Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈالر کی مضبوطی سے سونے کو جھٹکا، قیمت 4,900 ڈالر فی اونس سے نیچے گر گئی

متعدد بینکوں نے پیش گوئی کی ہے کہ قیمتیں دوبارہ بڑھیں گی۔ (فوٹو: روئٹرز)
تعطیلات کے باعث کم تجارتی سرگرمیوں کے دوران سونے کی قیمت 4,900 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گیا جبکہ ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نئے قمری سال کی تعطیلات کی وجہ سے ایشیا کے بیشتر مارکیٹس بند رہے۔ چاندی کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ڈالر کی قدر میں مسلسل دوسرے روز اضافہ ہوا کیونکہ تاجر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے اور حصص بازاروں میں رسک سے گریز کا رجحان پھیل گیا تھا۔
گذشتہ ماہ کے دوران سونے کی قیمت میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جو جنوری میں مزید تیز ہو گئی، تاہم اختتام مہینہ اچانک فروخت میں اضافہ دیکھا گیا۔
 5,595 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح چھونے کے بعد سونا دو دن میں گر کر تقریباً 4,400 ڈالر تک آ گیا۔ بعد ازاں قیمت میں کچھ اضافہ ہوا تاہم اتار چڑھاؤ اب بھی برقرار ہے۔
فاریکس ڈاٹ کام سے منسلک تجزیہ کار فواد رزاق زادہ کے مطابق ’چین میں تقریبا ہفتہ بھر تعطیلات ہیں جس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کم ہے۔ یہ واضح نہیں کہ قیمتوں کو مزید نیچے دھکیلنے کے لیے کافی رفتار موجود ہے یا اگر امریکی ڈالر میں دوبارہ کمزوری آتی ہے تو خریدار دوبارہ متحرک ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ قلیل مدتی کمی کی گنجائش موجود ہے کیونکہ سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری (سیف ہیون) پوزیشنز ختم کر کے منافع کما رہے ہیں، جبکہ قیمتیں تاریخی اعتبار سے اب بھی بلند سطح پر ہیں۔
چین اور انڈیا، جو سونے کی سب سے بڑی منڈیاں ہیں، میں مضبوط طلب حالیہ مہینوں میں قیمتوں میں اضافے کا اہم سبب رہی ہے۔
انڈیا کے درآمدی اعداد و شمار کے مطابق جنوری تک سونے اور چاندی کی درآمدات ریکارڈ کے قریب پہنچ گئیں۔ اس عرصے میں ملک نے 12 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا سونا درآمد کیا، جو تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا ماہانہ حجم ہے، جبکہ چاندی کی درآمدات 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
دوسری جانب متعدد بینکوں نے پیش گوئی کی ہے کہ قیمتیں دوبارہ بڑھیں گی کیونکہ وہ عوامل جو سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا باعث بنے، برقرار رہنے کی توقع ہے۔
جیفریز کے تجزیہ کارفہد طارق نے ایک نوٹ میں لکھا کہ سونے کے لیے دو بڑے معاون میکرو عوامل بدستور موجود ہیں: مہنگائی اور ڈالر کی قدر میں کمی۔ انہوں نے 2026 کے لیے اپنی قیمت کی پیش گوئی 4,200 ڈالر سے بڑھا کر 5,000 ڈالر فی اونس کر دی۔ ان کے مطابق ان خدشات کے پیشِ نظر سرمایہ کاروں اور مرکزی بینکوں کے پاس ’ٹھوس اثاثوں‘ میں سرمایہ کاری ہی بنیادی آپشن رہ جاتا ہے۔

شیئر: