برطانیہ: اسلام مخالف ایکٹوسٹ ٹامی رابنسن انسداد دہشت گردی قانون کے تحت زیرحراست رہنے کے بعد رہا
ٹامی رابنسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہیں ہفتے کی شام تقریباً تین گھنٹے تک انسدادِ دہشت گردی اور بارڈر سکیورٹی ایکٹ کے تحت حراست میں رکھا گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ کے اسلام مخالف ایکٹوسٹ ٹامی رابنسن نے کہا ہے کہ انہیں ہفتے کے روز ہیتھرو ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا اور ان کا موبائل فون ضبط کر لیا گیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے وہ شمالی آئرلینڈ میں ہونے والے نسلی اور تارکینِ وطن مخالف فسادات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مسلسل سرگرم رہے تھے۔
ٹامی رابنسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہیں ہفتے کی شام تقریباً تین گھنٹے تک انسدادِ دہشت گردی اور بارڈر سکیورٹی ایکٹ کے تحت حراست میں رکھا گیا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا، ’میرا فون پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ براہِ کرم میرے قانونی دفاع کے فنڈ کے لیے مدد کریں۔‘
ٹامی رابنسن نے گزشتہ ہفتے بلفاسٹ میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بارے میں متعدد پوسٹس کی تھیں۔ یہ ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک شخص پر چاقو سے وحشیانہ حملہ دکھایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں متاثرہ شخص ایک آنکھ سے محروم ہو گیا۔ اس حملے کے الزام میں ایک سوڈانی شہری پر اقدامِ قتل کا مقدمہ کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار نہیں دے رہی۔ تاہم اس کے بعد ہونے والے فسادات میں مشتعل افراد نے اقلیتوں اور غیر ملکی نژاد افراد کے گھروں اور کاروباری مراکز کو نشانہ بنایا۔ برطانوی حکومت کے ایک وزیر نے ان واقعات کو ’نسلی تعصب پر مبنی غنڈہ گردی‘ قرار دیا۔
مقامی سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر سرگرم انتہا پسند دائیں بازو کے عناصر نے ان پرتشدد واقعات کو منظم کرنے یا انہیں ہوا دینے میں کردار ادا کیا۔
پولیس ترجمان نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ ہفتے کے روز چالیس برس کی عمر کے ایک شخص کو، جو روس سے ترکی کے راستے برطانیہ واپس آیا تھا، ہیتھرو ایئرپورٹ پر روکا گیا۔
ترجمان کے مطابق، ’اس شخص سے افسران نے پوچھ گچھ کی اور اس کے مواصلاتی آلات ضبط کر لیے گئے۔ بعد ازاں اسے رہا کر دیا گیا۔‘
