Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تاریخی صحرائی مناظر سے فلم سیٹ تک: العلا کا علاقائی فلم مرکز بننے کا عزم

العلا، مینا ریجن میں اپنے آپ کو سنیما کے مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے جہاں ڈارمے سے بھرپور صحرائی منظرنامے، ورثے کی مختلف سائٹس اور نئے تعمیر ہونے والے سٹوڈیوز میں ملازمتیں، سیاحت اور طویل المدتی معاشی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ایک تفصیلی انٹرویو میں ’فلم العلا‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر زید شاکر اور العلا رائل کمیشن کے چیف ٹورزم افسر فلپ جے جونز نے بتایا کہ کمیشن کا منصوبہ ہے کہ مقامی ٹیلنٹ کو تربیت دی جائے، طرح طرح کی فلمیں بنیں اور یہ  فلمیں سال بھر سیاحت میں اضافے کا باعث بنیں۔
زید شاکر نے اس موقع پر کہا کہ ’ہم ایسی چیز بنا رہے ہیں جس کی ایک حیثیت ثقافتی جبکہ دوسری معاشی ہے۔ ’فلم العلا‘ صرف فلمیں بنانے کے لیے میزبانی نہیں کرے گا بلکہ یہ ایک ایسے ایکوسسٹم کو تخلیق کرے گا جہاں مقامی افراد ملازمتیں حاصل کر کے مستقل کیریئر بنا سکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے ان سہولتوں اور تربیت کے لیے بہت سرمایہ کاری کی ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ العلا ایسی جگہ ہو جہاں فلمسازوں کو ہر وہ سہولت دستیاب ہو جس کی انھیں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہاں تکنیکی مہارت بھی ہو، پروڈکشن کا ڈھانچہ بھی ملے اور ایسا منظر نامہ بھی جس کی ورائٹی کی کوئی حد نہ ہو۔ جب کوئی ڈائریکٹر کسی لوکیشن کو دیکھ کر کہتا ہے کہ میں 20 منٹ میں مختلف انداز کے پانچ شاٹس شوٹ کر سکتا ہوں تو لوکیشن کے انتخاب کا تمام حساب و شمار فوراً بدل جاتا ہے۔
اس حکمتِ عملی میں جدید ترین سٹوڈیوز میں ایم بی ایس گروپ کے ساتھ شراکت میں کام کیا جائے گا۔ یہ وہی گروپ ہے جو مین ہٹن بِیچ سٹوڈیوز پر مشتمل ہے جہاں جیمز کیمرون جیسے مشہور و معروف ڈائریکٹر کی فلم ’ایواٹار‘ کا سیکوئل بنا تھا۔

العلا میں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی ہے (فوٹو: عرب نیوز)

فلپ جونز کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایسا انفراسٹرکچر بنا دیا ہے جو پورے ریجن بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کسی دوسرے انفراسٹرکچر سے کم نہیں۔ جب اس سطح کے سٹوڈیوز ہوں اور العلا کا قدرتی منظرنامہ ہو تو آپ خود سوچ لیجیے کہ فلمسازوں کے لیے یہ منصوبہ کتنا زیادہ پُرکشش بن جاتا ہے۔ یہ ہمہ گیریت ہی اس مقام کی اصل قدر وقیمت کا تعین کرتی ہے۔
زید شاکر کے  مطابق ’فلم العلا‘ نے اس سال کے آغاز سے ہی تربیت کے لیے 180 نوجوان سعودی شہریوں کو مصروفِ عمل کیا جن میں سے 50 مختلف پروڈکشنز کا حصہ ہوں گے۔ ہم نیچے سے اوپر کی طرف ایک ڈھانچہ بنا رہے ہیں۔
زید شاکر کے مطابق ’ہماری تربیت کے پروگرام میں خواتین کی شرکت 55 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ یہ سماجی طور پر بہت بڑی تبدیلی ہے جس سے نہ صرف نوجوان سعودی خواتین کو ایک ایسی صنعت میں مواقع مل رہے ہیں جہاں تاریخی اعتبار سے مردوں کا غلبہ رہا ہے بلکہ اس سے ہماری صعنت کا کلچر بھی نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔ یہاں خواتین  آتی ہیں، سیکھتی ہیں اور سیٹ پر کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔
سنہ 2026 میں فلم العلا کے اہداف بڑے ہیں جن میں پانچ سے چھ فیچر فلمیں تیار کرنا اور فلموں کی پروڈکشن کے ٹارگٹ کو 100 سے اوپر لے کر جانا ہے۔

سیاحوں کے لیے العلا میں مختلف سرگرمیاں جاری ہیں (فوٹو: ایس پی اے)

فلپ جونز کا کہنا تھا کہ ’ہم نجی شعبے کے شراکت داروں سے کہیں گے کہ وہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں تاکہ ایک سے زیادہ فلمیں بیک وقت تیار ہو سکیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے آپ ریجن میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
جوں جوں ’چیزنگ ریڈ‘ فلم پروڈکشن کی طرف جا رہتی ہے، زید شاکر اور فلپ جونز دونوں کو یقین ہے کہ العلا فلم پروڈکشن کی ابھرتی ہوئی ایک منزل سے کہیں آگے جا سکتا ہے اور اس ریجن میں فلمسازی کا اصل مرکز بن سکتا ہے۔
زید شاکر کا کہنا تھا ’ہم ثقافتی شعبے کے بیج بو رہے ہیں جو دہائیوں تک معاشی فوائد کا باعث بنتے رہیں گے۔ اگر ہمیں اچھا ٹیلنٹ، انفراسٹرکچر اور کہانیاں مل گئیں تو پھر دنیا سیاحت کے ساتھ ساتھ فلمیں بنانے کے لیے بھی العلا آیا کرے گی۔‘

شیئر: