تبوک میں قدرتی چٹانوں کے ذخائر، خشک علاقوں میں پانی کے ’اہم ذرائع‘
تبوک ریجن میں پانی کے ایسے قدرتی ذخائر موجود ہیں جو پرانے وقتوں میں خاص کر خشک موسم کے دوران انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوتے تھے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق مقامی زبان میں پانی کے ان ذخائر کو ’القلتات‘ کہا جاتا تھا۔ تبوک میں پتھروں کی یہ تہیں ایک قدرتی مظہر کے طور پر موجود ہیں۔
پتھریلے علاقوں میں بکھرے ہوئے ’القلتات‘ سائز اور گہرائی میں مختلف ہوتے ہیں جو علاقے کی جیولوجی پر منحصر ہے اور خشک اور نیم خشک ماحول میں پانی کے اہم ذرائع کے طور پر کام کرتے ہیں۔
پیالہ نما چٹانی گڑھے جو وقت کے ساتھ زمین کے کٹاؤ کے سبب سے پیدا ہوتے ہیں، ان میں برساتی پانی جمع ہو جاتا ہے۔
پرانے وقتوں میں ان چٹانی گڑھوں ’القلتات‘ کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ ان میں بارش کا پانی جمع ہو جاتا تھا جسے صحرا نشین اور مسافر استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ جانور اور نقل مکانی کرنے والے پرندے بھی اپنی پیاس بجھایا کرتے تھے۔
تبوک ریجن کے چٹانی علاقے میں جیولوجیکل تبدیلیوں سے بننے والے ان ’القلتات‘ میں پانی طویل عرصے سے محفوظ رہتا ہے۔

’القلتات‘ کی ماحولیاتی اور تاریخی اہمیت مسلم ہے، یہ گڑھے یا پیالہ نما آبی ذخائر ماضی میں انسانوں کے لیے بھی اہمیت کے حامل ہوا کرتے تھے۔
ان گڑھوں کی خاص بات یہ ہے کہ پتھروں کی وجہ سے جمع ہونے والا پانی جلد بخارات میں تبدیل نہیں ہوتا، اسی لیے یہ طویل عرصے تک قدرتی طور پر محفوظ رہتا ہے۔
