Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیرالہ میں بھی سُرخ پرچم سرنگوں، انڈیا میں بائیں بازو کی سیاست کا ایک دور کیسے ختم ہوا؟

انڈیا کی سیاسی تاریخ میں ایک بہت بڑی اور ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں بائیں بازو (لیفٹ ونگ) کی حکومت باقی نہیں رہی۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سوشلسٹ نظریات کے مضبوط گڑھ اور دنیا میں پہلی مرتبہ جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی کمیونسٹ حکومت کے علاقے کیرالہ میں بھی بائیں بازو کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پیر کی شام جب انڈیا کی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو سب سے بڑا اپ سیٹ جنوبی ریاست کیرالہ سے ملا۔
یہاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی قیادت میں قائم ’لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘ (ایل ڈی ایف) اپنی اکثریت کھو بیٹھا۔ وفاق میں اہم اپوزیشن جماعت کانگریس کی قیادت والے ’یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ‘ (یو ڈی ایف) نے 140 میں سے 98 نشستیں حاصل کر کے میدان مار لیا۔
کیرالہ اور کمیونسٹ سیاست کا رشتہ بہت پرانا اور تاریخی ہے۔
سنہ 1957 میں سی پی آئی نے یہاں پہلی مرتبہ انتخابات جیت کر حکومت بنائی تھی۔ یہ دنیا کی پہلی ایسی کمیونسٹ حکومت تھی جو سوویت یونین یا چین کے برعکس کسی انقلاب یا یک جماعتی نظام کے بجائے جمہوری اور آئینی راستے سے اقتدار میں آئی تھی۔

کیرالہ اور کمیونسٹ سیاست کا رشتہ بہت پرانا اور تاریخی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سنہ 1977 کے بعد سے اب تک انڈیا کی کسی نہ کسی ریاست میں بائیں بازو کی حکومت ہمیشہ موجود رہی لیکن اب یہ سلسلہ ٹوٹ چکا ہے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ پروفیسر افروز عالم نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے اس صورتحال کو بائیں بازو کا ایک بڑا بحران قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا ’بائیں بازو کی جماعتوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے نظریات اور عوامی مسائل کو ایک ایسی جدید سیاسی زبان میں منتقل کرنے میں ناکام رہیں جو آج کے نوجوانوں، متوسط طبقے اور غیر منظم شعبے کے مزدوروں کو اپیل کر سکے۔‘
’کیرالہ اور مغربی بنگال کے انتخابی نتائج اسی فکری اور لسانی بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔‘
ماضی میں بائیں بازو کی سیاست نے انڈیا کے کروڑوں دیہی علاقوں کے غریبوں کی زندگیوں میں بڑی تبدیلیاں لائیں۔
کیرالہ، مغربی بنگال اور تریپورہ جیسے صوبوں میں جہاں ان کی حکومتیں رہیں، وہاں لینڈ ریفارمز کے ذریعے غریبوں کو تحفظ دیا گیا۔

کمیونسٹ پارٹی کے اندرونی حلقے اب بھی اس نظریاتی تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

کیرالہ میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی وجہ سے یہ انڈیا کی واحد ریاست بنی جہاں شرح خواندگی 100 فیصد کے قریب پہنچی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی ترقی کے اشاریوں میں کیرالہ ہمیشہ سرفہرست رہا۔
تاہم یہ کامیابیاں لیفٹ فرنٹ کو مستقل زوال سے نہ بچا سکیں۔
مغربی بنگال جہاں انہوں نے سنہ 1977 سے سنہ 2011 تک مسلسل 34 سال راج کیا اور تریپورہ جہاں انہوں نے مجموعی طور پر 35 سال حکومت کی، وہاں سے رخصتی کے بعد بائیں بازو کی جماعتیں دوبارہ کبھی ابھر نہ سکیں۔
2026 کے ان انتخابات کے بعد اب ان دونوں ریاستوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی دائیں بازو کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا راج ہے۔
پروفیسر افروز عالم کے مطابق ’بی جے پی نے انڈیا کا سیاسی میدان ہی بدل دیا ہے۔ وہ صرف انتخابات نہیں لڑتی، بلکہ وہ سوچ، ثقافت، تاریخ اور شناخت کی جنگ لڑتی ہے۔‘

پروفیسر افروز کے مطابق بی جے پی نے انڈیا کا سیاسی میدان ہی بدل دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر بائیں بازو نے ڈیجیٹل کپیٹلزم، بے روزگاری اور گرین انرجی جیسے نئے دور کے مسائل پر اپنی زبان نہ بدلی تو وہ تاریخ کا محض ایک 'محترم حصہ' بن کر رہ جائیں گے۔‘
دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی کے اندرونی حلقے اب بھی اس نظریاتی تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سی پی آئی کے معروف رہنما اور نوجوان ایکٹیوسٹ این سائی بالاجی نے عرب نیوز کو بتایا کہ میدانِ جنگ یقیناً ناہموار ہے لیکن بائیں بازو سیاسی طور پر کمزور نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا ’اگر کوئی کمیونسٹ پارٹی کا بنیادی ڈھانچہ بدلنا چاہتا ہے تو وہ فلسفیانہ طور پر ایک سرمایہ دارانہ جماعت بن جائے گی۔ جب تک ہمارے عوام کے مادی حالات نہیں بدلتے، ہم اپنا نظریہ نہیں بدل سکتے۔‘

 

شیئر: