Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش کے نئے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا

طارق رحمان نے نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر منعقدہ تقریب میں حلف اٹھایا۔  صدر محمد شہاب الدین نے ان سے حلف لیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان نے منگل کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
طارق رحمان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی  2024 کے انقلاب کے بعد ہونے والے انتخابات  میں دو تہائی اکثریے کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔
طارق رحمان کی زیر قیادت نئی بی این پی حکومت کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

60  سالہ رحمان کی ترجیحات میں سرفہرست ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانا، برسوں کی تلخ سیاسی رقابت سے منقسم قوم میں دراڑیں ختم کرنا، اور دنیا کے دوسرے بڑے گارمنٹس برآمد کرنے والے ملک کو درپیش معاشی مشکلات سے نمٹنا شامل ہوگا۔

طارق رحمان نے عبوری حکومت سے اقتدار سنبھالا ہے، جو 17 کروڑ آبادی والے ملک کو 18 ماہ تک چلاتی رہی۔ عبوری حکومت نے طلبہ تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی آمرانہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔
طارق رحمان نے نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر منعقدہ تقریب میں حلف اٹھایا۔  صدر محمد شہاب الدین نے ان سے حلف لیا۔
بی این پی کے سربراہ اور ملک کے بااثر سیاسی خاندانوں میں سے ایک کے چشم و چراغ  طارق رحمان نے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہفتہ کے روز اپنی وکٹری سپیچ میں کہا تھا ’یہ کامیابی بنگلہ دیش کی ہے، یہ جمہوریت کی ہے۔‘
’یہ کامیابی ان لوگوں کی ہے جو جمہوریت کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے قربانیاں دے چکے ہیں۔‘
انہوں نے برسوں کی تلخ سیاسی کشمکش سے تقسیم شدہ ملک میں تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ’متحد رہیں۔‘
انہوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ’ہم ایک ایسے مرحلے پر اپنا سفر شروع کر رہے ہیں جہاں ہمیں آمرانہ حکومت کی جانب سے چھوڑی گئی کمزور معیشت، کمزور آئینی و قانونی اداروں، اور بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کا سامنا ہے۔‘
طارق رحمان کے حلف اٹھانے کے بعد ان کی کابینہ کے وزرا نے بھی اپنے عہدوں کا حلف لیا۔

’پرامن اپوزیشن

طارق رحمان کی کامیابی ایک حیران کن تبدیلی کی علامت ہے، کیونکہ وہ دسمبر میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد برطانیہ سے وطن واپس آئے تھے، اور ڈھاکہ کی سیاسی ہلچل سے دور رہے تھے۔
انتخابات میں بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد کو 77 نشستیں ملیں۔
جماعتِ اسلامی، جس نے پارلیمنٹ میں ایک چوتھائی سے زائد نشستیں حاصل کیں، نے 32 حلقوں میں نتائج کو چیلنج کیا ہے۔
تاہم جماعت کے رہنما، 67 سالہ شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ’چوکنا، اصولی اور پرامن اپوزیشن‘ کا کردار ادا کرے گی۔
انتخابات سے قبل ہفتوں کی بے چینی کے باوجود پولنگ کا دن بڑے پیمانے پر پُرامن رہا اور اب تک ملک نے نتائج پر نسبتاً سکون کا مظاہرہ کیا ہے۔
کرائسس گروپ کے تجزیہ کار تھامس کین نے کہا کہ ’اگر بی این پی معیشت کے معاملے میں اچھی کارکردگی دکھا سکی تو باقی معاملات حکومت کے لیے آسان ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سے استحکام کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی، تاکہ معیشت سے ہٹ کر دیگر متعدد چیلنجز سے بھی نمٹا جا سکے۔‘

شیئر: