پاکستان اور ایران سے ڈیڑھ لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی، ’افغانستان مزید بحران میں‘
پاکستان اور ایران سے ڈیڑھ لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی، ’افغانستان مزید بحران میں‘
جمعہ 13 فروری 2026 15:48
2025 میں 29 لاکھ افراد واپس آئے، جس سے مجموعی تعداد 54لاکھ تک پہنچ گئی (فوٹو: اے ایف پی)
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ اس سال تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار افغان مہاجرین پاکستان اور ایران سے واپس لوٹ چکے ہیں، اور اس تیز رفتار اور بڑے پیمانے کی واپسی نے افغانستان کو مزید گہرے بحران میں دھکیل دیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے کے بعد پاکستان اور ایران نے بڑی تعداد میں بے دخلی کے عمل کو تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اس ملک میں واپس جانے پر مجبور ہوئے ہیں جو پہلے ہی اپنے شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
جنیوا میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے افغانستان میں یو این سی ایچ آر کے نمائندے عرافات جمال نے کہا کہ ’اس سال اب تک تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار افغان ایران اور پاکستان سے واپس آ چکے ہیں۔ سردیوں کی سختی اور شدید برف باری کے پیشِ نظر یہ بڑی تعداد تشویش ناک ہے۔‘
انہوں نے کابل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ آمد2023 کے اکتوبر سے اب تک کی واپسیوں کے علاوہ ہے، 2025 میں29 لاکھ افراد واپس آئے، جس سے مجموعی تعداد 54لاکھ تک پہنچ گئی۔
جمال کے مطابق لوگ انتہائی مشکل حالات میں واپس آ رہے ہیں، چاہے وہ خاندان کے ساتھ سرحد پر پہنچ رہے ہوں یا اکیلے۔
افغانستان واپس آنے والوں کے لیے ایک نئے ملک میں دوبارہ زندگی شروع کرنا مشکل ہے، جو پہلے ہی غربت، ماحولیاتی مسائل اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’واپسی کی رفتار اور تعداد نے افغانستان کو مزید بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ملک پہلے ہی بگڑتی ہوئی انسانی اور انسانی حقوق کی صورتِ حال اور کمزور معیشت اور بار بار آنے والی قدرتی آفات سے نمٹ رہا ہے۔‘
یو این سی ایچ آر کے ترجمان بابر بلوچ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس سال واپسی کی تعداد پچھلے سال کی نسبت 50 فیصد زیادہ ہے، جب تقریباً ایک لاکھ افغان واپس آئے تھے۔
جمال نے کہا کہ کچھ خاندان دوبارہ افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
جمال کے مطابق یو این سی ایچ آر کے سروے سے پتا چلا ہے کہ بہت سے خاندانوں کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں، اور90 فیصد سے زیادہ روزانہ پانچ ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’واپسی کا سلسلہ پائیدار نظر نہیں آتا، کیونکہ کچھ خاندان دوبارہ افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلے نقل مکانی کی خواہش کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس حقیقت کی وجہ سے ہیں کہ بہت سے لوگ یہاں دوبارہ باعزت اور قابلِ عمل زندگی نہیں بنا پا رہے۔‘