’خوبصورت دور‘: رمضان میں جازان شہر جب ایک خاندان کا رنگ اختیار کر لیتا
جازان ریجن میں رمضان المبارک کی آمد ماضی کی یادوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہر برس اس ماہِ مبارک میں پرانی روایات کی تجدید کی جاتی ہے جسے ’الزمن الجمیل‘ (خوبصورت دور) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق جازان میں کھیتوں اور بازاروں کی رونقیں غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی ماند پڑ جاتیں اور ہر کوئی افطار کے لیے اپنے گھروں کو لوٹنے کی جلدی میں ہوتا تھا۔
عہدِ رفتہ میں افطار کے دسترخوان پر انواع و اقسام کی اشیا سجی نہیں ہوتی تھیں، مگر خوان بابرکت ہوا کرتے تھے۔ جازان میں رمضان کا دسترخوان سادگی سے عبارت ہوتا تھا۔
علاقائی روایت اور ثقافت سے بھرپور پکوانوں سے سجے خوان، جن میں العصیدہ، الحیسیہ اور المرسہ وغیرہ شامل تھے، لازمی طور پر سجائے جاتے تھے۔
دسترخوان کی خوبصورتی محض انواع و اقسام کے پکوانوں سے نہیں سجتی تھی بلکہ اس کے اطراف بیٹھے لوگوں سے خوان کی رونقیں بڑھ جایا کرتی تھیں۔ ہر کوئی دوسرے کے ساتھ دسترخوان شیئر کرنے کا خواہاں ہوتا تھا۔
غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی خوبصورت روایات کا آغاز ہوتا۔ مساجد نمازیوں سے بھر جاتیں، راتوں کو تلاوتِ قرآنِ کریم کی صدائیں ماحول کی خوبصورتی میں اضافہ کرتیں اور دلوں کو سکون بخشتی تھیں۔

نمازِ عشاء کے بعد سرمئی راتوں کا آغاز ہوتا۔ مرد مخصوص مقامات پر اکٹھا ہوتے اور مختلف موضوعات اور ماضی کے قصے سنائے جاتے۔ طویل ترین راتیں بھی یوں گزر جاتیں ’جیسے لمحاتی خواب ہوں۔‘
رات کے آخری پہر سحری کے لیے بزرگ سونے والوں کو بیدار کرتے۔ توپ کے گولوں کی گرج سے لوگ اٹھ جاتے تاکہ سحری کی تیاری کریں۔ اس کے ساتھ ہی علاقہ ایک بار پھر بیدار ہو جاتا اور چہل پہل عروج پر ہوتی۔
سحری کے روایتی پکوان ’ثرید‘ جو عام طور پر مکئی اور دودھ سے تیار کیا جاتا تھا، پیش کیا جاتا۔ اہلِ خانہ کی پسند کے مطابق اس میں خالص گھی اور شکر کا بھی اضافہ کیا جاتا تھا۔

عہدِ رفتہ میں رمضان میں جازان شہر ایک خاندان کا سا رنگ اختیار کر لیتا تھا۔ گھروں کے دروازے کھلے ہوتے۔ سحری و افطاری کے پکوانوں کا تبادلہ ہوتا، جس سے دلوں میں قربت اور محبت کو فروغ ملتا۔ کوئی بھوکا نہ سوتا اور نہ ہی تنہائی محسوس کرتا۔
اب اگرچہ زندگی بدل چکی ہے اور اس کے ساتھ کھانے کے طور طریقوں میں بھی تبدیلی آ چکی ہے، لیکن ان سب کے باوجود جازان میں رمضان کا ناتا ماضی سے برقرار ہے۔ آج بھی یہاں کے گھروں میں وہی روایات موجود ہیں جو برسوں سے چلی آ رہی ہیں۔