بونڈائی بیچ فائرنگ کاواقعہ: مبینہ قاتل نوید اکرم ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش
بونڈائی واقعے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں کی تعداد میں زخمی ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
بونڈائی بیچ کے مبینہ قاتل نوید اکرم پیر کے روز سڈنی کی ایک عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے جو ان کی پہلی عوامی سماعت تھی۔
نوید اکرم اور ان کے والد ساجد اکرم پر الزام ہے کہ انہوں نے دسمبر میں یہودی تہوار ہنوکا کی ایک تقریب پر حملہ کیا جو تقریباً تین دہائیوں میں ملک میں ہونے والی بدترین اجتماعی فائرنگ تھی۔
نوید اکرم پر دہشت گردی اور قتل کے 15 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ حملے کے دوران ساجد کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
عدالت کے بیان اور مقامی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے تقریباً پانچ منٹ تک پیش ہوئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق سماعت کے دوران نوید اکرم نے سبز جمپر پہن رکھا تھا اور کارروائی زیادہ تر تکنیکی امور سے متعلق تھی، جیسے بعض متاثرین کی شناخت کو خفیہ رکھنے کے احکامات۔
رپورٹس کے مطابق جب جج نے ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے پابندی کے احکامات میں توسیع سے متعلق بحث سنی ہے، تو انہوں نے صرف ایک لفظ کہا ’ہاں‘
عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے نوید اکرم کے وکیل بین آرچ بولڈ نے کہا کہ ان کے مؤکل کو ’انتہائی سخت حالات‘ میں رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ آیا اکرم جرم قبول کریں گے یا نہیں۔
دسمبر کے حملے کے متاثرین میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے 87 برس کے ایک شخص، ایک جوڑا جس نے مسلح حملہ آوروں میں سے ایک کا سامنا کیا، اور 10 سالہ بچی مٹیلڈا بھی شامل تھیں، جنہیں ان کی آخری رسومات میں ’روشنی کی کرن‘ قرار دیا گیا تھا۔