ترچ میر سر کرنے کا تنازع، سرباز خان اور عابد بیگ کی کامیابی کی تصدیق کیوں کی گئی؟
ترچ میر سر کرنے کا تنازع، سرباز خان اور عابد بیگ کی کامیابی کی تصدیق کیوں کی گئی؟
جمعرات 12 فروری 2026 6:01
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
کوہ پیما سرباز خان کے مطابق ترچ میر سر کرنے کی مہم ان کے لیے بے حد یادگار رہی۔ فائل فوٹو: اے پی پی
الپائن کلب آف پاکستان (اے پی سی) نے پاکستانی کوہ پیماؤں سرباز خان اور عابد بیگ کی جانب سے ترچ میر پہاڑی چوٹی کو سر کرنے کی تصدیق کر دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’عبدال جوشی کی قیادت میں جانے والی ایکسپڈیشن ٹیم چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔‘
الپائن کلب کے تین رکنی انکوائری بورڈ نے گزشتہ سال اگست میں پاکستان کی نویں بلند ترین چوٹی تک پہنچنے کے حوالے سے انکوائری مکمل کی، جس میں چوٹی کی تصاویر، جی پی ایس ڈیٹا، سرکاری ایکسپڈیشن رپورٹس اور ایکسپڈیشن لیڈرز کے بیانات کا بغور جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ سنایا گیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگست 2025 میں پہلی بار پاکستانی کوہ پیماؤں کی جانب سے سر کی جانے والی اس پہاڑی چوٹی پر جانے کی یہ مہم متنازع کیوں بنی؟
گزشتہ سال اگست میں دو پاکستانی کوہ پیماؤں کی دو ایکسپڈیشنز بظاہر کامیاب ہوئیں، جو ہندو کش ریجن میں واقع دنیا کی 33ویں اور پاکستان کی نویں بلند ترین چوٹی کو سر کرنے کے لیے نکلی تھیں۔
پہلا ایکسپڈیشن گروپ، جس کی قیادت عبدال جوشی نے کی، 19 جولائی کو چوٹی سر کرنے کے لیے روانہ ہوا اور یکم اگست کو انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ چوٹی سر کر چکے ہیں۔
بعدازاں 19 اگست کو پاکستانی کوہ پیماؤں کا دوسرا دو رکنی گروپ جس میں سرباز خان اور عابد بیگ شامل تھے، بھی اس بلند چوٹی کو سر کرنے میں کامیاب ہوا۔
تاہم اس ایکسپڈیشن کے چند روز بعد سوشل میڈیا اور کوہ پیمائی سے متعلق بعض ویب سائٹس پر ان دعوئوں کے حوالے سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے۔
اردو نیوز نے اس معاملے پر پاکستان کے معروف کوہ پیما اور ترچ میر سر کرنے والے پہلے پاکستانی سرباز خان سے گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ ’گزشتہ سال ترچ میر کو سر کرنے کی دو ایکسپڈیشنز تھیں۔پہلی عبدال جوشی کی قیادت میں، جو پاکستان کے تجربہ کار کوہ پیما ہیں، اور دوسری میری اپنی۔‘
سرباز خان کے مطابق یکم اگست کو عبدال جوشی کی جانب سے جب یہ خبر سوشل میڈیا پر سامنے آئی کہ انہوں نے یہ چوٹی سر کر لی ہے تو یہ ان کے لیے خوشی اور حوصلے کا باعث تھا۔ تاہم یہ جاننا ان کا کام نہیں تھا کہ آیا وہ حقیقی چوٹی تک پہنچے یا نہیں۔
بعدازاں انہوں نے اپنے ساتھی عابد بیگ کے ساتھ 19 اگست کو چوٹی سر کی۔ یہ ایکسپڈیشن خیبر پختونخوا کے محکمۂ سیاحت کے زیر اہتمام تھی۔
سرباز خان کا کہنا تھا کہ اس مہم کے چند دن بعد ایک ماؤنٹینئرنگ ایکسپلورر ویب سائٹ نے ہماری اور عبدال جوشی کی چوٹی سر کرنے کی تصاویر کے ساتھ ایک رپورٹ شائع کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عبدال جوشی نے پہاڑ کی چوٹی سر نہیں کی بلکہ یہ پہاڑ کی ایک نچلی چوٹی تھی۔
کوہ پیماؤں کے لیے جی پی ایس فعال ڈیوائس ساتھ لے جانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
الپائن کلب نے یہ انکوائری کیسے کی؟
اس معاملے پر اٹھنے والے سوالات کے پیش نظر الپائن کلب آف پاکستان نے ایک آزاد انکوائری کا آغاز کیا، جس کے لیے کرنل (ر) شیر خان، نائلہ کیانی اور طیب سید پر مشتمل تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی۔
الپائن کلب کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کلب یہ تصدیق کرتا ہے کہ سرباز خان اور عابد بیگ 2025 میں ترچ میر کی حقیقی چوٹی تک پہنچنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما ہیں اور سرباز خان کی قیادت میں ایکسپڈیشن ٹیم نے 19 اگست 2025 کو کامیاب چڑھائی کے مستند، مربوط اور آزاد طور پر تصدیق شدہ شواہد پیش کیے۔
دوسری جانب عبدال جوشی کی قیادت میں ایکسپڈیشن ٹیم یکم اگست 2025 کو ترچ میر کی حقیقی چوٹی تک نہیں پہنچ سکی۔ ٹیم ایک فرضی چوٹی تک پہنچی، جسے شدید موسم اور بلندی کی تصدیق کے آلات نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت حقیقی سمجھا گیا۔
انکوائری کمیٹی کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ پیش کیے گئے شواہد حقیقی چوٹی تک پہنچنے کا واضح ثبوت فراہم کرنے کے لیے ناکافی تھے۔ اس ٹیم نے تقریباً 7550 میٹر تک فکسڈ رُوپس بھی لگائی تھیں، جس سے بعد میں آنے والے کوہ پیماؤں کے لیے تکنیکی مشکلات میں کمی واقع ہوئی۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سینیئر وائس پریزیڈنٹ کرار حیدری کا اس بارے میں کہنا ہے کہ مستقبل میں اے پی سی کی منظور شدہ تمام ایکسپڈیشنز کے لیے چوٹی سر کرنے کی تصدیق کے باقاعدہ اور معیاری اصول متعارف کروائے جائیں گے۔
عبدال جوشی کی قیادت میں ٹیم 19 جولائی کو چوٹی سر کرنے کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ فائل فوٹو: شٹرسٹاک
انہوں نے کہا کہ ’ان اصولوں کے تحت چوٹی کی واضح تصاویر اور ویڈیوز پیش کرنا لازمی ہوگا، جن میں مقام کی پہچان کے قابل نمایاں خصوصیات موجود ہوں۔‘
علاوہ ازیں جی پی ایس سے فعال ٹریکنگ ڈیوائس کا استعمال بھی لازمی قرار دیا جائے گا جبکہ ایکسپڈیشن کے بعد معیاری دستاویزات اور شواہد جمع کرانا بھی ضروری ہوگا تاکہ چوٹی سر کرنے کے کسی بھی دعوے کی آزادانہ اور مستند تصدیق ممکن بنائی جا سکے۔
سرباز خان کے مطابق یہ مہم ان کے لیے بے حد یادگار رہی کیونکہ ترچ میر ہندوکش ریجن میں پاکستان کی بلند ترین چوٹی ہے، اور ہر کوہ پیما کے لیے ایسی کامیابی تاریخی اور ناقابلِ فراموش لمحہ ہوتی ہے۔