Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی: پانچ ہزار روپے کے لین دین کا تنازع کیسے دو بھائیوں کی جان لے گیا؟

کراچی میں محض پانچ ہزار روپے کے لین دین کا ایک معمولی سا تنازع دو نوجوانوں کی جان لے گیا۔ یہ واقعہ ضلع کیماڑی کے علاقے جیکسن کی شیریں جناح کالونی میں پیش آیا۔
تفصیلات کے مطابق ایک جرگے کے دوران تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی اور فائرنگ کے نتیجے میں دو سگے بھائی موقعے پر ہی دم توڑ گئے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ آمنہ مسجد، سکندر آباد کے قریب پیش آیا۔ کیماڑی پولیس کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ مقتولین اور ملزمان کے درمیان پانچ ہزار روپے کے لین دین پر اختلافات چل رہے تھے۔
’مقامی روایت کے مطابق جرگے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم بات چیت کے دوران صورتِ حال اس قدر کشیدہ ہو گئی کہ معاملہ فائرنگ تک جا پہنچا۔
کیماڑی اور جیکسن کا علاقہ
کیماڑی ضلع کراچی کے قدیم اور حساس علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ جیکسن، شیریں جناح کالونی اور سکندر آباد جیسے علاقے یہاں واقع ہیں، جہاں بڑی تعداد میں پختون آبادی رہائش پذیر ہے۔ 
مقامی افراد کے مطابق ان علاقوں میں آج بھی لین دین، خاندانی تنازعات اور دیگر سماجی معاملات نمٹانے کے لیے جرگے کا رواج موجود ہے۔
مقتولین کی شناخت
پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دونوں نوجوان سگے بھائی تھے۔ ان کی شناخت 20 سال کے کامران ممتاز خان اور 24 برس کے سرتاج ممتاز خان کے نام سے ہوئی ہے۔ 
واقعے کے فوری بعد دونوں کی لاشیں قانونی کارروائی کے لیے جناح ہسپتال منتقل کر دی گئیں، جہاں پوسٹ مارٹم اور دیگر ضابطے مکمل کیے گئے۔
مقتولین کے والد کا بیان
جناح ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتولین کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹوں کا ان کی سگی بہن کے بیٹے جعفر سے پانچ ہزار روپے کے لین دین پر جھگڑا ہوا تھا۔
’یہ کوئی بڑی رقم نہیں تھی اور معاملہ صلح کے ذریعے ختم بھی کر دیا گیا تھا۔انہوں نے خود کہا تھا کہ پانچ ہزار روپے وہ ادا کر دیں گے، لیکن اس کے باوجود میرے بھانجوں نے ناراضی ختم نہیں کی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہمارا آپس میں قطع تعلق ہو گیا تھا، مگر ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ رنجش اتنی خطرناک صورت اختیار کر لے گی۔‘ 
مقتولین کے والد نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے امید ہے پولیس قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی اور ہمیں انصاف ملے گا۔‘
پولیس کا موقف
ایس ایچ او تھانہ جیکسن مٹھل شر کے مطابق پولیس نے واقعے کے فوری بعد کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
 ان کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی ملزمان کی نشان دہی پر برآمد کر لیا گیا ہے۔
ایس ایچ او کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ واقعہ مکمل طور پر ذاتی نوعیت کا تھا اور اس کا پس منظر پانچ ہزار روپے کے لین دین کا تنازع ہے۔ مقتولین اور ملزمان آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں، جس کے باعث معاملہ زیادہ حساس ہو گیا۔
کیماڑی پولیس کے ترجمان کی تفصیلات
کیماڑی پولیس کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ جرگے کا انعقاد کس نے کیا اور وہاں سکیورٹی یا ثالثی کے کیا انتظامات تھے۔
’ہم اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا جرگے کے دوران کسی قسم کی اشتعال انگیزی کی گئی یا نہیں۔ واقعے میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا تعین بھی کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پولیس علاقے میں گشت بڑھا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل یا کشیدگی سے بچا جا سکے۔
جرگے اور قانون کا سوال
یہ واقعہ ایک بار پھر کراچی جیسے بڑے شہر میں جرگوں کے کردار اور ان کے نتائج پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق جرگے کا کوئی آئینی یا قانونی جواز نہیں، اور ایسے غیر رسمی فیصلے اکثر سنگین نتائج کا باعث بنتے ہیں۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت قانونی راستہ اختیار کیا جاتا اور معاملہ تھانے یا عدالت میں لے جایا جاتا تو شاید دو نوجوانوں کی جان بچ سکتی تھی۔

شیئر: