Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آوارہ کتوں کا شیلٹر ہوم، ’لوگ کہتے تھے یہاں فرشتے نہیں آئیں گے‘

’لوگ ہمارے شیلٹر پر اینٹیں پھینک کر کہتے تھے کہ یہاں فرشتے نہیں آئیں گے، ان کتوں کو یہاں سے ہٹا دو۔‘
 یہ الفاظ خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور سے تعلق رکھنے والی زیبا مسعود کے ہیں، جنہوں نے 300 سے زائد آوارہ اور زخمی کتوں کے لیے ایک شیلٹر ہوم قائم کر رکھا ہے۔
ان کے اس شیلٹر ہوم کو ابتدا میں مقامی لوگوں کی مخالفت، جرگوں کے دباؤ اور یہاں تک کہ پتھراؤ اور دیسی ساختہ بموں کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود زیبا مسعود نے ہمت نہیں ہاری اور آج ان کا یہ شیلٹر چارسدہ کے علاقے سردریاب میں آبادی سے دور وسیع رقبے پر قائم ہے۔
زیبا مسعود نے ابتدا پشاور کے کنال روڈ پشتخارہ کے قریب سے کی، لیکن شدید مخالفت کے بعد انہیں وہاں سے منتقل ہونا پڑا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں کہا جاتا تھا کہ یہاں سے نکل جائیں، یہاں فرشتے نہیں آئیں گے۔ شیلٹر پر پتھر اور بم تک پھینکے گئے، جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ جانوروں کی حفاظت کے لیے جگہ بدلنا ضروری ہے۔‘
چارسدہ کے علاقے سردریاب میں اب ان کا شیلٹر آبادی سے کافی فاصلے پر قائم ہے۔ یہاں زخمی، معذور اور حادثات کا شکار جانوروں کو پناہ، علاج اور خوراک فراہم کی جاتی ہے۔
زیبا مسعود کہتی ہیں کہ ’زیادہ تر جانور شدید زخمی حالت میں لائے جاتے ہیں، جن میں حادثات کا شکار یا پھر ڈاگ فائٹس، تشدد یا گولی لگنے جیسے واقعات میں زخمی ہونے والے جانور شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات جانوروں کے اعضا تک کاٹنے پڑتے ہیں۔‘
زیبا مسعود نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں جانوروں کی بحالی اور دیکھ بھال کے لیے مؤثر سرکاری نظام موجود نہیں، جس کے باعث زخمی جانور بروقت علاج نہ ملنے پر سڑکوں پر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ ہماری پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جانور کی مکمل ری ہیبیلیٹیشن کی جائے۔‘

زیبا کے مطابق ’لوگ اچھی نسلوں کے کتے مانگتے ہیں، سٹریٹ ڈوگز کو کوئی نہیں اپناتا‘ (فوٹو: اردو نیوز)

انہوں نے کہا کہ ’جانوروں کے صحت یاب ہونے کے بعد ان کی سپے، نیوٹرنگ اور ویکسینیشن کی جاتی ہے، تاکہ ان کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ روکا جا سکے۔‘
سپے اور نیوٹرنگ کیا ہوتا ہے؟
سپے اور نیوٹرنگ افزائش نسل کو کنٹرول کرنے کے طبی طریقے ہیں، جو آوارہ کتوں اور بلیوں کی تعداد کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر استعمال ہوتے ہیں۔
’لوگ اچھی نسلوں کے کتے مانگتے ہیں، سٹریٹ ڈوگز کو کوئی نہیں اپناتا‘
زیبا مسعود نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پاکستان میں آوارہ کتوں کو گود لینے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ اچھی نسل کے کتے مانگتے ہیں، سٹریٹ ڈوگز کو کوئی نہیں اپنانا چاہتا۔ اگر ایڈاپشن ہو تو شیلٹر پر بوجھ کم ہو سکتا ہے، مگر یہاں یہ تصور ابھی عام نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’شیلٹر کے تمام اخراجات نجی طور پر برداشت کیے جاتے ہیں، جن میں خوراک، ادویات اور عملے کی تنخواہیں شامل ہیں۔ اسلام آباد سے وزٹنگ سرجن بھی آتے ہیں جبکہ شیلٹر کا اپنا کلینک ہے جس میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ موجود رہتا ہے۔ ایک زخمی جانور کو مکمل صحت یاب ہونے میں چھ ماہ سے ایک سال تک لگ سکتا ہے۔‘

آوارہ کتوں سے انسانوں کو سب سے بڑا خطرہ ریبیز کی صورت میں لاحق ہوتا ہے (فوٹو: اردو نیوز)

آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور ریبیز کا خطرہ
خیبر پختونخوا میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 87 ہزار سے زائد ڈاگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 27 ہزار زیادہ ہیں۔
محکمۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ پشاور میں بھی ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
آوارہ کتوں سے انسانوں کو سب سے بڑا خطرہ ریبیز کی صورت میں لاحق ہوتا ہے۔ ریبیز ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ جانور کے کاٹنے یا خراش لگنے سے منتقل ہوتی ہے اور اگر بروقت ویکسینیشن نہ کی جائے تو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چارسدہ ڈاکٹر واسع اللہ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ریبیز تقریباً تمام ممالیہ جانوروں میں پائی جا سکتی ہے، جن میں کتے، لومڑیاں اور چمگادڑ شامل ہیں۔‘
ان کے مطابق آوارہ جانوروں کی ویکسینیشن نہ ہونے کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’اگر کسی شخص کو آوارہ کتا کاٹ لے تو فوری طور پر زخم کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے اور لازمی ویکسینیشن کروانی چاہیے۔ ریبیز ویکسین ایک مکمل شیڈول کے تحت دی جاتی ہے، جس میں ابتدائی ڈوز کے بعد مخصوص دنوں میں مزید انجیکشن شامل ہوتے ہیں۔‘

زیبا  کے مطابق اب تک شیلٹر میں سینکڑوں ویکسینیشنز اور سپے و نیوٹرنگ کے عمل مکمل کیے جا چکے ہیں۔‘ (فوٹو: اردو نیوز)

ڈاکٹر واسع اللہ کے مطابق اگر ریبیز کی علامات مکمل طور پر ظاہر ہو جائیں تو مریض کے بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں، اس لیے بروقت ویکسینیشن ہی واحد مؤثر بچاؤ ہے۔
آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد: یہ صرف جانوروں کا نہیں، کمیونٹی کا مسئلہ بھی ہے
زیبا مسعود کہتی ہیں کہ ’ایک مادہ کتا ہر چھ ماہ میں اوسطاً کئی بچے پیدا کر سکتی ہے، اور یہی تیزی سے بڑھتی ہوئی افزائش سڑکوں پر آوارہ کتوں کی بڑی تعداد کی بنیادی وجہ ہے۔ جب تک سپیے، نیوٹرنگ اور ویکسینیشن کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘
ان کے مطابق اب تک شیلٹر میں سینکڑوں ویکسینیشنز اور  سپے و نیوٹرنگ کے عمل مکمل کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم جتنا کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں۔ مخالفت کے باوجود یہ کام جاری رکھیں گے، کیونکہ یہ صرف جانوروں کا نہیں بلکہ انسانوں کی حفاظت کا بھی معاملہ ہے۔‘

 

شیئر: