کراچی ایئرپورٹ پر مسافروں کی شکایات، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا انکوائری کا حکم
کراچی ایئرپورٹ پر مسافروں کی شکایات، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا انکوائری کا حکم
منگل 10 فروری 2026 11:36
زین علی -اردو نیوز، کراچی
اتھارٹی کے مطابق مسافروں کی سہولت کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کاری بہتر بنائی جا رہی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
کراچی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافروں کی جانب سے سامان کی ٹرالیوں کی عدم دستیابی کی شکایات پر پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی نے انکوائری کا آغاز کیا ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا ایئرپورٹ جو ملک کا مصروف ترین ہوائی اڈہ سمجھا جاتا ہے، انتظامی مسائل، مسافروں کی شکایات اور سہولیات کے فقدان کے باعث خبروں میں ہے۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے ایئرپورٹ انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ اس ویڈیو میں ایک شہری نے مسافروں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کیا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایئرپورٹ لاونج کے باہر سامان اٹھانے کے لیے ٹرالیاں دستیاب نہں، جبکہ اندر بڑی تعداد میں ٹرالیاں خالی کھڑی ہیں۔ شہری کا الزام ہے کہ بعض پورٹرز مسافروں سے ٹرالی فراہم کرنے کے بدلے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ مسئلہ ایسے وقت سامنے آیا جب کراچی ایئرپورٹ پر پروازوں اور مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں اندرون و بیرون ملک جانے والی پروازوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں یومیہ مسافروں کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک، یورپ اور برطانیہ جانے والی پروازوں میں اضافے کے بعد ایئرپورٹ پر رش معمول بن گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پروازوں میں اضافے کے ساتھ اگر سہولیات، عملے اور انتظامی نظام کو متناسب طور پر بہتر نہ کیا جائے تو اس کا براہ راست اثر مسافروں پر پڑتا ہے۔ کراچی ایئرپورٹ پر مسافر طویل قطاروں، سامان کی منتقلی میں تاخیر اور بنیادی سہولیات کی کمی کی شکایات کر رہے ہیں۔
مسافروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل بھی سخت کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے اب مسافروں کے پاسپورٹس، ویزوں اور دیگر سفری دستاویزات کی پہلے سے زیادہ باریک بینی سے جانچ کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس سختی کا مقصد غیرقانونی امیگریشن، جعلی دستاویزات اور انسانی سمگلنگ جیسے مسائل کی روک تھام ہے، تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امیگریشن کاؤنٹرز پر انتظار کا وقت بڑھ گیا ہے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق پروازوں اور مسافروں کی تعداد میں اضافے کے باعث دباؤ بڑھا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
متعدد مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں امیگریشن کلیئرنس کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف ذہنی دباؤ بڑھتا ہے بلکہ بعض اوقات پرواز کے چھوٹ جانے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک مسافر نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی اور دستاویزات کی جانچ ضروری ہے، لیکن اگر عملہ کم ہو اور رش زیادہ ہو تو اس کا خمیازہ سفر کرنے والوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں سامنے آنے والی آرا اور فیڈ بیک کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور مسافروں کی جانب سے کی گئی نشاندہی ادارے کے لیے اپنی خدمات بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ پی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل نے سامان کی ٹرالیوں کی عدم دستیابی سے متعلق شکایات پر انکوائری کا حکم دیا ہے، حالانکہ ایئرپورٹ پر ٹرالیوں کی مناسب تعداد موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈوں پر نگرانی اور حفاظتی اقدامات میں اضافے کے باعث بعض اوقات سیکورٹی اور امیگریشن سے وابستہ سرکاری اہلکاروں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عارضی طور پر رکاوٹیں یا تاخیر پیدا ہو سکتی ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق مسافروں کی سہولت کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری مزید بہتر بنائی جا رہی ہے اور اصلاحی اقدامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ڈائریکٹر جنرل نے سامان کی ٹرالیوں کی عدم دستیابی کی شکایات پر انکوائری کا حکم دیا ہے۔ فائل فوٹو: روئٹرز
ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پروازوں اور مسافروں کی تعداد میں اضافے کے باعث دباؤ ضرور بڑھا ہے، تاہم سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
تاہم مسافروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات ماضی میں بھی دیے جاتے رہے ہیں، مگر زمینی حقائق میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز اور شکایات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کراچی ایئرپورٹ پر مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔
ایوی ایشن امور کے ماہر اور سینیئر صحافی طارق ابوالحسن نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے ایئرپورٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق چلانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف وقتی اقدامات یا نوٹس لینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پروازوں کی تعداد، مسافروں کے رش، سکیورٹی خدشات اور سہولیات کے درمیان توازن قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔