جازان میں خشک سالی اور شدید گرمی کا مقابلہ کرنے والے اکیشیا کے درخت
سلم کے درخت یا (اکیشیا ایرنبرگیانہ) جازان کے علاقے میں صحرائی پودوں میں سے سب سے نمایاں ہیں جو سخت ماحولیاتی حالات میں بقا کی ایک منفرد مثال پیش کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ درخت ماحولیاتی و اقتصادی فوائد دونوں فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقے کے قدرتی ماحولیاتی نظام کا ایک اہم جزو ہیں۔
سلم کے درخت وادیوں اور نچلی سطح پر واقع علاقوں میں وسیع پیمانے پر پائے جاتے ہیں جہاں یہ خشک سالی، بلند درجہ حرارت اور سخت موسمی حالات کے ساتھ قابلِ ذکر انداز میں ڈھل جاتے ہیں اور صحرائی ماحولیاتی نظام میں ماحولیاتی توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ درخت بہار کے موسم میں کھلتے ہیں اور باریک پیلے پھولوں کے گچھے پیدا کرتے ہیں جو شہد کی مکھیوں کے لیے بہترین نیکٹر فراہم کرتے ہیں۔ اسی نیکٹر سے ایک منفرد شہد تیار ہوتا ہے جو گہرے رنگ، زبردست خوشبو اور منفرد ذائقے کے لیے جانا جاتا ہے۔
یہ ایک قدرتی خوراک سمجھی جاتی ہے جو آسانی سے جذب ہونے والی شکر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے اور اس کی پیداوار اور فروخت سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

سلم کے درخت ماحولیاتی تنوع اور جنگلی حیات کو سہارا دیتے ہیں، ساتھ ہی زمین کو مستحکم کرتے ہیں اور صحرائی پھیلاؤ کو کم کرتے ہیں۔ ان کی گہری جڑیں ریت اور مٹی کے کٹاؤ کو روکتی ہیں اور علاقے کے قدرتی ماحول کی مضبوطی بڑھاتی ہیں۔