Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا بالی وڈ انڈسٹری میں رومانوی فلموں کا دور واپس آ رہا ہے؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم بین مکمل طور پر کسی ژونرا کی فلموں کو رد نہیں کرتے۔ فائل فوٹو: سکرین گریب
بالی وڈ کے ڈائریکٹر انوراگ باسو نے کہا ہے کہ کورونا کی عالمی وبا کے بعد انڈین فلم انڈسٹری رومانوی فلموں کی کمی کا شکار ہو گئی تھی تاہم گزشتہ سال فلم ’سیارہ‘ کی بھرپور پذیرائی نے یہ ثابت کیا کہ محبت کی کہانیاں اب بھی ناظرین کو سینیما میں لانے کی طاقت رکھتی ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران بالی وڈ پر ایکشن فلموں نے حکمرانی کی جن کو سینیما میں مداحوں کی ایک بڑی تعداد نے دیکھا۔
اس دوران ان بلاک بسٹر فلموں کی پذیرائی نے ہلکی پھلکی رومانوی فلموں کو پیچھے دھکیل دیا تھا اور ہدایت کار یا فلمساز موسیقی سے بھرپور موویز بنانے کے حوالے سے خاموش ہو گئے تھے۔
ناقدین کے مطابق فلم ’سیارہ‘ کی موسیقی اور رومانس نے یاد دلایا کہ یہ ژونرا ہمیشہ سے بالی وڈ کا اثاثہ رہا ہے۔
تو کیا بالی وڈ رواں سال رومانوی فلموں کو موقع دینے کے لیے تیار ہے؟
فلم سازوں اور اس کی تجارت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ رومانس ہندی سنیما سے حقیقی معنوں میں کبھی غائب نہیں ہوا۔
فلم سازی کے کاروبار سے وابستہ تجزیہ کار ترن آدرش اسے صنعت کے وسیع تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ’صنعت ہمیشہ سائیکلز یا گھومتے چکر میں کام کرتی رہی ہے۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق مار دھاڑ اور ایکشن سے بھرپور فلموں کی بڑی تعداد کے بعد جذبات اور محبت کی کہانیوں والی فلمیں فطری تخلیقی اور تجارتی خواہش ہے۔
سینیما کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہوئے انوراگ باسو کہتے ہیں کہ ’70 کی دہائی میں آپ کے پاس اینگری ینگ مین فلمیں بہت اچھا بزنس کرتی تھیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ رومانوی فلمیں بھی باکس آفس پر بہت اچھا بزنس کر رہی تھیں۔‘
ڈائریکٹر ملاپ زاویری نے بھی رومانوی فلموں کو موسمی رجحان کے طور پر لینے کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیشہ سے یہی ہوتا رہا ہے۔ ناظرین نے کبھی رومانوی فلموں کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔‘

 رواں سال متعدد رومانوی فلمیں سینیما میں پیش کی جائیں گی۔ فائل فوٹو: سکرین گریب

انہوں نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ فلم بوبی (1973)، بیٹا (1983)، قیامت سے قیامت تک (1988) سے لے کر دل والے دلہنیا لے جائیں گے (1995) اور اب سیارہ (2025) تک، محبت کی کہانیاں باکس آفس پر ہمیشہ سے کامیاب رہی ہیں۔ ’ناظرین نے رومانس کو مسترد نہیں کیا، انہوں نے چند پرانی طرز کی فارملہ فلموں کو مسترد کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فلم بین مکمل طور پر کسی ژونرا کی فلموں کو رد نہیں کرتے۔ ’ایک خاص طرز کی فلمیں موسمی ہوتی ہیں جبکہ رومانوی فلمیں ہمیشہ سے ہیں اور رہیں گی۔ سیارہ نے اس طرز کو بہت زبردست طریقے سے سینیما کی سکرین پر واپس لایا ہے۔‘
 رواں سال جو رومانوی فلمیں سینیما میں پیش کی جائیں گی اُن میں ’دو دیوانے شہر میں‘، پتی، پتنی اور وہ دو‘، ’ایک دن‘، ’چاند میرا دل‘، ’تو میری زندگی ہے‘، اور ’کاک ٹیل2‘ سرفہرست ہیں۔

 

شیئر: