Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ میں میچ جیتنے کا جشن افراتفری کا شکار، ورلڈ کپ شٹل بس جلا دی گئی

نیویارک نِکس کی جیت کے بعد سینکڑوں شائقین سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد بدنظمی پھیل گئی (فوٹو: سکرین شاٹ)
امریکہ میں باسکٹ بال کا میچ جیتنے کی خوشی میں ہونے والا جشن افراتفری کا شکار ہو گیا جس میں ورلڈ کپ کی ایک شٹل بس کو آگ لگا دی گئی جبکہ ایک نوجوان کو گولی بھی لگی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق واقعہ مین ہیٹن میں سنیچر کی رات کو اس وقت پیش آیا جب این بی اے ایونٹ میں نیویارک نِکس نے حریف کو شکست دی اور اس کے سپورٹر جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکلے۔
اس دوران کچھ لوگ آتش بازی کرتے رہے جبکہ نعرے لگا کر بھی اپنی خوشی کا اظہار کرتے رہے۔
تاہم اس دوران ہی صورت حال خراب ہونا شروع ہوئی اور افراتفری پھیلنے کے بعد ورلڈ کپ کے شائقین کو لے جانے والی ایک بس کو آگ لگ گئی جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آگ لگا دی گئی۔ اسی طرح ایک نوجوان گولی لگنے سے بھی زخمی ہوا۔
نیو یارک نِکس نے 1973 کے بعد پہلی بار یہ چیمپیئن شپ جیتی ہے اور وہ تیسری بار فائنل میں پہنچی تھی۔ اس سے قبل وہ 1994 اور 1999 میں فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن ایک بار سان انتونیو سپرز اور دوسری مرتبہ ہوسٹن راکٹس سے شکست کھا گئی تھی۔
تاہم سنیچر کی رات ٹیم نے سان انتونیو سپرز کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔

ورلڈ کپ شٹل بس پر دھاوا

نیویارک پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ رات تقریباً دو بجے ٹائمز سکوائر میں جشن کے دوران صورت حال خراب ہونا شروع ہوئی اور اس دوران ایک نوجوان کو گولی لگی۔
ان کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔
 رپورٹس کے مطابق جشن رات گئے تک جاری رہا اور اس دوران ٹائمز سکوئر کے قریب سینکڑوں افراد نے بسوں کے اس قافلے کو گھیر لیا جو ورلڈ کپ کے شائقین کو لانے اور لے جانے کے لیے شٹل سروس کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
تقریباً 15 بسیں اس ہجوم میں پھنس گئیں جب وہ فٹ بال کے شائقین کو واپس لا رہی تھیں اور وہ مراکش اور برازیل کے درمیان ہونے والے میچ کے بعد لوگوں کو لے جا رہی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق کچھ افراد بسوں کی چھتوں پر چڑھ گئے جبکہ کچھ نے اندر گھس کر ڈرائیور کی سیٹ سنبھالی اور ڈرائیور کو نیچے اتار دیا گیا۔
اس دوران کرائے پر حاصل کی گئی ایسی ہی ایک پیلی بس کو آگ لگا دی گئی۔
موقع پر موجود ایک صحافی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے بس کو شعلوں کی لپیٹ میں دیکھا۔
ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ اس واقعے میں گولی لگنے سے زخمی ہونے والے نوجوان کے علاوہ کوئی زخمی ہوا ہے یا نہیں تاہم ہجوم نے تین مزید شٹل بسوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
خبر رساں ادارے کے بعد اس ہجوم میں ایک ایسے شخص کو بھی دیکھا گیا جس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ اس کو چوٹ کیسے لگی۔
اس موقع پر موجود 49 سالہ مراکشی نژاد کینیڈین یوسف صابر کا کہنا ہے کہ وہ بھی گھیرے میں آنے والی ایک بس میں سوار تھے، ان کا کہنا ہے کہ لوگ جشن منا رہے تھے مگر کسی حد تک پرتشدد انداز میں۔

پولیس کی کارروائی

پولیس کی جانب سے سڑکوں کو اس وقت رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا جب افراتفری کی صورت حال پھیلی اس کے بعد خصوصی لباس میں ملبوس اہلکار موقع پر پہنچے اور ہجوم کو منشتر کرنے کی کوششیں کیں۔

شیئر: