امریکہ کا ایران پر حملے پر غور، معاہدے کا مسودہ جلد آنے والا ہے: تہران
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود نوعیت کی فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے نمائندوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں حالیہ مذاکرات کے بعد ایک ابتدائی معاہدے کے مسودے پر کام تیز کر دیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مذاکرات ’کچھ مثبت‘ رہے ہیں اور دونوں فریق آئندہ چند دنوں میں مسودہ تیار کر کے ایک دوسرے کو پیش کریں گے۔
ان کے مطابق ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں افزودگی روکنے کی کوئی پیشکش نہیں کی، اور نہ ہی امریکہ نے صفر افزودگی کا مطالبہ کیا ہے۔ عراقچی کا کہنا تھا کہ بات چیت کا محور یہ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن رہے اور مستقبل میں بھی اسی حیثیت میں قائم رہے۔
دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے بیانات میں سختی برقرار ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک تقریب میں کہا کہ اگر ایران نے مناسب اور ’معنی خیز‘ معاہدہ نہ کیا تو صورتحال ’بہت بری‘ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں ایران کے خلاف اپنی مہلت کو دس دن سے بڑھا کر پندرہ دن کر دیا ہے، تاہم ایرانی حکام اس مہلت کو ’الٹی میٹم‘ ماننے سے انکاری ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کے ساتھ ساتھ خطے میں فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کے بعد دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر بھی خلیج کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔ ادھر ایرانی بحریہ نے بھی آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں فوجی مشقیں کی ہیں، جس سے خطے میں باہمی طاقت کا مظاہرہ تیز ہو گیا ہے۔
ایران کی معیشت امریکی پابندیوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے، اور تہران جلد از جلد پابندیوں کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے۔ ایرانی سفارتکاروں کے مطابق پابندیوں کا خاتمہ ’ہر دن‘ ایران کے لیے اہم ہے کیونکہ اقتصادی مشکلات نے حالیہ مہینوں میں عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک مذاکرات کی رفتار بڑھانے کی بات کر رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی دھمکیوں کا تبادلہ بھی جاری ہے، جس سے یہ واضح ہے کہ خطے کی صورتحال کسی بھی وقت نیا رخ اختیار کر سکتی ہے۔
