Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دھرنے کا تیسرا روز، تحریک انصاف نے ذاتی معالجین کے بغیر عمران خان کا طبی معائنہ مسترد کر دیا

اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا دے رکھا ہے۔ فوٹو: سکرین گریب
پاکستان تحریک انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان کے آنکھ کے طبی معائنے کے حوالے سے حکومت اور جیل انتظامیہ کے حالیہ طرزِعمل کو مسترد کیا جاتا ہے۔
اتوار کی شام جاری کیے گئے بیان میں اپوزیشن جماعت نے کہا کہ ’حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ پارٹی قیادت کو پیغام دیا گیا تھا کہ وہ معائنے کے وقت جیل آ جائے دراصل بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔‘
بیان کے مطابق ’یہ معاملہ پارٹی قیادت کی موجودگی یا عدم موجودگی کا نہیں تھا۔ ایسے حساس اور نازک طبی معاملات میں فیصلہ کرنے کا آئینی، اخلاقی اور قانونی حق عمران خان کی فیملی کا بنتا ہے۔ اور فیملی اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی جب تک عمران خان کے ذاتی معالجین معائنے کے دوران موجود نہ ہوں۔ اس لیے پارٹی قیادت کو علامتی طور پر مدعو کرنے کی نہ کوئی اخلاقی منطق ہے اور نہ ہی کوئی قانونی جواز۔‘
پی ٹی آئی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کا فوری طور پر ان کی فیملی اور ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں علاج شروع کروایا جائے۔ اس کے علاوہ کسی بھی عمل کو ہم شفاف، قابلِ اعتماد اور قابلِ قبول نہیں سمجھیں گے۔‘
دوسری جانب اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں دیے گئے دھرنے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس اور تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت متعدد ارکان اسمبلی و سینیٹ شریک ہیں۔
خیبر پختونخوا ہاؤس کے گیٹ پر دیے گئے دھرنے میں وزیراعلٰی سہیل آفریدی، اُن کی صوبائی کابینہ کے ارکان، سابق وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور اور درجنوں دیگر ارکان اسمبلی موجود ہیں۔

شیئر: