کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن سرکل نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک سفر کی کوشش ناکام بنا دی۔
کراچی شہر سے بیرون ملک جانے والی ایک خاتون مسافر کو امیگریشن کلیئرنس کے دوران اس وقت آف لوڈ کر دیا گیا جب اس کے پیش کردہ کاغذات میں تضادات سامنے آئے اور بعد ازاں خاتون نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ ریلیٹو جوائننگ ویزہ حاصل کرنے کے لیے اس نے جعلی شادی سرٹیفکیٹ تیار کروایا تھا۔
ایف آئی اے کراچی زون کے مطابق یہ کارروائی سات مئی 2026 کو کراچی ایئرپورٹ پر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
ترجمان ایف آئی اے نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’خاتون کراچی سے عمان کے لیے روانہ ہو رہی تھی اور اس کے پاس ریلیٹو جوائننگ ویزہ موجود تھا، امیگریشن حکام نے دستاویزات کی جانچ کے دوران بعض غیر معمولی نکات نوٹ کیے جس کے بعد مزید سوالات کیے گئے۔‘
حکام کے مطابق ابتدائی ’جانچ جسے امیگریشن کے نظام میں فرسٹ لیئر کہا جاتا ہے پر خاتون کے سفری کاغذات، پاسپورٹ، ویزہ اور دوسرے دستاویزات کی معمول کے مطابق جانچ کی گئی۔ اسی مرحلے میں افسران کو شادی سے متعلق دستاویزات مشکوک محسوس ہوئیں۔ چونکہ خاتون ریلیٹو جوائنںگ ویزہ پر سفر کر رہی تھی، اس لیے ان سے نکاح نامہ، شوہر کی شناخت کے بارے میں عملے نے عام سے سوالات کیے۔‘
ترجمان کے مطابق ’خاتون کے جوابات میں تضادات پائے گئے۔ اس نے ابتدا میں دعویٰ کیا کہ اس کی قانونی شادی محمد ریحان نامی شخص سے ہو چکی ہے اور اسی بنیاد پر عمان کا ویزہ حاصل کیا گیا۔ تاہم جب ان سے شادی کی تاریخ، مقام، گواہوں، اہل خانہ کی شرکت اور دیگر بنیادی معلومات پوچھی گئیں تو وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکی۔‘
اسی مرحلے پر معاملہ امیگریشن کے سیکنڈ لیئر نظام میں منتقل کیا گیا۔ ایف آئی اے کے اس نظام کے تحت ایسے مسافروں کو الگ کمرے میں لے جا کر تفصیلی انٹرویو، دستاویزات کی فرانزک نوعیت کی جانچ، ڈیجیٹل ریکارڈ کی تصدیق اور متعلقہ معلومات کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں انسانی سمگلنگ، جعلی ویزہ، فرضی ملازمتوں اور کاغذات میں ردوبدل جیسے معاملات بے نقاب ہوتے ہیں۔
سیکنڈ لیئر انٹرویو کے دوران خاتون نے بالآخر اعتراف کیا کہ اس کی محمد ریحان کے ساتھ قانونی شادی نہیں ہوئی۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عمان کا ریلیٹو جواننگ ویزہ حاصل کرنے کے لیے ایک ایجنٹ کی مدد سے جعلی میرج سرٹیفکیٹ تیار کروایا گیا تھا۔

حکام کے مطابق یہی جعلی دستاویز ویزہ کے حصول میں استعمال کی گئی۔
ایف آئی اے نے خاتون کے قبضے سے مشتبہ میرج سرٹیفکیٹ، عمان آئی ڈی اور دیگر متعلقہ کاغذات اپنی تحویل میں لے لیے۔ اس کے علاوہ خاتون کا موبائل فون بھی قبضے میں لے کر ڈیجیٹل شواہد محفوظ کیے گئے تاکہ ایجنٹ، سہولت کاروں اور ممکنہ بین الاقوامی نیٹ ورک کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔
ترجمان کے مطابق تمام ریکارڈ مزید تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں تفتیشی افسران معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ’اس کیس میں مزید کرداروں کے سامنے آنے کا امکان ہے اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔‘
ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ کارروائی اس امر کی واضح مثال ہے کہ امیگریشن کے فرسٹ اور سیکنڈ لیئر نظام کس طرح نہ صرف جعلی دستاویزات کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ انسانی سمگلنگ کے پیچیدہ نیٹ ورکس کو بھی بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ایوی ایشن امور کے ماہر سینئر صحافی راجہ کامران کہتے ہیں کہ ’امیگریشن کا فرسٹ لیئر نظام دراصل امیگریشن پروسس کا پہلہ مرحلہ ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر تعینات افسران ہر مسافر کے پاسپورٹ، ویزہ، سفری تاریخ، واچ لسٹ ریکارڈ اور معاون دستاویزات کا جائزہ لیتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’عام طور پر ایف آئی اے حکام چہرے کے تاثرات، جواب دینے کے انداز، سفری مقصد اور دستاویزات کے باہمی ربط کو بھی پرکھتے ہیں۔ معمولی سا تضاد بھی مزید جانچ کا باعث بن سکتا ہے۔‘
کراچی ائیرپورٹ پر تعینات ایک سینئر امیگریشن افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سیکنڈ لیئر سکریننگ زیادہ تفصیلی اور حساس مرحلہ ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں مسافر سے انٹرویو کیا جاتا ہے، موبائل فون اور ڈیجیٹل مواد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، سپانسر کے ریکارڈ کی تصدیق کی جاتی ہے اور غیر ملکی حکام سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ متعدد ایسے کیسز میں، جہاں بظاہر تمام دستاویزات درست دکھائی دیتی ہیں، یہی مرحلہ اصل حقیقت سامنے لاتا ہے۔‘
یاد رہے کہ انسانی سمگلرز اسی نظام کو دھوکہ دینے کے لیے نت نئے طریقے اختیار کرتے ہیں۔ بعض افراد کو فرضی ملازمت کے خطوط فراہم کیے جاتے ہیں، کہیں جعلی شادی سرٹیفکیٹس تیار کیے جاتے ہیں، اور بعض صورتوں میں جعلی تعلیمی اسناد یا دعوت نامے استعمال کیے جاتے ہیں۔ متاثرہ افراد کو خواب دکھایا جاتا ہے کہ بیرونِ ملک پہنچتے ہی اچھی نوکری، بہتر تنخواہ اور محفوظ مستقبل ملے گا، لیکن حقیقت اکثر اس کے برعکس ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی سمگلنگ صرف غیر قانونی سفر کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم بین الاقوامی جرم ہے۔ بہت سے افراد بیرون ملک پہنچنے کے بعد جبری مشقت، مالی استحصال، دستاویزات ضبط کیے جانے، محدود نقل و حرکت اور بعض اوقات جسمانی و ذہنی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔
خواتین کو خاص طور پر گھریلو ملازمت، ویزہ کفالت اور رشتہ داری کی آڑ میں دھوکہ دیا جاتا ہے۔
پاکستان سے بیرون ممالک جانے کے خواہش مند افراد بعض اوقات قانونی تقاضوں سے لاعلم ہوتے ہیں۔ یہی لاعلمی انہیں ایسے ایجنٹوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے جو جعلی دستاویزات تیار کرنے، فرضی رشتے بنانے اور غیر قانونی طریقے اپنانے کے لیے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔
بظاہر یہ راستہ آسان محسوس ہوتا ہے، مگر پکڑے جانے کی صورت میں مسافر قانونی کارروائی، سفری پابندی اور مالی نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔













