گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ پاکستانی معیشت کے لیے کتنا فائدہ مند؟
گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ پاکستانی معیشت کے لیے کتنا فائدہ مند؟
ہفتہ 21 فروری 2026 7:36
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ ’ہمیں مکمل طور پر تیار شدہ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ آٹو پارٹس اور الیکٹرک وہیکلز پر بھی سنجیدہ سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو طویل عرصے تک ایک ایسی صنعت سمجھا جاتا رہا جو صرف مقامی ضرورت پوری کرنے کی کوشش ہی کر سکتی ہے مگر حالیہ سرکاری اعداد و شمار اس تاثر میں بتدریج تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، اور مستقبل میں پاکستان کو بڑی تعداد گاڑیاں برآمد کرنے والے ممالک کی صف میں شامل کر سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مالی سال 23-2022 سے 25-2024 کے دوران پاکستان میں اسمبل ہونے والی مختلف انجن کیپیسٹی کی مجموعی طور پر 434 گاڑیاں بیرونِ ملک برآمد کی گئیں جن کی کل مالیت ایک ارب 41 کروڑ 99 لاکھ 67 ہزار 117 روپے رہی۔
مالی سال 23-2022 میں 100 گاڑیاں تقریباً نو کروڑ 47 لاکھ روپے مالیت کی برآمد ہوئیں، 24-2023 میں یہ تعداد 107 یونٹس تک پہنچی جن کی مالیت 38 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد رہی، جبکہ 25-2024 میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور تقریباً 93 کروڑ 69 لاکھ روپے مالیت کی 227 گاڑیاں بیرونی منڈیوں کو بھیجی گئیں۔
یوں تین برسوں میں نہ صرف یونٹس کی تعداد میں اضافہ ہوا بلکہ ویلیو میں بھی کئی گنا بہتری آئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یا تو زیادہ قیمت والی گاڑیاں برآمد ہوئیں یا نئی اور بہتر مارکیٹس تک رسائی حاصل کی گئی۔
یہ گاڑیاں جاپان، افغانستان، قطر، متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ، لبنان، لائبیریا، کینیا، سولومن آئی لینڈز، نائجیریا، امریکہ، جبوتی، موزمبیق، کیمن آئی لینڈز، سری لنکا، چین، برونائی دارالسلام، گھانا، ٹوگو اور بنگلہ دیش سمیت 20 ممالک کو بھیجی گئیں۔ برآمد کنندگان میں ملک کی بڑی اسمبلرز کمپنیاں شامل ہیں اور برآمد کی جانے والی مصنوعات میں سیڈان گاڑیاں، سوزوکی ماڈلز، الیکٹرک رکشے، منی وینز اور سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز شامل ہیں۔
اس تنوع سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی مینوفیکچررز نے مخصوص علاقائی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مصنوعات کی پیشکش ترتیب دی ہے، تاہم مجموعی قومی تناظر میں ان اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آتا ہے۔
پاکستان کی مجموعی برآمدات حالیہ برسوں میں تقریباً 27 سے 31 ارب ڈالر کے درمیان رہی ہیں۔ اگر آٹو گاڑیوں کی ان تین برسوں کی مجموعی برآمدی مالیت کو ڈالر میں تبدیل کیا جائے تو یہ تقریباً 50 سے 60 لاکھ ڈالر کے مساوی رقم بنتی ہے، جو قومی برآمدات کا نہایت محدود حصہ ہے۔ اگر آٹو پارٹس کی برآمدات کو بھی شامل کر لیا جائے تو مکمل آٹو سیکٹر کا حصہ عمومی طور پر ایک فیصد سے کم ہی رہتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو 434 گاڑیوں کی برآمد ایک مثبت علامت ضرور ہے مگر اسے قومی برآمدی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہو گا۔
حکومت کی آٹو ڈیویلپمنٹ پالیسیوں میں یہ ہدف رکھا گیا تھا کہ پاکستان کو محض مقامی کھپت کی منڈی سے نکال کر برآمدی مرکز بنایا جائے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
آٹو انڈسٹری سے وابستہ ایچ ایم شہزاد کے مطابق ’تین برسوں میں یونٹس کا دوگنا ہونا ایک حوصلہ افزا رجحان ہے، مگر اصل امتحان تسلسل برقرار رکھنے کا ہے۔ اگر ہم واقعی برآمدی معیشت بننا چاہتے ہیں تو ہمیں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اور پھر لاکھوں یونٹس کی سطح پر سوچنا ہو گا۔‘
انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’25-2024 میں ویلیو میں جو اضافہ نظر آ رہا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی کمپنیاں بیرونی معیار اور سرٹیفکیشن کی طرف توجہ دے رہی ہیں، لیکن عالمی مسابقت میں جگہ بنانے کے لیے لاگت، توانائی اور پالیسی استحکام بنیادی عوامل ہیں۔‘
حکومت کی آٹو ڈیویلپمنٹ پالیسیوں میں یہ ہدف رکھا گیا تھا کہ پاکستان کو محض مقامی کھپت کی منڈی سے نکال کر برآمدی مرکز بنایا جائے، مگر عملی طور پر صنعت کو ڈالر کی قلت، درآمدی خام مال پر انحصار، توانائی کی بلند قیمتوں اور پالیسیوں کے عدم تسلسل جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ جب مقامی پیداوار ہی اتار چڑھاؤ کا شکار ہو تو برآمدی آرڈرز کا مستقل حصول اور بروقت تکمیل ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
ایچ ایم شہزاد کے مطابق ’اگر لوکلائزیشن کی شرح میں حقیقی اضافہ نہ ہوا اور مقامی پیداواری استعداد نہیں بڑھی تو برآمدات کا یہ اضافہ وقتی ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمیں مکمل طور پر تیار شدہ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ آٹو پارٹس اور الیکٹرک وہیکلز پر بھی سنجیدہ سرمایہ کاری کرنا ہو گی کیونکہ عالمی رجحان تیزی سے اسی سمت جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں صرف اسلمبرز مددگار نہیں ہو سکتے بلکہ مقامی سطح پر مکمل کارسازی کی طرف جانا ہو گا۔‘
اگر آٹو گاڑیوں کی ان تین برسوں کی مجموعی برآمدی مالیت کو ڈالر میں تبدیل کیا جائے تو یہ تقریباً 50 سے 60 لاکھ ڈالر کے مساوی رقم بنتی ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ماہرین کے مطابق 25-2024 میں برآمدات میں نمایاں تیزی آئی ہے اور پاکستانی اسمبلرز نے 20 ممالک تک رسائی حاصل کر لی ہے، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم قومی برآمدی ڈھانچے میں اس صنعت کا حصہ ابھی بھی محدود ہے اور اسے خاطر خواہ سطح تک پہنچانے کے لیے پالیسی کا تسلسل، مسابقتی لاگت، مقامی پرزہ جات کی تیاری میں اضافہ اور علاقائی تجارتی معاہدوں سے بہتر استفادہ ناگزیر ہو گا۔