Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گٹر کے ڈھکنوں کی چوری روکنے کے لیے پنجاب حکومت کا نیا مجوزہ قانون کیا ہے؟

حاجی امتیاز کے مطابق ایک عام ڈھکن کا وزن اگر وہ کاسٹ آئرن کا ہے تو کم از کم وزن 25 سے 35 کلو گرام ہوتا ہے۔ (فائل فوٹو: ان لینڈ واٹر انجینیئرنگ اینڈ کنسٹرکشن)
پاکستان میں گزشتہ چند ہفتوں میں کھلے گٹروں میں گر کر ہلاک ہونے والے بچوں کی خبروں نے میڈیا پر ہلچل مچائی۔ کراچی میں دسمبر کے پہلے ہفتے میں ماں باپ کے سامنے گلشن اقبال کے علاقے میں تین سالہ ابراہیم کی ہلاکت ملک کی سب سے بڑی خبر بن گئی۔
اس کے تین دن بعد پنجاب کے شہر لودھراں میں بھی ایک بچے کے گرنے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد ڈپٹی کمشنر کو معطل کر دیا گیا۔
پنجاب میں ہونے والے اس واقعے نے البتہ حکومتی سطح پر صورت حال کو یکسر بدل دیا۔ اور پنجاب حکومت نے گٹر کے ڈھکنوں پر سخت ترین قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ڈھکن چوری کر کے بیچنے کے ’خفیہ کاروبار‘ کو روکنے سے متعلق ہے۔
اس نئے قانون کے تحت گٹر کے ڈھکن چوری کرنے، خریدنے یا اس کاروبار کا حصہ بننے والوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے اور سخت سزائیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مجوزہ قانون میں جرمانے کی حد انتہائی بلند رکھی گئی ہے تاکہ اس منافع بخش مگر جان لیوا کاروبار کو روکا جا سکے۔

ڈھکن چوری ایک خفیہ کاروبار؟

پنجاب بالخصوص لاہور میں گٹر کے ڈھکن غائب ہونا کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ شہر میں لاکھوں کی تعداد میں سیوریج مین ہولز موجود ہیں اور ہر برس بڑی تعداد میں ان کے ڈھکن یا تو چوری ہو جاتے ہیں یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ ڈھکن عموماً کنکریٹ یا کاسٹ آئرن سے بنے ہوتے ہیں جن میں لوہے کے حصے شامل ہوتے ہیں۔ یہی لوہے کے اجزا انہیں سکریپ مارکیٹ میں قیمتی بنا دیتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چور رات کی تاریکی میں یہ ڈھکن اٹھا لیتے ہیں جبکہ صبح شہری ایک ایسے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں جو اکثر نظر نہیں آتا۔ مون سون کے دنوں میں جب گٹر پانی سے بھر جاتے ہیں، یہ کھلے سوراخ موت کے گڑھے بن جاتے ہیں۔ متعدد واقعات میں موٹر سائیکل سوار، پیدل چلنے والے اور یہاں تک کہ بچے ان میں گر کر شدید زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق صرف لاہور میں ہر برس ہزاروں ڈھکن یا تو چوری ہوتے ہیں یا ناقابلِ استعمال ہو جاتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف شہری سہولت کا نہیں بلکہ عوامی سلامتی کا ہے۔ اسی لیے حکام کا کہنا ہے کہ روایتی قوانین اور معمولی جرمانے اس جرم کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
گٹر کے ڈھکن کی چوری بظاہر ایک چھوٹا جرم دکھائی دیتی ہے مگر درحقیقت یہ ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
کنکریٹ کے ڈھکن بنانے والی ایک فیکٹری کے مالک حاجی امتیاز نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایک عام ڈھکن کا وزن اگر وہ کاسٹ آئرن کا ہے تو کم از کم وزن 25 سے 35 کلو گرام ہوتا ہے جبکہ اگر کنکریٹ کا ہے تو وہ 50 کلو تک بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ جس کاروبار کا ذکر آپ کر رہے ہیں یہ ڈھکن فیکٹریوں میں بیچے جاتے ہیں نہ ہی کوئی فیکٹری ان کو ایسے خریدتی ہے۔ ہم تو بیچنے والے ہیں البتہ سکریب کا کاروبار کرنے والے ضرور یہ خریدتے ہوں گے۔ اور ایسا لوہا 150 سے 200 روپے کلو مارکیٹ میں بکتا ہے۔‘

سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق صرف لاہور میں ہر برس ہزاروں ڈھکن یا تو چوری ہوتے ہیں یا ناقابلِ استعمال ہو جاتے ہیں۔ (فائل فوٹو: ایکس شیخ امتیاز)

ماہرین کا کہنا ہے کہ سکریپ کی خرید و فروخت کا پورا نظام غیررسمی طور پر چلتا ہے اور نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پکڑنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب صرف چوروں نہیں بلکہ اس پوری سپلائی چین کو نشانہ بنانے کی بات کر رہی ہے۔
پنجاب حکومت جس نئی قانون سازی پر غور کر رہی ہے، اردو نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اس کے تحت گٹر اور مین ہول ڈھکنوں کی چوری کو محض عام چوری کے بجائے عوامی جان کو خطرے میں ڈالنے والا سنگین جرم قرار دیا جائے گا۔ اس قانون میں اس جرم پر بھاری مالی جرمانے اور قید کی سزا تجویز کی گئی ہے جس میں جرمانے کی حد ایک کروڑ روپے سے لے کر 10 کروڑ روپے تک رکھی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عدالت کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ جرم کی نوعیت، منظم گروہ کی شمولیت یا بار بار خلاف ورزی کی صورت میں قید کی سزا بھی سنائے۔
حکام کے مطابق اتنے سخت مالی جرمانوں کا مقصد یہ ہے کہ اس جرم سے وابستہ فوری منافع کو مکمل طور پر غیرمؤثر بنایا جا سکے۔
مجوزہ قانون کی ایک اہم شق یہ ہے کہ اس کا دائرہ صرف ڈھکن چرانے والے فرد تک محدود نہیں رہے گا۔ سکریپ ڈیلرز، ری سائیکلنگ یونٹس، فیکٹریاں اور وہ کاروبار جو چوری شدہ ڈھکن یا اس کا مٹیریل خریدنے، پگھلانے یا آگے فروخت کرنے میں ملوث پائے گئے، انہیں بھی برابر کا شریکِ جرم تصور کیا جائے گا اور انہی سزاؤں اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بعض صورتوں میں اس جرم کو ناقابلِ ضمانت بنانے، سکریپ یارڈز کو سیل کرنے اور غیرقانونی مال ضبط کرنے کی دفعات بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سکریپ کی خرید و فروخت کا پورا نظام غیررسمی طور پر چلتا ہے اور نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پکڑنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ (فائل فوٹو: عرب نیوز)

حکومت کا موقف ہے کہ جب تک پوری سپلائی چین کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، اس جان لیوا چوری کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔

نیا قانون: سختی یا حل؟

زیرِغور نئی قانون سازی میں نہ صرف چوری بلکہ چوری شدہ ڈھکن خریدنے، بیچنے اور استعمال کرنے والوں کو بھی سخت سزا دینے کی تجویز شامل ہے۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت بھاری جرمانے، ادارہ جاتی نگرانی اور مختلف محکموں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ ضلعی سطح پر خصوصی مانیٹرنگ اور سکریپ مارکیٹس کی سخت جانچ پڑتال بھی اس کا حصہ ہو سکتی ہے۔
لاہور کے وکیل میاں داؤد کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں حکومت سخت قانون سازی کی بجائے پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد پر توجہ دے تو زیادہ بہتر صورت حال ہو سکتی ہے۔ اس وقت چوری کے جو قوانین موجود ہیں ان میں 10، 10 برس تک سزا ہے بلکہ اس سے زیادہ بھی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر فوری ٹرائل کر کے سزا دی جائے تو پہلے سے موجود قانون ہی کافی ہے لیکن موجود حکومت کا گورننس کا ماڈل ہر قانون نیا بنانے پر ہے۔ میرے خیال میں یہ وقتی حل ہے۔‘
ابھی یہ قانون حتمی شکل میں نافذ نہیں ہوا مگر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اسے مؤثر انداز میں لاگو کیا گیا تو نہ صرف چوری میں کمی آئے گی بلکہ شہریوں کی جانیں بھی محفوظ ہوں گی۔

 

شیئر: