Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ بندی خطرے میں، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی دارالحکومت تہران میں فوجی مشقیں

ایران ناکہ بندی کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی))
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کسی بھی ممکنہ تصادم کی تیاری کے لیے دارالحکومت تہران میں فوجی مشقیں کی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کہا کہ یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں جاری جنگ بندی خاتمے کے دہانے پر ہے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق ان مشقوں میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اور ان سے منسلک نیم فوجی فورس ’بسیج‘ نے حصہ لیا۔
تہران کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے سرکاری ٹی وی پر بات کرتے ہوئے کہا ’امریکی و صہیونی دشمن کی کسی بھی نقل و حرکت کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی صلاحیتوں کو بڑھانا ان مشقوں کے اہم اہداف اور منظر ناموں میں سے ایک تھا، جسے کامیابی سے انجام دیا گیا ہے۔‘
دو ماہ قبل ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکی ہے جس نے عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا اور دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جو کہ تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل کے لیے خلیج کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔
ایران اس اقدام کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے دوران وہاں آنے اور جانے والے بحری جہازوں کو روکنے یا ان کا رخ موڑنے کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

شیئر: