Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جدہ اور طائف کے لیے ورلڈ ریجن آف گیسٹرونومی 2027 کا اعزاز

گیسٹرونومی، کلچر، آرٹس اور سیاحت کا عالمی انسٹی ٹیوٹ اس کا فیصلہ کرتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
جدہ اور طائف کو سنہ 2027 کے لیے ’طعام اور مشروبات کے ماہرانہ فن (گیسٹرونومی) کے عالمی ریجن‘ کا ٹائٹل دیا گیا ہے۔
یہ ٹائٹل کسے ملے گا اس کا فیصلہ اور اسے پرکھنے کا معیار گیسٹرونومی، کلچر، آرٹس اور سیاحت کا عالمی انسٹی ٹیوٹ کرتا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں ’طباخی کی میراث، مقامی سطح پر حیاتیاتی تنوع اور خوراک کے شعبے میں نوجوانوں اور اونٹرپرنیئرز کو بااختیار بنانے اور ماحولیات کی پائیداری‘ کو اجاگر کیا گیا ہے۔
میادہ بدر، جو سعودی عرب کے طباخی آرٹس کمیشن کی سی ای او ہیں کہتی ہیں ’یہ ایوراڈ عسیر ریجن کی طرف سے اُس شاندار ابتدا کا ایک تسلسل ہے جو سنہ 2024 میں عسیر کو دیا گیا تھا۔
اب جدہ اور طائف کو یہ معتبر ایوارڈ ملنا اس لیے اعزاز کی بات ہے کیونکہ اس کو پرکھنے کے لیے بین الاقوامی جیوری کے ماہرین نے تفصیلی فیلڈ وزٹ کیے اور اہم مقامی شراکت داروں سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس ریجن میں پائیدار ترقی کی مجموعی کوششوں کا جائزہ لے سکیں اور جان سکیں کہ یہاں کے معیارات، گیسٹرونومی، ثقافت، کلچر، سیاحت، معاشی اور سماجی ترقی سے کس طرح جڑے ہوئے ہیں۔

کمیشن نے اس سنگِ میل کو عبور کرنے کے لیے کئی ماہرین اور اداروں کو یکجا کیا جس کے سٹریٹیجک شراکت کاروں میں کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، دارالحکمہ یونیورسٹی، جدہ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، البلد ڈیویلپمنٹ کمپنی، اذکا فوڈز، کوئین ٹیسٹ، دا ٹوئر گائڈز کوآپریٹیو اور عبداللہ الثقفی کلچرل سینٹرشامل ہیں۔
میادہ بدر کا کہنا تھا ’ان کوششوں کے یکجا ہونے سے تعلیم، جدت اور مہارت بڑھانے میں مدد ملی، ہماری ثقافتی شناخت کو تقویت حاصل ہوئی اور طعام و مشروبات کے ماہرانہ ذوق کو سیاحت سے جوڑ دیا گیا۔
کسی کی شرکت کے بغیر جدہ اور طائف یہ ایوارڈ ملنے کے بعد، گیسٹرونومی کے ورلڈ ریجن کے عالمی نیٹ ورک میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس سے خوارک کی تحقیق اور اس میں بہتری، ثقافتی تبادلے اور ذمہ دارانہ سیاحت کو عالمی سطح پر تعاون کے نئے مواقع ملیں گے۔

یہ ایوارڈ طویل المدتی منصوبے بنانے میں تیزی لائے گا جہاں تخلیقی معیشت میں کھانے پکانے کے فن کو مرکزیت حاصل ہے۔ ان منصوبوں سے آمدن کے لیے مواقع بڑھ جاتے ہیں اور اس سلسلے میں عالمی  مکالمے کو فروغ دیتے ہیں۔
میادہ بدر نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ جدہ اور طائف کو ملنے والا اعزاز اعلٰی سطح پر عالمی پہچان کے مترادف ہے جس میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ سعودی عرب، پکوانوں کی شاندار اور درخشاں روایت اور پائیدار ترقی کو بروئے کار لانے کی کوششیں کامیابی سے کر رہا ہے۔‘
اس ایوارڈ کے ملنے کے بعد جدہ اور طائف دنیا میں اپنے ہم منصب شہروں سے تعاون کریں گے تاکہ خوراک کے پائیدار طریقوں کو فروغ ملے، مقامی سطح پر تعاون کیا جا سکے، کھانے پینے کی اشیا پر  تحقیق ہو سکے اور طعام و مشروبات کے ماہرانہ فن کو ثقافتی تبادلے کے مؤثر ذریعے کے طور پر اختیار کیا جا سکے۔

 

شیئر: