Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ویزہ خود لائیں، اخراجات واپس پائیں‘، بلوچستان حکومت کا نیا بیرون ملک روزگار پروگرام

خلیجی ممالک جانے کے لیے ہنرمند اور غیر ہنرمند دونوں طرح کے افراد پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)
بلوچستان حکومت نے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں روزگار کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے مالی معاونت کا ایک نیا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت اپنی مدد آپ کے تحت بیرون ملک جانے والوں کو اخراجات کی رقم ری فنڈ (واپس) کی جائے گی۔
بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) کے مینجنگ ڈائریکٹر حمود الرحمان کے مطابق ’وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بیرونِ ملک روزگار کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے خصوصی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔‘
’اس منصوبے کے تحت وہ نوجوان جو اپنی مدد آپ کے تحت ورک ویزہ حاصل کرتے ہیں اور بیرونِ ملک روزگار کے لیے جاتے ہیں اُن کے اخراجات بلوچستان حکومت بی ٹیوٹا کے ذریعے برداشت کرے گی۔‘
حمود الرحمان نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے تحت رجسٹریشن کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اب تک قریباً 300 افراد رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔‘
انہوں نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ پہلے سے اپنے بینک اکاؤنٹس کھول لیں تاکہ وہ ملنے والا چیک کیش کروا سکیں۔ 
پروگرام میں حصہ لینے کے لیے نوجوانوں کا بلوچستان میں رہائشی ہونا ضروری ہے اور وہ اپنا ڈومیسائل یا مقامی سرٹیفیکیٹ پیش کریں۔
حمود الرحمان نے بتایا کہ اب تک 300 رجسٹرڈ افراد میں سے 100 کے پاس یہ دستاویزات موجود نہیں تھیں جس کے باعث ان کے چیک تقسیم نہیں کیے جا سکے۔
بی ٹیوٹا کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو منصوبے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے صرف وہ افراد مستفید ہو سکتے ہیں جن کے پاس ورک ویزہ، پروٹیکٹر، میڈیکل سرٹیفیکیٹ اور ٹکٹ موجود ہوں۔‘
’اس میں ہنرمند اور غیر ہنرمند دونوں طرح کے افراد شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس منصوبے سے تجارت، سیاحت یا کسی دوسرے مقصد کے لیے جانے والے مستفید نہیں ہو سکتے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت صرف ویزہ، پروٹیکٹر، میڈیکل اور ٹکٹ کے اخراجات واپس کرے گی اور وہ رقم نہیں دی جائے گی جو ویزے کے حصول کے لیے ایجنٹس کو ادا کی گئی ہو۔‘

ورک ویزہ، پروٹیکٹر، میڈیکل سرٹیفیکیٹ اور ٹکٹ رکھنے والے نوجوان منصوبے سے مستفید ہو سکتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’اکثر خلیجی ممالک کے لیے ویزےکے اخراجات چار سے پانچ لاکھ روپے تک ہوتے ہیں جو حکومت واپس کرے گی۔اس منصوبے کو ’ملازمت آپ کی، ذمہ داری ہماری‘ کا سلوگن دیا گیا ہے۔
حمود الرحمان کہتے ہیں کہ بیورو آف امیگریشن کے کوئٹہ دفتر میں بی ٹیوٹا نے اپنا خصوصی ڈیسک قائم کر دیا ہے جہاں بیرونِ ملک جانے والے افراد ویزے کا پروٹیکٹر حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں اور وہیں ان کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔
بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) کے مینجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی رہ جائے تو وہ بی ٹیوٹا کے دفتر میں بھی رجسٹریشن کروا سکتا ہے۔‘
بی ٹیوٹا حکام کے مطابق رجسٹریشن کے بعد بیرونِ ملک جانے والوں کو ریفنڈ کی رقم ان کے ورثا کو چیک کے ذریعے دی جائے گی لیکن چیک متعلقہ شخص کے نام پر ہوگا اور صرف اسی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کیا جا سکے گا۔
’لہٰذا جن کے پاس بینک اکاؤنٹ نہیں، ان کے لیے پہلے اکاؤنٹ کھولنا ضروری ہے اسی طرح لوکل یا ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ بھی لازمی ہے۔‘
بی ٹیوٹا کے عہدے دار نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’اس پروگرام کے تحت 15 جنوری کے بعد بیرون ملک جانے والے ہی مستفید ہو سکتے ہیں۔‘

حکومت ملازمت حاصل کرنے والے شخص کو ویزہ، پروٹیکٹر، میڈیکل اور ٹکٹ کے اخراجات واپس کر دے گی (فائل فوٹو: روئٹرز)

’بلوچستان کے زیادہ تر نوجوان سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان میں روزگار کے لیے جاتے ہیں اسی لیے ابتدائی طور پر یہ پروگرام انہی ممالک تک محددو ہے۔‘
سنہ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق بلوچستان میں بے روزگاری کی شرح قریباً 21 فیصد ہے، یعنی ہر پانچ میں سے ایک شخص بے روزگار ہے جبکہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں سے 47 فیصد تعلیم اور روزگار سے محروم ہیں۔
صوبے میں صنعتوں اور فیکٹریوں کی کمی کے باعث زیادہ تر افراد زراعت یا سرکاری ملازمتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں غیر رسمی تجارت یا سمگلنگ بھی روزگار کا بڑا ذریعہ ہے، تاہم حالیہ برسوں کے دوران پابندیوں کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔
بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والوں میں بلوچستان کے شہریوں کی تعداد محدود رہی ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 1981 سے جنوری 2026 تک ایک کروڑ 42 لاکھ پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہوئے، ان میں بلوچستان کے ایک لاکھ 48 ہزار شہری تھے یعنی بلوچستان کا حصہ قریباً ایک فیصد بنتا ہے۔

پروگرام میں حصہ لینے کے لیے نوجوانوں کا بلوچستان میں رہائشی ہونا ضروری ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

گذشتہ پانچ سال کے دوران بلوچستان سے 29 ہزار 813 افراد روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے جن میں سب سے زیادہ 12 ہزار 770 افراد سعودی عرب، اس کے بعد 8141 افراد متحدہ عرب امارات گئے۔ 
اسی طرح 3806 افراد قطر، 3225 عمان، 623 بحرین، 323 جاپان، 204 چین جبکہ 105 افراد برطانیہ گئے۔ محدود تعداد آسٹریلیا، کویت، ملائیشیا، نیوزی لینڈ، امریکہ اور اٹلی جانے والوں کی بھی شامل ہیں۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق بلوچستان سے سالانہ پانچ سے آٹھ ہزار افراد ہی بیرونِ ملک جاتے ہیں۔ بی ٹیوٹا حکام کے مطابق بلوچستان حکومت اب اس تعداد کو بڑھانا چاہتی ہے۔
گذشتہ سال بلوچستان حکومت نے سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام شروع کیا جس کے تحت پانچ برسوں میں 30 ہزار نوجوانوں کو خلیجی اور یورپی ممالک بھیجنے کا ہدف رکھا گیا۔
تاہم یہ پروگرام بدنظمی کا شکار ہوا اور صرف چند سو افراد کو ہی خلیجی ممالک بھیجا جا سکا جبکہ کسی کو بھی یورپ نہیں بھیجا جا سکا۔
دو نجی کمپنیوں کو کروڑوں روپے کی پیشگی ادائیگی کے باوجود منصوبہ ناکام رہا جس پر نیب اور ایف آئی اے تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس کے بعد بی ٹیوٹا کے سربراہ کو بھی ہٹا دیا گیا تھا۔

 کوئٹہ میں کورین زبان کا تربیتی مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں 184 امیدوار تربیت مکمل کر چکے ہیں (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)

بی ٹیوٹا کے عہدے دار کے مطابق اب حکومت نے نیا طریقہ اپنایا ہے کہ نوجوان خود ورک ویزہ حاصل کریں اور حکومت ان کے اخراجات واپس کرے تاکہ بے ضابطگی کے امکانات کم ہوں اور نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
حکومت کو توقع ہے کہ اس پروگرام سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ بیرونِ ملک موجود نوجوانوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کے ذریعے مقامی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔
بی ٹیوٹا نے وزارت اوورسیز پاکستانیز کے ذیلی اداروں کے ساتھ بھی معاہدے کیے ہیں۔ 
بلوچستان کے نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کے قانونی مواقع فراہم کرنے کے لیے اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے تعاون سے کوئٹہ میں کورین زبان کا تربیتی مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں اب تک 184 امیدوار تربیت مکمل کر چکے ہیں۔
اس پروگرام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اب گوادر میں بھی اسی طرز کے ایک نئے تربیتی ادارے کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔

شیئر: