Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قصیم ریجن میں فش فارمنگ کے شعبے میں تیزی سے ترقی

قصیم ریجن میں فش فارمنگ کے شعبے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
نئی ٹیکنالوجی اور فوڈ سکیورٹی کو بہتر بنانے کے ساتھ وژن 2030 کے تحت زراعت کی سپورٹ کے لیے قومی عزم نے اس میں مدد دی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق قصیم ریجن میں فش فارمنگ کے تجربات میں کامیابی کے بعد مختلف طریقوں کے ذریعے مچھلیوں کی افزائش پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان میں کچے تالابوں اور کنکریٹ کے ٹینکوں میں فارمنگ کے جدید طریقہ کار کو اپنایا گیا ہے۔
ایک طریقہ ری سرکولیٹنگ ایکوا ایگریکلچر سسٹمز کا استعمال ہے جو پانی کے استعمال کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
فارمنگ میں سب سے زیادہ مقبول مچھلی ’تلاپیا ‘ ہے جبکہ کیٹ فش کی افزائش میں بھی کامیابی حاصل کی گئی ہے جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ٹینک بنائے گئے ہیں۔

قصیم ریجن میں فش فارمنگ سیکٹر اب مقامی معیشت اور علاقائی فوڈ سکیورٹی دونوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے اور روایتی کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کے ریجنل اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجینیئر صلاح العبدالجبار کا کہنا ہے کہ ’فش فارمنگ کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ مملکت کے وژن 2030 کے تحت ایک اہم سٹریٹیجک شعبہ ہے۔‘
آبی زراعت کے ماہر انجینیئر فھد العوھلی نے بتایا کہ ’کلوز فارمنگ ٹیکنالوجی، روایتی طریقے کے مقابلے میں مچھلیوں کی افزائش کے لیے زیادہ کامیاب ہے جس سے پیداوار پر بھی واضح فرق پڑتا ہے، پانی کا خرچ بھی نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس ٹیکنیک کے ذریعے پانی کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فش فارمنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے روشن امکانات موجود ہیں کیونکہ سپلائی چین اور پروسیسنگ کے نظام بہتر ہو رہے ہیں، مقامی مارکیٹ کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ شعبہ سرمایہ کاری کے لیے ایک امید افزا میدان ہے، مملکت ایکوا کلچر انڈسٹری میں اپنی علاقائی اور عالمی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

 

شیئر: