Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سرحد پار دہشت گردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے: صدر آصف زرداری

صدر نے کہا کہ پاکستان نے ایک طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا (فائل فوٹو)
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے اور پاکستان کے حالیہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اپنے عوام کے دفاع کے بنیادی حق پر مبنی ہیں اور یہ ان متعدد انتباہات کے بعد کیے گئے ہیں جن پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
اتوار کو ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’یہ گہری تشویش کا باعث ہے کہ کابل میں موجود ڈی فیکٹو حکام، جن کی حکومت کو اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی، نے افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو سرگرم رہنے کی اجازت دی ہے۔‘
پاکستان نے کہا تھا اس نے سنیچر کو رات گئے انٹیلی جنس بنیاد پر جوابی کارروائی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی طالبان اور اس کے اتحادیوں کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں 80 سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔
دوسری جانب افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حملوں کا ’موزوں اور نپا تلا جواب‘ دے گی۔
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے آٹھ فروری 2026 کے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے صدر مملکت نے یاد دلایا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ ’جب دہشت گرد گروہوں کو قومی سرحدوں سے باہر جگہ، سہولت یا استثنیٰ دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج پوری دنیا میں بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ افغانستان میں ایسی صورتحال پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں جہاں طالبان حکومت نے 9/11 سے پہلے جیسی یا اس سے بھی بدتر صورتحال پیدا کر دی ہے۔
صدر نے کہا کہ دوحہ معاہدے کے وقت افغان طالبان نے کہا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

پاکستان حالیہ دہشت گردوں حملوں کے بعد سکیورٹی کے انتظامات کر دیے گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے سلامتی کونسل کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو مزید تقویت دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے ’رکن ممالک کی ایک بڑی تعداد مسلسل یہ رپورٹ کر رہی ہے کہ داعش (آئی ایس آئی ایل کے) تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ المعروف ترکستان اسلامک پارٹی (ای ٹی آئی ایم/ٹی آئی پی)، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔‘
صدر مملکت نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کی یہ نشاندہی واضح کرتی ہے کہ ان تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیاں پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ واضح انتباہات اور بارہا رابطوں کے باوجود افغان حکام نے ان عناصر کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق اقدام نہیں اٹھایا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ آپریشن میں 80 سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

صدر نے کہا کہ پاکستان نے ایک طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائیوں کو سرحدی علاقوں کے قریب دہشت گردوں کی پناہ گاہوں تک محدود رکھا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ تشدد کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔

شیئر: