’لڑکوں کے کرکٹ ٹورنامنٹس میں توجہ کا مرکز رہنے والی‘ وائرل بچی آئینہ وزیر کون ہیں؟
’لڑکوں کے کرکٹ ٹورنامنٹس میں توجہ کا مرکز رہنے والی‘ وائرل بچی آئینہ وزیر کون ہیں؟
جمعرات 19 فروری 2026 14:40
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز
شام ڈھلنے سے کچھ پہلے منظور وزیر گھر سے نکلتے ہیں۔ وزیرستان کی تحصیل شیواہ کے گاؤں شگہ کی کچی سڑک پر موٹرسائیکل دھول اڑاتی آگے بڑھتی ہے۔ گھر سے بازار تک یہ سفر صرف 30 منٹ کا ہے لیکن اس کے پیچھے ایک سات سالہ بچی آئینہ وزیر کی کئی خواہشیں بندھی ہوتی ہیں۔ بازار پہنچ کر منظور ایک دکاندار کے پاس موبائل میں کرکٹ میچ کے ہائی لائٹس اور گیمز کاپی کروانے پہنچتے ہیں۔ انٹرنیٹ یہاں لوڈشیڈنگ کی طرح آتا جاتا ہے، ایک گھنٹہ ہے تو اگلے گھنٹے غائب ہوجاتا ہے۔ چنانچہ گھر میں کوئی بھی ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ منظور پیسے دے کر کرکٹ ہائی لائٹس اور میچز کے کلپس موبائل میں منتقل کروانے کے بعد واپس گھر آ جاتے ہیں۔
گھر پہنچتے ہی دروازے پر آئینہ منتظر ہوتی ہیں۔ آئینہ وزیر موبائل ہاتھ میں لینے سے پہلے ہی پوچھ لیتی ہے کہ کون سی ویڈیوز لائے ہیں؟ وہ ایک ایک کلپ اسی انہماک سے دیکھتی ہے جیسے یہ اس کی روزمرہ خوراک ہو۔ منظور وزیر بتاتے ہیں ’یہ سب میں آئینہ کے لیے کرتا ہوں۔ مجھے خود بھی کرکٹ بہت پسند ہے۔ پشاور یونیورسٹی میں میں اپنی ٹیم کا کپتان تھا اس لیے جانتا ہوں کہ کھیل کا شوق کس طرح انسان کو بدل دیتا ہے۔‘
سات برس کی آئینہ وزیر دوسری جماعت میں زیرِتعلیم ہیں۔ یہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے وزیرستان کی تحصیل شیواہ کے گاؤں شگہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ آئینہ کے چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ بڑے بھائی دبئی میں ٹیکسی چلاتے ہیں جبکہ ان کے گھر کی دیکھ بھال اُن کے کزن منظور کرتے ہیں۔ آئینہ صبح سے دوپہر دو بجے تک سکول میں ہوتی ہیں، پھر گھر آ کر مدرسہ پڑھتی ہیں اور چار بجے کے بعد محلے کے گراؤنڈ کا رخ کرتی ہیں۔ اس حوالے سے آئینہ کے کزن منظور وزیر اردو نیوز کو بتاتے ہیں ’گراؤنڈ میں کوئی اور بچی کرکٹ نہیں کھیلتی اس لیے وہ گاؤں کے چھوٹے لڑکوں کے ساتھ ہی کھیل لیتی ہیں۔ خاندان میں آج تک کسی نے انہیں یہ نہیں کہا کہ کرکٹ لڑکوں کا کھیل ہے۔ یہ ابھی بچی ہے۔ شوق سے کھیلتی ہے۔ ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟‘
آئینہ کو کرکٹ سے لگاؤ تین سال کی عمر میں ہوا۔ وہ موبائل پر کرکٹ ویڈیوز دیکھتی تھیں۔ یوں انہوں نے گاؤں کے بچوں کے ساتھ بھی کھیلنا شروع کر دیا۔ آج بھی آئینہ روزانہ منظور سے موبائل مانگ کر ہائی لائٹس دیکھتی ہیں۔ منظور اس حوالے سے بتاتے ہیں ’وزیرستان میں انٹرنیٹ کی غیر یقینی صورتحال یہاں کی روزمرہ حقیقت ہے۔ ہم ہاتھوں میں موبائل پکڑے کھڑے ہوتے ہیں کہ اب سگنل آئے گا۔ پہلے تو انٹرنیٹ بالکل نہیں تھا۔ اب ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔ اسی لیے ہر چند دن بعد شہر جا کر ویڈیوز کاپی کرانا پڑتی ہیں‘۔ ان کے مطابق یہی ویڈیوز آئینہ کئی دنوں تک دیکھتی رہتی ہے۔
آئینہ وزیر ان ویڈیوز کو دیکھ دیکھ کر خود بھی بولنگ کراتی ہے اور مقامی سطح پر انہیں کرکٹ کے حوالے سے ہی جانا جاتا ہے۔ گزشتہ روز شام کے وقت منظور اپنے دوست ظفران وزیر کے ساتھ ٹہل رہے تھے کہ قریب گراؤنڈ میں آئینہ بچوں کے ساتھ کھیلتی دکھائی دی۔ ظفران نے جب ان کی بولنگ دیکھی تو فوراً موبائل نکالا اور ایک مختصر کلپ ریکارڈ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسی بولنگ تو لڑکے بھی نہیں کرتے جیسے یہ کر رہی ہے۔‘ ان کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو پر مسلسل تبصرے ہوں رہے ہیں۔ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے تو انہیں زلمی لیگ میں شامل کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے منظور وزیر بتاتے ہیں ’ہمیں گزشتہ روز ایک کال آئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ جاوید آفریدی اس طرح چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پشاور زلمی اور جاوید آفریدی کی طرف سے آئینہ کو موقع دیا جائے گا اور وہ عالمی سطح پر کھیل پائے گی۔‘ اس خبر نے آئینہ کے گھر میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
آئینہ وزیر کے بڑے بھائی دبئی میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔ فوٹو: سکرین گریب
وائرل ہونے کے بعد آئینہ کے جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ اس حوالے سے منظور بتاتے ہیں ’جب میں نے اسے بتایا کہ آپ پوری دنیا میں دیکھی جا رہی ہیں اور پشاور زلمی نے رابطہ کیا ہے تو وہ مسلسل پوچھ رہی ہے کہ مجھے اسلام آباد کب لے کر جا رہے ہیں؟ ہم کب نکلیں گے؟ آپ جھوٹ تو نہیں بول رہے؟ ہمارے لوگوں کے لیے اسلام آباد بہت بڑی جگہ ہے۔‘ آئینہ کی آنکھوں میں اس سوال کے ساتھ ایک نیا خواب بھی جھلکتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اسلام آباد آ کر آسانی سے کرکٹ کھیل پائے گی۔
منظور وزیر خود ایک سکول میں وائس پرنسپل ہیں۔ گھر میں وہی بڑے ہیں۔ باقی سب یا تو چھوٹے ہیں یا باہر مزدوری کر رہے ہیں۔ آئینہ کے والد عمر گل ایک نجی سکول میں استاد تھے۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ منظور اس حوالے سے بتاتے ہیں ’آئینہ میرے پاس ہی بیٹھی ہے۔ جب بھی ہم اس بارے میں کچھ بولتے ہیں تو آئینہ رونے لگتی ہے اور روتے روتے بھاگ جاتی ہے۔ اس لیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس کے سامنے ان کے والد کی بات کم ہی آئے۔ سوشل میڈیا پر جو باتیں ہو رہی ہیں قریباً کہانی وہی ہے‘۔ ان کے مطابق آئینہ کے والد گزشتہ برس مبینہ طور پر اغوا کیے گئے تھے۔
وزیرستان کے اس دور افتادہ علاقے میں سہولیات محدود ہیں لیکن گاؤں والے ابتدا سے ہی آئینہ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ وہ مقامی لڑکوں کے ساتھ ٹورنامنٹس میں بھی حصہ لیتی ہیں اور زیادہ تر یہ توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔ جب اردو نیوز نے انہیں سوشل میڈیا پر مشہور ہونے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے مخصوص وزیرستانی لہجے میں مختصر جواب دیا ’شہہہ ڈیررررہ خوشحالہ‘ یعنی ’میں بہت زیادہ خوش ہوں‘۔ انہوں نے اپنے اس شوق سے متعلق مزید بتایا ’میں بچپن سے ہی کھیل رہی ہوں اور کرکٹ کی ویڈیوز بہت دیکھتی ہوں۔ مجھے نسیم شاہ کی بولنگ بہت زیادہ پسند ہے۔ جب بھی موقع ملے گا میں آگے کھیلوں گی لیکن میری پڑھائی بہت ضروری ہے۔‘ کھیلنے کے ساتھ ساتھ ’پڑھائی بہت ضروری ہے‘ کا یہ جملہ ان کے دن کے معمول کی طرح واضح تھا کہ پہلے سکول اور مدرسہ جانا ہے اور پھر گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنا ہے۔
آئینہ کی دنیا ابھی گاؤں کی گلیوں، سکول کے صحن اور موبائل سکرین تک محدود ہے۔ فوٹو: سکرین گریب
کرکٹ سے لگاؤ کے بارے میں منظور وزیر بتاتے ہیں کہ ایک بار آئینہ میچ ہار گئی تو کپ مخالف ٹیم کو ملا۔ ’آئینہ گھر آ کر بولی میں نے اور نہیں کھیلنا۔ آج میں نے کپ ہارا ہے۔ یوں وہ رونے لگی۔‘ منظور نے انہیں سمجھایا کہ ہار کھیل کا حصہ ہے اور اسے حوصلہ دیا تو اگلے دن وہ پھر گراؤنڈ میں کھیل رہی تھی۔ منظور کہتے ہیں کہ اگر انہیں باقاعدہ رہنمائی ملے، درست کوچنگ اور طریقہ معلوم ہو تو وہ ہر صورت آئینہ کو آگے لے کر جائیں گے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ اس کا شوق صحیح سمت میں جائے۔ وسائل کم ہیں لیکن ارادہ ہے اور اسے آگے لے کر جائیں گے۔‘
وزیرستان کے اس گاؤں میں شام ڈھلتی ہے تو قریب ہی گراؤنڈ کی مٹی پر ایک ننھی فاسٹ بولر اپنا رن اپ ناپتی ہے۔ آئینہ کی دنیا ابھی گاؤں کی گلیوں، سکول کے صحن اور موبائل سکرین تک محدود ہے لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ایک کلپ نے اس کی دنیا کی سرحدیں وسیع کر دی ہیں۔ فی الحال منظور اگلے سفر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اس بار وہ بازار میں ویڈیوز کاپی کرانے کے لیے نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کی طرف بڑھنے کے لیے جائیں گے اور گھر کے دروازے پر کھڑی آئینہ میچ کے ہائی لائٹس کی جگہ اپنے خوابوں کو سچا ہوتے دیکھ پائے گی۔