Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹیسٹ کرکٹ بنگلہ دیش کے خلاف میں ڈیبیو کرنے والے اذان اویس کون ہیں؟

اذان اویس 10 اکتوبر 2004 کو پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے (فوٹو: اذان اویس، فیس بُک)
پانچ روز پر مشتمل بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی جانب سے اذان اویس نے اپنا انٹرنینشل ڈیبیو کرتے ہوئے 85 رنز سکور کیے ہیں۔
اپنے پہلے ہی انٹرنیشنل ٹیسٹ میچ میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرنے والے اذان اویس کا کرکٹ سفر کئی برس پہلے اس وقت شروع ہوا تھا جب انہیں ان کے والد نے پلاسٹک کا بیٹ اور گیند خرید کر دی تھی۔
سیالکوٹ کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے اذان اویس نے اپنی بیٹنگ میں تحمل، کلاس اور لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت کے باعث نا صرف ڈومیسٹک کرکٹ میں توجہ حاصل کی بلکہ بالآخر پاکستان ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنا کر اپنے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔

ابتدائی زندگی اور کرکٹ میں آنے کا سفر

10 اکتوبر 2004 کو پنجاب کے تاریخی اور کھیلوں کے حوالے سے معروف شہر سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے اذان اویس نے کم عمری ہی سے کرکٹ میں دلچسپی لینا شروع کردی تھی۔
سیالکوٹ پاکستان کو متعدد نامور کرکٹرز دے چکا ہے اور اسی شہر کی کرکٹ کلچر نے اذان اویس کی شخصیت اور کھیل کو بھی جِلا بخشی۔ وہ بچپن سے ہی مقامی اور سکول کرکٹ میں اپنی بیٹنگ کی وجہ سے پہچانے جانے لگے تھے۔
ایک انٹرویو میں وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے بابا نے پلاسٹک کی گیند اور بیٹ لا کر دیا، میں دیوار کے ساتھ گیند مار کر اکیلا ہی کرکٹ کھیلا کرتا تھا، میری والدہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے بابا کو بتایا کہ میں سارا دن ایسے کرکٹ کھیلتا رہا، اس کے بعد بابا نے انٹرنیٹ سے کوچنگ سیکھی اور مجھے کرکٹ سیکھانا شروع کیا۔‘
اذان اویس ایک لیفٹ ہینڈ اوپننگ بیٹر ہیں، اور یہی اندازِ بیٹنگ انہیں روایتی پاکستانی اوپنرز سے کچھ مختلف بناتا ہے۔ ان کی تکنیک مضبوط، شاٹس متوازن اور وکٹ پر قیام کی صلاحیت نمایاں رہی۔ انہوں نے سیالکوٹ کی انڈر ایج کرکٹ میں مسلسل عمدہ کھیل پیش کیا، جس کے بعد انہیں پاکستان انڈر 19 ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔
انڈر 19 سطح پر اذان اویس نے پہلی بار اس وقت نمایاں توجہ حاصل کی جب اکتوبر 2023 میں انہوں نے سری لنکا کے خلاف انڈر 19 ٹیسٹ میچ میں شاندار سینچری سکور کی۔
اس اننگز نے یہ ثابت کردیا کہ وہ صرف محدود اوورز کے بیٹر نہیں بلکہ طویل فارمیٹ میں بھی بڑی اننگز کھیلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعد ازاں وہ سنہ2024 کے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کا حصہ بنے، جہاں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل میں اہم رنز بنا کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔
دسمبر 2023 میں ایشیا کپ انڈر 19 کے دوران انڈیا کے خلاف ان کی ناقابلِ شکست 105 رنز کی اننگز نے انہیں نوجوان کرکٹرز کی صفِ اول میں لا کھڑا کیا۔ پاکستان نے وہ میچ آٹھ وکٹوں سے جیتا اور ازان اویس کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ اںڈیا جیسی مضبوط حریف ٹیم کے خلاف دباؤ میں ایسی ذمہ دارانہ اننگز کھیلنا ان کے اعتماد اور مزاج کا واضح ثبوت تھا۔

ڈومیسٹک کرکٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ کا سفر

انڈر 19 سطح پر کامیابی کے بعد ازان اویس نے جلد ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی جگہ بنالی۔ انہوں نے قائداعظم ٹرافی 2024-25 میں سیالکوٹ کی جانب سے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا اور ابتدائی میچز ہی میں یہ واضح کردیا کہ وہ طویل ریس کے گھوڑے ہیں۔
اپنے تیسرے ہی فرسٹ کلاس میچ میں انہوں نے 130 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور اشعر محمود کے ساتھ 312 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کی، جس نے کرکٹ حلقوں کو متاثر کیا۔

پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کیپ نمبر 261 حاصل کرنا ازان اویس کے کیریئر کا یادگار ترین لمحہ تھا (فوٹو: ازان اویس، فیس بُک)

اسی ٹورنامنٹ کے ٹرائنگولر مرحلے میں ازان اویس نے مسلسل بڑی اننگز کھیلیں۔ انہوں نے ایک میچ میں ناقابلِ شکست 203 رنز سکور کیے، جہاں وہ سیالکوٹ کی پوری اننگز کے دوران کریز پر موجود رہے۔ اس کے بعد 168 اور 121 رنز کی مزید بڑی اننگز کھیل کر انہوں نے خود کو سیزن کا سب سے نمایاں بیٹر ثابت کردیا۔
سیالکوٹ نے بالآخر ٹورنامنٹ جیت لیا جبکہ ازان اویس 844 رنز کے ساتھ ایونٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔ ان کی اوسط 76 سے زائد رہی، جو کسی بھی نوجوان بیٹر کے لیے غیر معمولی کارکردگی سمجھی جاتی ہے۔
جنوری 2025 میں انہوں نے پریزیڈنٹ کپ میں ایشال ایسوسی ایٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے پہلے ہی میچ میں 69 اور 119 رنز کی اننگز کھیلیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے صرف نویں فرسٹ کلاس میچ میں اپنے ایک ہزار فرسٹ کلاس رنز مکمل کرلیے، جو ان کی مستقل مزاجی اور عمدہ تکنیک کی عکاسی کرتا ہے۔
ازان اویس کی بیٹنگ کا سب سے نمایاں پہلو ان کی برداشت اور لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت ہے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 33 میچز کے دوران انہوں نے دو ہزار 673 رنز بنائے، جن میں 10 سینچریاں اور نو نصف سینچریاں شامل ہیں۔ ان کی بیٹنگ کی اوسط 48.60 رہی، جبکہ ان کا بہترین سکور 203 رنز تھا۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ وہ صرف باصلاحیت ہی نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھانے والے بیٹر بھی ہیں۔
سنہ2025 میں ہی پاکستان شاہینز کے دورۂ انگلینڈ کے دوران بھی ازان اویس نے عمدہ کھیل پیش کیا۔ انہوں نے سات اننگز میں 276 رنز سکور کرکے ٹیم کے سب سے کامیاب بیٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ انگلش کنڈیشنز میں اچھی کارکردگی نے سلیکٹرز کو مزید متاثر کیا اور ان کے لیے پاکستان ٹیم کے دروازے کھلنے لگے۔

ازان اویس ایک لیفٹ ہینڈ اوپننگ بیٹر ہیں اور یہی اندازِ بیٹنگ انہیں روایتی پاکستانی اوپنرز سے کچھ مختلف بناتا ہے(فوٹو: ازان اویس، فیس بُک)

پاکستان ٹیم میں شمولیت اور ٹیسٹ ڈیبیو

مسلسل شاندار کارکردگی کے بعد بالآخر وہ لمحہ بھی آیا جس کا ازان اویس برسوں سے خواب دیکھ رہے تھے۔ انہیں بنگلہ دیش کے خلاف جاری سیریز کے لیے پاکستان ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کیا گیا، جو ان کی محنت، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کا انعام تھا۔ نوجوان اوپنر نے مختصر وقت میں یہ ثابت کردیا تھا کہ وہ مستقبل میں پاکستان بیٹنگ لائن کے اہم ستون بن سکتے ہیں۔
ازان اویس نے 8 مئی 2026 کو کے دوران بنگلہ دیش کے خلاف میرپور میں اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کیپ نمبر 261 حاصل کرنا ان کے کیریئر کا یادگار ترین لمحہ تھا۔
ازان اویس کی کہانی صرف ایک نوجوان بیٹر کے پاکستان ٹیم تک پہنچنے کی داستان نہیں بلکہ یہ محنت، صبر اور مستقل مزاجی کی مثال بھی ہے۔ ان کی بیٹنگ میں موجود اعتماد، تکنیکی مہارت اور لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت انہیں مستقبل کے قابلِ اعتماد اوپنرز میں شامل کرتی ہے۔ اگر وہ اسی انداز میں اپنی کارکردگی برقرار رکھتے ہیں تو آنے والے برسوں میں پاکستان کرکٹ کو ایک مضبوط اور مستقل مزاج ٹاپ آرڈر بیٹر مل سکتا ہے۔

شیئر: