مملکت کے شمال میں ’ام رضمہ‘ گاؤں کبھی پانی کا اہم ذریعہ تھا
مملکت کے شمالی علاقے میں واقع رفحاء کمشنری کے مشرق میں 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع (ام رضمہ) نامی قدیم گاؤں میں آج بھی مٹی اور گارے سے بنے چند مکانات موجود ہیں، جو یہاں آنے والوں کو عہدِ رفتہ کی داستان سناتے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق ام رضمہ نامی گاؤں ماضی میں بادیہ نشینوں اور تجارتی قافلوں کے لیے بے حد اہمیت کا حامل تھا۔
گاؤں میں مٹی، گارے اور کچی اینٹوں سے بنے ایک صدی سے زائد قدیم مکانات اور محلات کے کھنڈرات کو دیکھ کر اُس دور کی تہذیب و ثقافت اور طرزِ تعمیر کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ام رضمہ گاؤں ماضی میں اپنے بے شمار کنوؤں کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ گاؤں اور اس کے اطراف میں 100 سے زائد میٹھے پانی کے کنویں موجود تھے، جن کے آثار آج بھی واضح ہیں۔
کنوؤں کی وجہ سے یہ گاؤں نہ صرف قافلوں کے لیے اہم تھا بلکہ بادیہ نشینوں کے لیے بھی پانی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اسی لیے اس گاؤں کو ماضی میں بڑی اہمیت حاصل تھی۔

ماضی قریب میں سعودی ریاست کی تشکیل کے مراحل کے دوران یہ گاؤں اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے سرحدی کسٹم کا مرکز بھی بن گیا تھا۔