380 پاؤنڈ انعام: لندن میں گینگز سنیپ چیٹ کے ذریعے بچوں کو آئی فون چوری کے لیے بھرتی کر رہی ہیں
380 پاؤنڈ انعام: لندن میں گینگز سنیپ چیٹ کے ذریعے بچوں کو آئی فون چوری کے لیے بھرتی کر رہی ہیں
منگل 17 فروری 2026 18:03
خصوصی تربیت یافتہ افسران کی جانب سے چلائی جانے والی سرون ای بائیکس نوجوان ملزمان کا پیچھا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ (فوٹو: فیٹ پولیس)
پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ جرائم پیشہ گینگز بچوں کو سکول جانے سے پہلے سمارٹ فون چوری کرنے کے لیے بھیج رہی ہیں اور اس مقصد کے لیے سنیپ چیٹ کے ذریعے تازہ ترین ایپل آئی فون کے بدلے 380 پاؤنڈ تک انعام کی پیشکش کر رہی ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہا ہے کہ وہ موبائل فون چھیننے کے واقعات کے خلاف اپنی مہم تیز کرتے ہوئے نئے وسائل استمعال کر رہی ہے، جن میں ڈرونز اور سرون ای بائیکس شامل ہیں تاکہ ملزمان کا پیچھا کیا جا سکے۔
لندن برطانیہ میں موبائل فون چوری کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہے، اور میٹروپولیٹن پولیس کو اس حوالے سے تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔
پولیس کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں چوری کے واقعات میں 12 فیصد کمی آئی ہے اور تعداد 71 ہزار تک آ گئی ہے، تاہم کمشنر مارک راؤلی چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں، خصوصاً ایپل ، مزید اقدامات کریں تاکہ چوری شدہ فونز کو دوبارہ فعال کرنا اور بیرونِ ملک بھیجنا مشکل ہو جائے۔
رپورٹ کے مطابق گینگز سنیپ چیٹ پر مختلف ماڈلز کے چوری شدہ موبائل فونز کے لیے نقد انعامات کی فہرست جاری کرتی ہیں اور 14 سال کی عمر تک کے بچوں کو سائیکلوں پر چوری کرنے کے لیے راغب کرتی ہیں۔
گینگز نئے ایپل فونز کے لیے سب سے زیادہ رقم دیتی ہیں کیونکہ پولیس کے خیال میں ان میں حفاظتی اقدامات کمزور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں خلیجی ممالک اور چین کی منڈیوں میں دوبارہ فعال کر کے فروخت کرنا آسان ہوتا ہے۔
میٹ پولیس کے مطابق سام سنگ فونز کی قیمت کم رکھی جاتی ہے کیونکہ انہیں بیرونِ ملک استعمال کے لیے دوبارہ فعال کرنا زیادہ مشکل ہے۔
جب فون چوری ہو جاتے ہیں تو کم عمر چور سنیپ چیٹ پر ایک ’ہینڈلر‘ کو پیغام بھیج کر فون حوالے کرنے کی جگہ طے کرتے ہیں۔ اگر ایک ہی بار میں 10 یا اس سے زیادہ فون جمع کرائے جائیں تو اضافی 100 پاؤنڈ بونس بھی دیا جاتا ہے۔
لندن کے میئر صادق خان نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایک نئے کمانڈ سینٹر کے لیے اضافی 4.5 ملین پاؤنڈ فراہم کر رہی ہے۔ (میٹ پولیس)
ایک حالیہ کیس میں پولیس کے مطابق ایک نوجوان صبح سویرے سائیکل پر ایک مرکزی ٹرانسپورٹ مرکز کے قریب مسافروں پر حملہ کرنے جا رہا تھا اور اس کے بعد سکول جانے والا تھا۔
پولیس کو ملنے والے ایک سنیپ چیٹ اشتہار میں آئی فون 16 میکس کے لیے 380 پاؤنڈ، آئی فون 15 کے لیے 220 پاؤنڈ اور آئی فون 12 کے لیے صرف 20 پاؤنڈ کی پیشکش کی گئی تھی۔
مارک راؤلی نے کہا کہ عدالتیں بھی زیادہ کردار ادا کر سکتی ہیں اور بار بار جرم کرنے والوں کو ضمانت پر رہا کرنے سے روک سکتی ہیں۔ ایک حالیہ واقعے میں 12 نوجوانوں کے ایک گروپ کو فون چوری کے الزام میں گرفتار اور فردِ جرم عائد کی گئی۔ اگلے دن بعض کو ضمانت مل گئی اور گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی ان پر دوبارہ فون چوری کرنے کا الزام لگا۔
مارک راؤلی نے کہا کہ ’صرف پولیس اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتی۔ مینوفیکچررز اور ٹیک کمپنیوں کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مجرم چوری شدہ فونز کو ری سیٹ، دوبارہ استعمال یا فروخت نہ کر سکیں۔‘
’ہمیں عدالتوں کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور بار بار جرم کرنے والوں کو ضمانت پر رہا ہونے سے روکیں تاکہ وہ دوبارہ جرم نہ کریں اور افسران کی محنت کو ضائع نہ کریں جو کمیونٹیز کو محفوظ رکھنے کے لیے کی جا رہی ہے۔‘
میٹ پولیس نے کہا کہ ڈرونز ملزمان کی نگرانی اور فرار ہونے والے ملزمان کا سراغ لگانے میں مدد دیں گے، خاص طور پر لندن کے ویسٹ اینڈ میں جو موبائل فون چوری کا سب سے بڑا مرکز ہے اور جہاں سیاح آسان ہدف بن جاتے ہیں۔
خصوصی تربیت یافتہ افسران کی جانب سے چلائی جانے والی سرون ای بائیکس نوجوان ملزمان کا پیچھا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
پولیس نے یہ بھی کہا کہ لائیو فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی نے مجرموں کو پکڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اسے آئندہ بھی استعمال کیا جاتا رہے گا۔
لندن کے میئر صادق خان نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایک نئے کمانڈ سینٹر کے لیے اضافی 4.5 ملین پاؤنڈ فراہم کر رہی ہے۔
صادق خان نے کہا کہ ’بہت سے لندن کے شہری موبائل فون چوری کا شکار ہو چکے ہیں اور میں اس کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پُرعزم ہوں۔‘