نیوز کے چیف ایڈیٹر ریڈیمپٹو اینڈا نے اپنے دفاع میں کہا کہ ’وہ ہمیشہ آزادانہ صحافت کرتے رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس سفری دعوت کو قبول کرنے میں مفادات کا کوئی ٹکراؤ نظر نہیں آتا۔ سوشل میڈیا پر اسرائیل کے دورے کے حوالے سے ہونے والی تنقید سے بھی مجھے کوئی خاص پریشانی نہیں۔‘
نیشنل یونین آف جرنلسٹس آف دی فلپائنز اور فلپینو فری لانس جرنلسٹس گلڈ دونوں نے اپنے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی دعوت کو مسترد کر دیں۔

فلپائن کی صحافتی تنظیموں نے اپنے ارکان اور دیگر میڈیا کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے دعوت نامے مسترد کر دیں (فوٹو: لِکاس نیوز)

انہوں نے اپنے ارکان پر یہ بھی زور دیا کہ وہ اپنے فلسطینی صحافی ساتھیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں، جنہیں اسرائیلی فورسز نے ہلاک کیا ہے۔ یہ حملے صحافیوں کے خلاف ریکارڈ شدہ تاریخ کے مہلک ترین حملوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 میں اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 270 سے زیادہ صحافی جان سے جا چکے ہیں۔
فلپینو فری لانس جرنلسٹس گلڈ کی چیئرپرسن شانتال ایکو نے کہا کہ ’ہم میں سے بہت سے فری لانس صحافی مختلف تنظیموں اور حکومتوں سے ملنے والی گرانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن جب بات اس نوعیت کی کسی چیز کی ہو تو ہم ایک واضح حد قائم کرتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب معاملہ ایک ایسی ریاست کا ہو جو فعال طور پر وہ کارروائی کر رہی ہو جسے اقوام متحدہ نسل کشی قرار دے چکا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جان سے جانے والے بہت سے صحافی بھی ہماری طرح فری لانس صحافی ہی تھے۔‘

شیئر: