غلط معلومات، ڈیپ فیکس، بچوں کی آن لائن حفاظت، انڈیا میں اے آئی سمٹ کا آغاز
غلط معلومات، ڈیپ فیکس، بچوں کی آن لائن حفاظت، انڈیا میں اے آئی سمٹ کا آغاز
پیر 16 فروری 2026 7:19
وزیراعظم نریندر مودی پیر کی دوپہر پانچ روزہ ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کا افتتاح کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمٹ کا آغاز ہو رہا ہے جس میں اے آئی سکیورٹی، غلط معلومات، ڈیپ فیکس، بچوں کی آن لائن حفاظت اور ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی جیسے موضوعات اہم رہیں گے۔
تاہم کچھ شرکا کا کہنا ہے کہ اتنے وسیع ایجنڈے کے باعث عالمی رہنماؤں سے عملی نوعیت کے فیصلوں کی توقع کم ہو سکتی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جنریٹیو اے آئی کی بڑھتی ہوئی مانگ نے جہاں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے منافع میں زبردست اضافہ کیا ہے، وہیں اس کے معاشرتی اور ماحولیاتی اثرات پر بھی تشویش تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی پیر کی دوپہر پانچ روزہ ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کا افتتاح کریں گے، جس کا مقصد عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی حکمرانی اور تعاون کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ تیار کرنا ہے۔
مودی نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ موقع اس بات کا ثبوت ہے کہ انڈیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور یہ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اظہار بھی ہے۔‘
یہ سالانہ اجلاس چوتھی بار منعقد ہو رہا ہے، جس سے پہلے ایسی کانفرنسیں پیرس، سیول اور برطانیہ میں ہو چکی ہیں۔ اس مرتبہ اسے سب سے بڑا ایڈیشن قرار دیا جا رہا ہے اور انڈین حکومت کے مطابق اس میں 20 عالمی رہنماؤں، 45 وزارتی وفود اور مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ سے زائد شرکا کی آمد متوقع ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی چند بڑی شخصیات جیسے اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین اور گوگل کے سندر پچائی کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے بعض غیر متوقع وجوہات کی بنا پر شرکت منسوخ کر دی ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ پہلی بار یہ سمٹ کسی ترقی پذیر ملک میں منعقد ہو رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ماہرین کے مطابق یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا عالمی رہنما اے آئی کمپنیوں کو جوابدہ بنانے کے لیے کوئی مضبوط قدم اٹھا پائیں گے۔ اے آئی ناؤ انسٹیٹیوٹ کی شریک ڈائریکٹر امبا کک کے مطابق پچھلی کانفرنسوں میں کیے گئے اعلانات زیادہ تر خودساختہ قواعد تک محدود رہے ہیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ پہلی بار یہ سمٹ کسی ترقی پذیر ملک میں منعقد ہو رہا ہے اور مقصد ایسی اے آئی پالیسی تشکیل دینا ہے جو سب کے لیے فائدہ مند ہو نہ کہ صرف چند ممالک کے لیے۔