ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے آگے بڑھنے کے کیا امکانات ہیں؟
ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے آگے بڑھنے کے کیا امکانات ہیں؟
ہفتہ 21 فروری 2026 20:28
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
پاکستان کا آئندہ میچ منگل 24 فروری کو انگلینڈ کے ساتھ شیڈول ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان اہم مقابلہ سنیچر کو بارش کے باعث منسوخ ہو گیا جس کے بعد دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا ہے۔
میچ برابر ہونے کے بعد اب آئندہ مقابلوں میں دونوں سائیڈز پر اضافی دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ سیمی فائنل تک رسائی کی دوڑ مزید سخت ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے اب ہر میچ فیصلہ کُن حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان کا اگلا مقابلہ منگل 24 فروری کو انگلینڈ سے ہوگا جبکہ نیوزی لینڈ اور سری لنکا 25 فروری کو مدِمقابل آئیں گے۔
اعدادوشمار کے مطابق انگلینڈ کے خلاف پاکستان کا ریکارڈ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ ٹی20 ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان اب تک انگلینڈ کو شکست نہیں دے سکا اور دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے تینوں میچز انگلینڈ کے حق میں رہے۔
تاہم کرکٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپن بولرز کے لیے سازگار کولمبو کی وکٹ پاکستان کے بولنگ اٹیک، خصوصاً سپنرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم بھی اس ٹورنامنٹ میں تاحال فارم میں دکھائی نہیں دی۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان میزبان سری لنکا کے خلاف شیڈول 28 فرورری کے میچ میں ممکنہ صورت حال بھی بن سکتی ہے۔ اگرچہ سری لنکا کو حال ہی میں زمبابوے کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا، مگر اپنے ہوم گراؤنڈ اور کنڈیشنز میں وہ اب بھی ایک مضبوط حریف سمجھی جاتی ہے۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ سری لنکا کے موسم کو دیکھتے ہوئے آئندہ میچز میں بارش کا امکان بھی موجود ہے۔ اگر پاکستان کے کسی اور میچ میں بھی واش آؤٹ کی صورت حال پیدا ہوئی یا ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پھر اسِ کی سیمی فائنل تک رسائی کی اُمیدیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کو نہ صرف اپنے آئندہ میچز جیتنے کی ضرورت ہے بلکہ نیٹ رن ریٹ اور دیگر نتائج پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ سپر ایٹ مرحلہ اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں ہر اوور اور ہر پوائنٹ کی اہمیت دو گنا ہو گئی ہے اور معمولی غلطی بھی ٹیم کے لیے بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
اگر دو ٹیموں کا نیٹ رن ریٹ بھی برابر ہو جائے تو پھر ہیڈ ٹو ہیڈ میچز کے نتائج دیکھے جائیں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
کوئی ٹیم سیمی فائنل میں کیسے پہنچے گی؟
اگر کسی گروپ میں دو یا دو سے زائد ٹیمیں برابر پوائنٹس حاصل کر لیں تو سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والی دو ٹیموں کا فیصلہ اس طریقے سے کیا جائے گا۔ زیادہ فتوحات کی بنیاد پر برتری:
جس ٹیم نے سب سے زیادہ میچز جیتے ہوں گے، وہ پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کر لے گی اور سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر فیصلہ:
اگر دونوں ٹیموں کے پوائنٹس اور فتوحات برابر ہو جائیں، تو بہتر نیٹ رن ریٹ رکھنے والی ٹیم سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر جائے گی۔ ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ:
اگر دو ٹیموں کا نیٹ رن ریٹ بھی برابر ہو جائے تو اُن کے درمیان کھیلے گئے دوطرفہ مقابلوں (ہیڈ ٹو ہیڈ میچز) کے نتائج دیکھے جائیں گے۔ پہلے ان میچز کے نتائج دیکھے جائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو انہی میچز کا نیٹ رن ریٹ مدِنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ آئی سی سی رینکنگ کی بنیاد پر فیصلہ:
اگر اس سب کے باوجود دونوں ٹیمیں برابر رہتی ہیں تو آئی سی سی ٹی20 انٹرنیشنل ٹی20 رینکنگ کے مطابق بہتر پوزیشن رکھنے والی ٹیم سیمی فائنل میں جگہ بنا لے گی۔ اس کے لیے چھ فروری 2026 تک کی رینکنگ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔