Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر سرفراز احمد بہترین انتخاب کیوں ثابت ہو سکتے ہیں؟

سرفراز سے قبل مصباح الحق بھی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد کوچ بن گئے تھے۔(فوٹو:اے ایف پی)
پاکستان کے سابق کپتان سرفراز احمد نے اگرچہ دو ماہ قبل ہی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، تاہم کرکٹ حلقوں میں کافی عرصے سے یہ تاثر موجود تھا کہ ان کا اگلا کردار کوچنگ یا ٹیم مینجمنٹ سے جڑا ہو سکتا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق سرفراز احمد حالیہ عرصے میں زمبابوے میں پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ساتھ بطور مینٹور موجود تھے، لیکن عملی طور پر وہ کوچنگ کے فرائض بھی انجام دیتے دکھائی دیے۔
 یہی تجربہ اب انہیں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے ممکنہ امیدوار کے طور پر سامنے لا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ان کے پاس جیسن گلیسپی جیسا طویل بین الاقوامی کوچنگ تجربہ نہیں، تاہم عاقب جاوید کی عبوری تقرری کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کرکٹ میں کوچنگ کے لیے ’ایلیٹ تجربہ‘ اب پہلے جتنی بڑی شرط نہیں رہا۔
سرفراز احمد سے قبل ان کے پیشرو کپتان مصباح الحق بھی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد ہی کوچنگ کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ پاکستان کرکٹ میں ایسے فیصلے اکثر غیر روایتی انداز میں ہوتے رہے ہیں، اس لیے سرفراز کی ممکنہ ترقی کو غیر متوقع نہیں سمجھا جا رہا۔
سرفراز احمد کو بطور بلے باز یا وکٹ کیپر سے زیادہ ایک ذہین کپتان اور ساتھی کھلاڑیوں کو سنبھالنے والے رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر ان کی ٹی20 ٹیم کی قیادت آج بھی پاکستان کرکٹ کے کامیاب ادوار میں شمار ہوتی ہے۔
انہوں نے 2016 میں شاہد آفریدی سے قیادت سنبھالی، ایسے وقت میں جب پاکستان کی ٹی20 ٹیم مشکلات کا شکار تھی۔ تاہم سرفراز کی قیادت میں پاکستان نہ صرف آئی سی سی ٹی20 رینکنگ میں نمبر ون بنا بلکہ مسلسل 11 سیریز جیتنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
اسی دوران انہوں نے 2017 کی چیمپیئنز ٹرافی بھی جیتی، اور عمران خان کے بعد آئی سی سی کے 50 اوورز ایونٹ جیتنے والے پاکستان کے دوسرے کپتان بنے۔
اگرچہ ٹیسٹ کپتان کے طور پر ان کا دور زیادہ کامیاب نہیں رہا، لیکن بعد میں پاکستان کو قیادت کے بحران کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس سے سرفراز کی اہمیت مزید واضح ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق کوچنگ کا کردار سرفراز کے لیے اس لحاظ سے موزوں سمجھا جا رہا ہے کہ اگرچہ ان کی فیلڈ پرفارمنس وقت کے ساتھ کمزور پڑ گئی تھی، مگر کھیل کو سمجھنے اور ٹیم کو سنبھالنے کی صلاحیت برقرار رہی۔
پاکستان انڈر 19 گرلز ٹیم کے ساتھ ان کی مختصر مینٹورشپ بھی کافی مثبت رہی، جہاں وہ صرف مشورے دینے تک محدود نہیں رہے بلکہ نیٹ پریکٹس، تھرو ڈاؤنز اور فیلڈ ڈرلز میں بھی سرگرم حصہ لیتے تھے۔ 
بعد میں وہ نوجوان کھلاڑیوں کو فاسٹ فوڈ اور آئس کریم کھلانے بھی لے جاتے رہے۔

اگر سرفراز ہیڈ کوچ بنتے ہیں تو شان مسعود کو ایک قریبی ساتھی میسر آ جائے گا۔(فوٹو:گیٹی امیجز)

رپورٹ کے مطابق اگر سرفراز ہیڈ کوچ بنتے ہیں تو موجودہ کپتان شان مسعود کو ایک ایسا ساتھی میسر آئے گا جس کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب شان مسعود بطور کپتان مسلسل دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
تاہم کچھ تعلقات ایسے بھی ہیں جنہیں بہتر بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ 
محمد رضوان کے ساتھ وکٹ کیپنگ اور ٹیم میں جگہ کے لیے مقابلہ، جبکہ بابر اعظم کے دورِ قیادت میں سرفراز کی طویل غیر موجودگی نے بعض تعلقات میں فاصلے پیدا کیے۔
تاہم اس کے باوجود وقت کے ساتھ حالات بدل چکے ہیں اور ممکن ہے ماضی کی کشیدگیاں اب اہم نہ رہیں۔
سرفراز احمد کو شاید آخرکار وہ کردار ملنے جا رہا ہے جس میں وہ سب سے زیادہ مطمئن نظر آتے ہیں۔ اور ایک مطمئن سرفراز اکثر پاکستان کرکٹ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر وہ پاکستان کو اس فارمیٹ میں دوبارہ مضبوط ٹیم بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جس میں اب بھی ٹیم کے پاس بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تو شاید یہ کامیابی انہیں صرف اختیار استعمال کرنے سے کہیں زیادہ خوشی دے۔
کیونکہ سرفراز احمد دوسروں سے بہتر جانتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ میں اختیار جتنی تیزی سے دیا جاتا ہے، اتنی ہی تیزی سے واپس بھی لے لیا جاتا ہے۔

شیئر: