Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مجتبیٰ خامنہ ای حملے میں شدید زخمی ہوئے، ذہنی طور پر چاق چوند ہیں: امریکی اخبار

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایران کے نئے رہبر اعلٰی مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں، تاہم وہ ذہنی طور پر بہت چاق چوبند ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ہونے والے اسی فضائی حملے میں ان کے والد اور پیش رو علی خامنہ ای بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نیو یارک ٹائمز نے اس خبر کی تصدیق کے لیے ایران کے کئی عہدیداروں کا حوالہ دیا، تاہم اُن کا نام ظاہر نہیں کیا۔
نیو یارک ٹائمز نے جمعرات کو لکھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے پاسدارن انقلاب کی نظریاتی فوج میں جرنیلوں کو فیصلہ سازی کی ذمہ داری ’کم سے کم موجودہ وقت کے لیے‘ سونپی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی جانشینی کے بعد سے منظرِعام پر نہیں آئے اور انہوں نے صرف تحریری بیانات جاری کیے ہیں، جس سے اُن کی صحت اور زندگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں بھی کی گئیں۔
امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای ’28 فروری کے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، تاہم وہ ذہنی طور پر تندرست ہیں اور معمولات میں سرگرم ہیں۔‘
اسی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک ٹانگ کا تین بار آپریشن کیا گیا، اور اب امکان ہے کہ انہیں مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی۔‘
’اُن کے ایک ہاتھ کی سرجری ہوئی ہے اور وہ آہستہ آہستہ حرکت کر رہا ہے۔ اُن کا چہرہ اور ہونٹ بھی بُری طرح جُھلس چکے ہیں اور اس سے اُن کے لیے بولنا مشکل ہو گیا ہے۔‘
اخبار نے ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’بالآخر اُنہیں پلاسٹک سرجری کی ضرورت پیش آئے گی۔‘
’سکیورٹی وجوہات کو مدِنظر رکھتے ہوئے خامنہ ای تک رسائی انتہائی محدود کردی گئی ہے، وہ کسی خفیہ مقام میں رہتے ہیں اور صرف تحریری پیغامات ہی بھیجتے ہیں۔‘
اسی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پاسدارنِ انقلاب کے کمانڈر اُن سے ملاقات نہیں کرتے، تاہم صدر مسعود پزشکیان، جو دِل کے سرجن بھی ہیں، اُن کی دیکھ بھال کرنے والوں میں شامل ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے جرنیل جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کو ’حکومت کی بقا کے لیے خطرہ‘ سمجھتے تھے، اب اس خطرے پر قابو پا لیا گیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق ’یہ جرنیل فوجی حکمتِ عملی کے انچارج بھی رہے ہیں، جس میں آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی کا معاملہ بھی شامل ہے۔

شیئر: