Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ امن منصوبہ قبول کرے یا ’ناکامی‘ کے لیے تیار ہو جائے: ایران

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ یا تو تہران کے تازہ ترین امن منصوبے کو قبول کرے یا پھر اسے ’ناکامی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان منگل کو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں جاری عارضی جنگ بندی خاتمے کے دہانے پر ہے۔
دو ماہ قبل ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی یہ جنگ، جنگ بندی کے باوجود پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے اور اس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
 اگرچہ فریقین میں سے کوئی بھی مکمل جنگ کی طرف واپسی نہیں چاہتا لیکن کوئی بھی رعایت دینے پر بھی آمادہ نہیں۔
ایران نے اپنا ایک مشاورتی منصوبہ امریکی منصوبے کے جواب میں بھیجا ہے جس کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی منصوبہ ایک صفحے کی مفاہمت کی یادداشت پر مبنی تھا جس کا مقصد لڑائی کا خاتمہ اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا تھا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے جواب میں تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ کے خاتمے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور طویل عرصے سے منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے اس جواب کو ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تلخ ردعمل کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران پر ’مکمل فتح‘ حاصل کرے گا اور یہ کہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی اب اپنے آخری سانسوں پر ہے۔
اُدھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو تہران میں فوجی مشقیں کیں جن کا مقصد ’امریکی و صہیونی دشمن کی کسی بھی حرکت کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی صلاحیتوں کو بڑھانا‘ بتایا گیا ہے۔
لفظی جنگ کے اس ماحول نے ایرانی عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
تہران سے تعلق رکھنے والی 43 سالہ مصورہ مریم نے غیرملکی صحافیوں کو بتایا ’ہم بس زندہ رہنے کے لیے کسی بھی سہارے کی تلاش میں ہیں۔ مستقبل غیریقینی ہے اور ہم بس دن کاٹ رہے ہیں۔ اب امید برقرار رکھنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تلخ ردعمل کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور آبنائے ہرمز کو تجارتی آمد و رفت کے لیے کھولنے کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔
ایران اس آبی گزرگاہ میں ٹریفک کو محدود کر رہا ہے اور جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کے لیے ادائیگی کا طریقہ کار وضع کر رہا ہے جس سے عالمی توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

لفظی جنگ کے اس ماحول نے ایرانی عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سعودی آرامکو کے سی ای او امین ناصر نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ توانائی کی فراہمی کو پہنچنے والا یہ جھٹکا دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے۔
دوسری جانب قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے دوحہ میں کہا کہ ایران کو اس آبی گزرگاہ کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
اس تنازع کے نتیجے میں دنیا کو کھاد کی قلت کا بھی سامنا ہے جس کا بڑا حصہ خلیجی بندرگاہوں سے آتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے پروجیکٹ سروسز (UNOPS) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جارج موریرا ڈی سلوا نے خبردار کیا ہے کہ اگر چند ہفتوں میں اس کا حل نہ نکلا تو 45 ملین مزید لوگ بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں جو ایک ’بڑے انسانی بحران‘ کا پیش خیمہ ہو گا۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ایرانی عوام کے حقوق تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ’امریکہ جتنا وقت ضائع کرے گا، امریکی ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی بڑی قیمت چکانا پڑے گی۔‘

شیئر: