مملکت کے شمال میں ’ام رضمہ‘ گاوں جو کبھی پانی کا اہم ذریعہ تھا
مملکت کے شمال میں ’ام رضمہ‘ گاوں جو کبھی پانی کا اہم ذریعہ تھا
ہفتہ 21 فروری 2026 0:23
بادیہ نشینوں اور قافلوں کے لیے یہ گاوں بے حد اہمیت کا حامل رہا تھا (فوٹو، ایس پی اے)
مملکت کے شمالی علاقہ کی رفحاء کمشنری کے مشرق میں 180 کلومیٹر کی دوری پر (ام رضمہ) نامی قدیم قصبے میں آج بھی مٹی و گارے سے بنے چند مکان موجود ہیں جو یہاں آنے والوں کوعہدِ رفتہ کی داستان سناتے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق ام رضمہ نامی گاوں ماضی میں بادیہ نشینوں اور تجارتی قافلوں کے لیے بے حد اہم تھا۔
گاوں میں مٹی، گارے اور کچی اینٹوں سے بنے ایک صدی سے زیادہ قدیم مکانوں اور محلات کے کھنڈروں کو دیکھ کر اس وقت کی تہذیب و ثقافت اور طرز تعمیر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
ام رضمہ گاوں میں ایک سو سے زائد کنویں تھے (فوٹو، ایس پی اے)
ام رضمہ گاوں ماضی میں اپنے بے شمار کنووں کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ گاوں اور اس کے اطراف میں ایک سو سے زائد میٹھے پانی کے کنویں تھے جن کے آثار آج بھی واضح ہیں۔
کنوؤں کی وجہ سے یہ گاوں نہ صرف قافلوں کے لیے اہم تھا بلکہ بادیہ نشینوں کے لیے بھی پانی کا اہم ذریعہ مانا جاتا تھا اسی لیے اس گاوں کو ماضی میں بڑی اہمیت حاصل تھی۔
ماضی قریب میں سعودی ریاست کی تشکیل کے مراحل میں یہ گاوں اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے سرحدی کسٹم کا سینٹر بھی بن گیا تھا۔