بنگلہ دیش میں ہونے والے عام انتخابات صرف ڈھاکہ یا چٹاگانگ تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی گونج پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی تنگ و پرہجوم گلیوں، خاص طور پر اورنگی ٹاؤن، بنارس، موسیٰ کالونی، مچھر کالونی، کورنگی اور اطراف کے علاقوں تک سنائی دی۔ پاکستان میں مقیم بنگالی اور بہاری برادری ان انتخابات کو محض ایک جمہوری عمل نہیں بلکہ ایک نئی سیاسی آزادی اور خودمختار فیصلوں کی علامت قرار دے رہی ہے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کراچی میں رہنے والے کئی بنگالی خاندانوں کا کہنا تھا کہ آج بنگلہ دیش میں آزادی کا دن ہے، آج بنگلہ دیش کو انڈیا کے سیاسی اور بالواسطہ اثر سے نجات مل رہی ہے۔
مزید پڑھیں
-
’جین زی کے انقلاب‘ کے بعد بنگلہ دیش میں پہلا الیکشن، ووٹنگ جاریNode ID: 900571
ان کے مطابق یہ انتخابات بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں جہاں عوام خصوصاً نوجوان نسل، پہلی مرتبہ کھل کر اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کے لیے میدان میں نظر آ رہی ہے۔
’یہ صرف الیکشن نہیں، ایک نظریاتی جنگ ہے‘
اورنگی ٹاؤن کے سیکٹر ساڑھے گیارہ میں مقیم 62 سالہ محمد صلاح الدین پیشے کے اعتبار سے کاریگر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنہ 1971 کے بعد بنگلہ دیش کی سیاست میں کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔
محمد صلاح الدین کے مطابق ’ہم نے بنگلہ دیش کو فوجی حکومتوں، خاندانی سیاست اور بیرونی دباؤ میں جکڑا ہوا دیکھا مگر آج کے انتخابات مختلف ہیں۔ یہ صرف حکومت بدلنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ بنگلہ دیش کو کس سمت جانا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رہنے والے بنگالی آج بھی اپنے وطن سے جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں اور سوشل میڈیا، یوٹیوب اور واٹس ایپ کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

نوجوان نسل کا فیصلہ کن کردار
اس انتخابی عمل میں نوجوانوں کے کردار کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن، اتحاد کالونی میں رہائش پذیر 23 سالہ طالب علم محمد معصب کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش کے نوجوان روایتی سیاسی خاندانوں سے ہٹ کر سوچ رہے ہیں۔
ان کے مطابق ’نئی نسل سوال پوچھ رہی ہے، روزگار، تعلیم، مہنگائی اور کرپشن پر بات کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے کے لیے پرجوش نظر آ رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رہنے والے نوجوان بھی اس انتخابی عمل کو اپنی شناخت اور مستقبل سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
بہاری برادری کی امیدیں اور خدشات
کراچی میں مقیم بہاری کمیونٹی، جو تاریخی طور پر بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مشکلات کا شکار رہی، ان انتخابات کو محتاط امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔
اورنگی ٹاؤن 12 نمبر میں رہنے والے 57 سالہ محمد امین اللہ کا کہنا ہے کہ بہاری برادری نے دہائیوں تک بنگلہ دیش میں شناخت کے بحران کا سامنا کیا۔
امین اللہ کے مطابق ’ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی حکومت آئے، وہ بنگلہ دیش کو ایک ایسی ریاست بنائے جہاں کسی کو زبان، نسل یا ماضی کی بنیاد پر الگ نہ سمجھا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نئی قیادت سے توقع ہے کہ وہ بہاریوں سمیت تمام اقلیتوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے گی۔‘
انڈیا سے آزادی کا نعرہ کیوں؟
کراچی میں مقیم بنگالیوں کی گفتگو میں ایک جملہ بار بار سننے کو ملا ’انڈیا سے آزادی‘ ۔ اس بارے میں محمد ہاشم کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش میں ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ماضی میں انڈیا کا اثر و رسوخ سیاسی، معاشی اور سفارتی سطح پر حد سے بڑھ چکا تھا۔‘
اورنگی ٹاؤن میں ایک چائے خانے پر بیٹھے بنگالی بزرگوں کے مطابق ہم انڈیا دشمن نہیں مگر ہم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش اپنے فیصلے خود کرے، کسی بڑے ملک کے سائے میں نہیں رہے۔

کراچی میں انتخابی دن کا منظر
اگرچہ ووٹنگ بنگلہ دیش میں ہو رہی تھی مگر کراچی میں بنگالی محلوں میں انتخابی دن یہاں کے رہنے والی کی خاموشی کے ساتھ پرامید دکھائی دے رہا تھا۔
کئی بنگالی جو پاکستان میں رہائش پذیر ہیں، وہ اپنا ووٹ کاسٹ کرنے بنگلہ دیش بھی گئے ہیں جبکہ کچھ گھروں میں بنگلہ دیشی انتخابات کی معلومات حاصل کی جا رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر نتائج پر بحث ہو رہی تھی اور نوجوان گروپس میں سیاسی گفتگو عروج پر تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سنہ 1971 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد بنگلہ دیش نے جمہوریت، آمریت، سیاسی قتل و غارت اور معاشی تجربات کے کئی ادوار دیکھے۔ موجودہ انتخابات کو اس طویل سفر کا ایک نیا پڑاؤ قرار دیا جا رہا ہے۔
کراچی یونیورسٹی میں لیکچرار زاہد حسین نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ الیکشن بنگلہ دیش کی اس جدوجہد کا تسلسل ہے جس میں عوام یہ طے کرنا چاہتے ہیں کہ ریاستی طاقت کا سرچشمہ واقعی عوام ہوں۔‘












