انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں مطلوب شیخ حسینہ دور کے بنگلہ دیش پولیس کے سربراہ دبئی سے گرفتار
امریکہ نے 2021 میں بے نظیر احمد پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزمات پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ (فوٹو: ڈھاکہ ٹریبیون)
بنگلہ دیش کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس بے نظیر احمد کو دبئی میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ صلاح الدین احمد نے اتوار کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جلد ہی وطن واپس لایا جائے گا۔
بے نظیر احمد، جو سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے قریبی سمجھے جاتے تھے، مئی 2024 کو اس وقت ملک چھوڑ گئے تھے جب ان پر غیر قانونی طور پر کروڑوں ڈالر کے اثاثے جمع کرنے کے الزامات پر عوامی غم و غصہ بڑھ گیا تھا۔
امریکہ نے 2021 میں ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے خوفناک نیم فوجی فورس ریپڈ ایکشین بٹالین کی قیادت کے دوران سینکڑوں افراد کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں میں کردار ادا کیا۔
وزیرِ داخلہ صلاح الدین احمد نے پارلیمان کو بتایا،’بے نظیر احمد کو 12 جون کو گرفتار کیا گیا اور انہیں جلد بنگلہ دیش واپس لایا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر احمد کے خلاف انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
صلاح الدین احمد کے مطابق،’یہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔ ان کوششوں کے ذریعے ہم قانون سے بالاتر ہونے اور سزا سے بچ نکلنے کی ثقافت کا خاتمہ کر سکیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم قوم کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ملزم، خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک نے اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، جس کے بعد وہ جلاوطنی پر مجبور ہو گئی تھیں۔
