Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فوج تقسیم پر نہیں بلکہ زخموں کو مندمل کرنے پر یقین رکھتی ہے: سکیورٹی حکام کی بریفنگ

سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
’دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتوں کو یک زبان ہو کر جواب دینا ہو گا۔ اس معاملے پر ہمارے لیے سب برابر ہیں۔ اس کے لیے جو بھی ہمارے ساتھ بیٹھے گا ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔‘ یہ وہ جملے ہیں جو لاہور میں بدھ کو ایک اعلٰی سطح کے فورم پر پاکستان کے سکیورٹی حکام نے اِن کیمرہ بریفنگ کے دوران کہے۔
اس بریفنگ میں سینیئر صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ پاکستان کے سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ ’سیاسی جماعتیں اپنے بیانیے رکھنے کا حق رکھتی ہیں اور جس طرح کی مرضی سیاست کریں یہ ان کا حق ہے۔ اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ فوج کو اپنے سیاسی بیانیے کا حصہ نہ بنایا جائے۔ جو لوگ بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن پر سوال اٹھاتے ہیں ان کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ان افراد کے ذاتی مقاصد ہیں۔ ایسے افراد کو کسی ایک سیاسی جماعت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔‘
خیال رہے کہ ان دنوں پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر کچھ تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ایک طرف سپریم کورٹ کے حکم پر بانی تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ ’فرینڈ آف کورٹ‘ کے بینر تلے ان کے وکیل سلمان صفدر کی ایک طویل ملاقات اڈیالہ جیل میں ہوئی جس کی مفصل رپورٹ کورٹ میں جمع کروائی گئی تو دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی سہیل آفریدی اپنی کابینہ کے ہمراہ پشاور کے ہمراہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے جس میں فوجی حکام بھی شریک تھے۔
اسی طرح چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے ایسے بیانات بھی آئے ہیں جس سے یہ تاثر بھی ملا کہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لاہور میں دی گئی اس بریفنگ میں سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے سب سے اہم بات ملک اور صوبوں میں گڈ گورننس کا ہوا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنی گورننس کو سیاست کا محور بنائیں تو پوری قوم یکجا ہو کر دہشت گردی کی اس لہر سے سے نبرد آزما ہو گی اور یہ جنگ ہر صورت میں پاکستان ہی جیتے گا کیونکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن سرے سے ہے ہی نہیں۔ فوج نہ تو کسی ایک سیاسی جماعت کی ہے اور نہ کسی ایک نسل کی۔ یہ پاکستان کی فوج ہے۔ انڈیا کے خلاف جنگ میں جس طرح قوم تمام سیاسی اختلافات بھلا کر متحد ہوئی وہ قابل تحسین ہے ایسا ہی اتحاد دہشت گردی کے خلاف درکار ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’فوج زخموں کو مندمل کرنے (ہیلنگ) پر یقین رکھتی ہے نہ کہ لوگوں کو تقسیم کرنے پر۔‘

سکیورٹی حکام کی بریفنگ میں کہا گیا کہ گورننس سیاسی مسئلہ ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

سکیورٹی حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے جس کے ثبوت موجود ہیں، انڈین حکام خود بھی برملا یہ باتیں کر چکے ہیں کہ وہ بلوچستان میں تخریب کاری کو حربے کے طور پر استعمال کریں گے تاہم اس کا جواب داخلی طور پر متحد ہو کر دیا جا سکتا ہے۔ ’نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا ضروری ہے۔ اس پلان کے چودہ نکات ہیں جن پر ساری سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے۔ یہ پلان 2014 میں بنا اور 2018 میں آنے والی حکومت نے اس کی توثیق کی۔ اس کے پہلے نقطے پر سکیورٹی اداروں نے عمل کرنا ہے اور اس کی مثال ایک سال میں 75 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ہیں جبکہ باقی 13 نکات پر عمل درآمد سیاسی ذمہ داری ہے۔ جس میں سب سے بڑی ذمہ داری دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہونا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ’وفاقی حکومت ریاست کی نمائندہ ہے اور وہ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے اس لیے جہاں وفاقی حکومت سمجھتی ہے وہاں فوج اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم سیاسی معاملات سیاستدانوں نے حل کرنے ہیں اس سے فوج اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ گورننس ایک سیاسی مسئلہ ہے ہم بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ اس پر توجہ دیں۔‘

 

شیئر: