وزیر اعلیٰ شہدا کے جنازوں میں شریک ہو کر عسکری قیادت کے ہمراہ شہید کے جسد خاکی کو کندھا دیتے ہیں
کیا یہ سب محض ایک حسین اتفاق ہے؟ کسی سنجیدہ گیم پلان کا حصہ ہے؟ معاملہ فہمی کا آغاز ہے یا سب نظر کا دھوکہ ہے؟ جو ہے جیسے ہے کی بنیا د پر یونہی سلسلہ چلتا رہے گا یا گنجائش پیدا ہو رہی ہے؟
بسنت کے بعد سیاسی ہواؤں کا رخ بدلا ہے یا کسی سنگلاخ اور بلند پہاڑ پر جمی تہہ در تہہ برف موسمیاتی تبدیلی کے کارن قدرے پگھل رہی ہے؟ فریقین اپنی اپنی پوزیشن سے وسیع تر ملکی مفاد میں ایک دو قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں؟ ہدایت کاری کے گل کون کھلا رہا ہے؟ معاونین اور ہمنوا کیا بساط بچھا رہے ہیں؟ کسی شاعر نے فرمایا تھا کہ؛
اک سرا اُلجھی ہوئی ڈور کا ہاتھ آیا ہے
دوسرے تک بھی پہنچ جاوں گا سلجھاتے ہوئے
خبر بسا اوقات واقعات کی ترتیب میں چھپ کر اور کبھی کبھار کھلے عام ایک پتلے کی مانند ناچ رہی ہوتی ہے۔ معلومات اور نظر قدرے مشتاق ہو تو خبر کا یہ روپ مکمل قد کاٹھ اور رنگ و بو کے ساتھ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ان دنوں بھی ہو رہا ہے۔ واقعاتی ترتیب دیکھیے اور پھر نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈرز کی تقرری تھی کہ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو رہا تھا۔ پھر اچانک پروانے جاری ہوئے اور اچکزئی سمیت علامہ صاحب قائد حزب اختلاف مقرر ہوئے۔ یہاں لاہور میں چند ہفتے پہلے برپا ایک نشست کے دوران جب استاد سہیل وڑائچ اور خاکسار نے اچکزئی صاحب سے ان کے سیاسی روابط بالخصوص بڑے میاں کےساتھ براہ راست یا بالواسطہ تعلقات کار کی بابت استفسار کیا تو ان کا فرمان تھا کہ اگر ایسا کوئی ربط ہے بھی تو بھلا اس وقت آ پ سب کو کیوں بتلاؤں؟ یاد رہے کہ اس بیچ اڈیالہ کے مکین کی ملاقاتیں بند ہو چکی تھیں۔
نئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا تلخ لب و لہجے کے ساتھ کرسی پر براجمان ہوتے ہیں، بدلے میں مقتدرہ کی زبان و بیان میں بھی شدید برہمی دیکھی جاتی ہے۔ پھر اچانک وزیر اعلیٰ کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوتی ہے۔ اگلے روز مشیر خزانہ کی وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات ہوتی ہے، اس سے اگلے روز سپیکر کے پی کی سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ اس بیچ وزیر اعلیٰ کے ہاں کور کمانڈر کی موجودگی میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس برپا ہوتا ہے۔
توقعات کے مطابق آٹھ فروری کا احتجاج تقریباً اوسط درجے کا ثابت ہوا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ شہدا کے جنازوں میں شریک ہو کر عسکری قیادت کے ہمراہ شہید کے جسد خاکی کو کندھا دیتے ہیں۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ وزیر اعلیٰ کے پریس سیکریٹری جاری کرتے ہیں جس میں بظاہر عسکری اور سیاسی قیادت کے بیچ صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنٹے کے لیے اتفاق رائے کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ ایک اور ایپکس کمیٹی کا اجلاس پھر کور ہیڈ کواٹر پشاور میں ہوتا ہے، یہاں وزیر اعلی اور کور کمانڈر کے علاوہ مشیر قومی سلامتی بھی موجود ہوتے ہیں جو ساتھ ساتھ خفیہ ادارے کے سربراہ بھی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ وزیر اعلی اور مشیر قومی سلامتی کے بیچ کسی بھی فارم پر پہلی باضابطہ نشست تھی۔ اس نشست کی پریس ریلیز بھی وزیر اعلی آفس سے جاری ہوتی ہے، اس اعلامیہ میں اب تک زیر بحث تمام تصفیہ طلب مدعوں پر مکمل اتفاق رائے کا اظہار دیکھنے کو ملتا ہے۔ وزیر اعظم سے ملاقات اور پھر ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں کے بیچ کےپی سرکار کے ہاں لب و لہجہ قدرے شانت سا محسوس ہوا۔
آٹھ فروری کا احتجاج اس ترتیب میں اس لیے اہم ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے ایک اہم ترین ذمہ دار نے تحریک انصاف کے جذباتی ارکان کو کئی بار فون کیا، ہدایت دی کہ آٹھ فروری کو جلاؤ گھیراؤ یا کام خراب نہ کرنا وگرنہ جو کام بن رہا ہے وہ خراب ہو سکتا ہے۔ عین ان کے توقعات کے مطابق آٹھ فروری کا احتجاج تقریباً اوسط درجے کا ثابت ہوا۔
یاد رہے کہ اس سب کے بیچ کپتان کی آنکھ کو لاحق مرض اور ان کے علاج کے لیے انہیں اچانک ایک شب پمز ہسپتال کے جانے کی خبر منظر عام پر آتی ہے۔ پارٹی ، اہل خانہ اور دیگر تشویش کا اظہار کرتے ہیں مگر پھر بھی کسی کو ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ اور یہاں طویل دورانیے کے اس کھیل کا اگلا حصہ شروع ہوتا ہے۔ عدالت اچانک تیرہ کیس سماعت کے لیے مقرر کرتی ہے جس میں اہم ترین کیس توشہ خانہ ون ہے۔
اس کیس میں خان کی استدعا ہے کہ یہ ٹرائل جلد بازی میں ہوا۔ وکیل لطیف کھوسہ ہیں۔ چند روز پہلے سماعت کے دوران عدالت سلمان صفدر کو عدالتی فرینڈ مقرر کرتی ہے اور حکم صادر فرماتی ہے کہ وہ بطور عدالتی معاون جیل جا کر کپتان کی لیونگ کنڈینشنز کا جائزہ لیں اور رپورٹ مرتب کریں۔ اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ایسی ہی ملاقات کے لیے اس کیس میں نامزد وکیل لطیف کھوسہ بھی استدعا کرتے ہیں مگر ان کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ سلمان صفدر تین ساڑھے تین گھنٹے طویل ملاقات کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ واپس آتے ہیں، علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ و دیگر کو گاڑی میں بریف کرتے ہیں۔ مگر یہ تمام میڈیا پر اس طویل ملاقات بارے ایک جملہ بھی ادا نہیں کرتے۔ علیمہ بی بی اس روز منگل کو حسب روایت اڈیالہ کے باہر علامتی دھرنا بھی منسوخ کر دیتی ہیں۔
سات صفحات اور بائیس پیرا گراف پر مبنی رپورٹ عدالت جمع ہوچکی۔ بیرسٹر گوہر اب استدعا کر رہے ہیں کہ عدالت ایک جامع حکمنامہ جاری کرے۔ سلمان صفدر کہہ چکے کہ انہوں نے کہیں نہیں کہا کہ خان کی صحت ٹھیک ہے۔ گزشتہ شب حکومتی ذمہ دار عقیل ملک سے آن ریکارڈ یہی سوال جب پوچھا گیا تو انہوں نے اس خاکسار کو جواب دیا کہ عدالت میڈیکل ایکسپرٹس سے مشاورت کے بعد علاج معالجے کے لیے حکم جاری کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں بانی پی ٹی آئی خود بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ ہوائیں بتلاتی ہیں کہ علاج کی غرض سے کسی ہسپتال یا دوسرے کسی مقام منتقلی کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پھر بدھ ہی کے روز اہم عسکری حکام کے ساتھ لاہور میں صحافیوں کی طویل نشست برپا ہوئی ۔ اس نشست میں عسکری حکام کا ماننا تھا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں اور شخصیات کا احترام کرتے ہیں۔ کوئی شخص پاکستان سے بڑھ کر نہیں۔ ہمارا مسئلہ تب ہوتا ہے جب کو ئی پاکستان سے بالا ہو نے کا تا ثر دے یا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتفاق کی بجائے نفاق کا مظاہرہ کرے۔ پشاور میں ہوئی ایپکس کمیٹی اجلاسوں کو بھی خوش آئند قرار دیا گیا ۔ کہا گیا کہ بطور ادارہ ہم نے زخموں پر مرہم رکھنی ہے نا کہ تقسیم کرنا ہے۔ مبینہ بات چیت اور معاملہ فہمی پر واضح طور پر کہا گیا کہ بات چیت سیاسی جماعتوں کا کام ہے اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ چالیس سے زائد صحافیوں کے اس نشست میں وہ صحافی بھی شامل تھے جو نظام اور سرکار کے سخت ناقد رہے ہیں۔ اور یہ تمام اس سے پہلے برپا ہوئی ایسی ہی ایک نشست میں چند ہفتے پہلے بھی شریک ہو چکے تھے۔
ملاقات جاری تھی کہ ساتھ بیٹھے سینئر صحافی منصور علی خان گویا ہوئے، سرگوشی کرتے ہوئے انہوں نے مجھے اپنے نوٹس پر درج ایک جملہ پڑھایا، جملہ ان کی جانب سے تیار کردہ ہیڈ لائین تھی یعنی ملاقات کا حاصل تھا۔ ہم مڑے، اپنے نوٹس اٹھائے، انہیں دکھائے، حسین اتفاق تھا کہ ان کی تیارہ کردہ سرخی اور خاکسار کا جملہ تقریباً ایک ہی مفہوم رکھتا تھا۔ یعنی
’ہم تمام سیاسی جماعتوں اور شخصیات کا احترام کرتے ہیں‘
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس قدر طویل رام کہانی کا مقصد کیا ہے؟ کیا کوئی ڈیل ہو رہی ہے؟ کیا خان باہر آرہے ہیں؟ کیا نظام تلپٹ ہو گا؟ تو جواب ہے نہیں۔ ابھی نہیں۔ ہرگز نہیں۔ ضامن کی تلاش تھی، ضمانت دینے والا تھا ہی نہیں۔ ضامن وقت بنا۔ وقت ثابت کرے گا کہ روئے کیا ہوتے ہیں۔ وقت کی ضمانت اور اس بیچ روا رکھے رویئے آگے بڑھنے کی گارنٹی ہوں گے۔ علاج معالجے میں سہولیات اور تعاون دوسری جانب سے اعتماد سازی کے لیے اہم قدم ثابت ہوگا۔ سوشل میڈیا پر جاری تلخی رکی رکی سی ہے، بیانات تند و تیز ہونے کی بجائے شانتم پریتم کا سُر الاپ رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور اقتصادی استحکام اہم ترین چیلنجز بن چکے، ان سے نمٹنے کیلئے سیاسی استحکام از حد لازم ٹھہرتا ہے۔ اس استحکام کے لئے اعتماد سازی کا آغاز ہوا ہے۔ دعا ہے کہ نتائج بھلے ہوں، تلخیاں کم ہوں ۔ انقلاب کی کہانی پھر سہی!