Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انسانی وقار کی خلاف ورزی‘، سپریم کورٹ کا ایف آئی آر میں ذات اور برادری نہ لکھنے کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حال ہی میں ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے اس رواج کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان میں پولیس کی کارروائیوں اور ایف آئی آر کی تحریر کا رواج صدیوں پرانا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب پولیس کسی جرم کی رپورٹ درج کرتی ہے یا کسی مقدمے کی ایف آئی آر کاٹتی ہے، تو مدعی یا گواہ کا تعارف والد کے نام، علاقے اور اہمیت کے مطابق ذات یا پیشہ کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔
بظاہر یہ عمل شہری کی مکمل شناخت فراہم کرنے کے لیے کیا جاتا رہا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ جنوبی ایشیائی معاشروں میں ذات، برادری یا پیشہ کی بنیاد پر کسی شخص کی شناخت محض معلوماتی نہیں رہتی، بلکہ یہ پولیس اور دیگر حکومتی اداروں کے رویے پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
مثال کے طور پر پنجاب کے کسی گاؤں میں اگر پولیس رپورٹ میں مدعی یا گواہ کے ساتھ ’چودھری‘، ’گوجر‘ یا ’جٹ‘، ’وڑائچ‘، ’رانجھا‘ اور ’راجپوت‘ جیسی ذات لکھی جائے، تو اکثر پولیس کا رویہ نسبتاً نرم یا معاونت آمیز ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہی فرد کسی پیشہ ورانہ طبقے سے تعلق رکھتا ہو، جیسے ’موچی‘، ’کمہار‘، ’نائی‘ یا ’مسلم شیخ‘، جو اپنی مہارت اور محنت سے معاشرہ چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تو پولیس اور دیگر اداروں کا رویہ سخت اور بعض اوقات تعصب آمیز ہوتا رہا ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جس پر کسی نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور جو انسانی وقار اور قانونی مساوات کے اصولوں کے برعکس ہے۔
یہ روایت دراصل برصغیر میں انگریز دور سے منتقل ہو کر پاکستان میں برقرار رہی، جہاں ریاستی ادارے شہریوں کی ذات اور سماجی حیثیت کو اہمیت دیتے ہوئے قانونی دستاویزات میں درج کرتے تھے۔ اس عمل نے معاشرتی امتیاز کو تقویت دی، اور ایک ایسے نظام کو جنم دیا جو رسمی طور پر قانونی نظر آتا تھا لیکن حقیقت میں نسلی اور سماجی تفریق پر مبنی تھا۔
تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے حال ہی میں ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے اس رواج کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ ایک کیس سماعت کے دوران ملزم ارشد المعروف بیلو کی سزا کے خلاف اپیل زیرِغور آئی، اور عدالت نے نہ صرف کیس کے حقائق کا جائزہ لیا بلکہ ایف آئی آر میں ذات کے درج ہونے کے اثرات پر بھی غور کیا۔

ذات کے نام پر تفریق کی روایت دراصل برصغیر میں انگریز دور سے منتقل ہو کر پاکستان میں برقرار رہی۔ (فائل فوٹو: ایکس)

عدالتی غور و فکر کے دوران ایک انتہائی اہم مسئلہ سامنے آیا۔ شکایت کنندہ کے نام کے ساتھ پولیس رپورٹ میں لفظ ’مسلم شیخ‘ درج تھا۔ عدالت نے اس پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کسی شہری کو اس کی ذات کے حوالے سے شناخت دینا نہ صرف انسانی وقار کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئینی اور قانونی طور پر بھی غلط ہے۔ قانون میں کسی شخص کو اس کی برادری یا پیشہ کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ’برادری، ذات، پیشہ یا سماجی مقام کی بنیاد پر شہری کی شناخت درج کرنا غیرقانونی اور غیراخلاقی ہے۔ یہ روایتی رویہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 33 کے منافی ہے، جو ہر شہری کو مساوات، انسانی وقار اور امتیاز سے بچاؤ کی ضمانت دیتا ہے۔‘
عدالت نے یہ بھی یاد دہانی کرائی کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق بھی کسی شہری کو اس کی ذات، مذہب یا سماجی پس منظر کی بنیاد پر تفریق کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے تمام صوبوں اور اسلام آباد کے انسپکٹر جنرلز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ایف آئی آر، چالان، گرفتاری کی رپورٹس یا کسی بھی قانونی دستاویز میں کسی بھی شخص کی ذات، برادری، قبیلے یا تبدیلی مذہب کا ذکر نہ کیا جائے۔ کسی بھی استثنا کی اجازت صرف اس صورت میں ہو گی جب تفتیشی افسر جرم کے تعلق سے تحقیقی مقصد کے لیے تحریری طور پر دلیل فراہم کرے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ یہ فیصلے کی نقول فوری طور پر تمام متعلقہ حکام کو ارسال کی جائیں تاکہ ہر فورم میں اس پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان میں پولیس کی کارروائیوں اور ایف آئی آر کی تحریر کا رواج صدیوں پرانا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا سماجی اور قانونی اثر وسیع ہے۔ اس سے نہ صرف پولیس کے روایتی تعصبات ختم ہوں گے بلکہ عدلیہ اور دیگر ادارے بھی شہریوں کے ساتھ غیرجانبدارانہ رویہ اختیار کریں گے۔ اب کسی شہری کی ذات، پیشہ یا مذہبی تبدیلی کے نام پر فرق نہیں کیا جا سکے گا اور تمام شہری برابری کے اصول کے تحت قانونی تحفظ کے مستحق ہوں گے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ اس سے قبل پولیس افسران کے نام درخواستوں میں ’بخدمت جناب‘ جیسے الفاظ نہ لکھنے کے بھی احکامات جاری کر چکی ہے۔

 

شیئر: