Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قانون محنت کی خلاف ورزیاں، سعودی عرب میں کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی ترامیم

اداروں کی درجہ بندی وہاں موجود کارکنوں کی تعداد کے مطابق کی گئی ہے(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزارتِ افرادی قوت نے مملکت میں ورک فورس کی فلاح و بہبود کے حوالے سے لیبر لا میں ہونے والی نئی ترامیم جاری کی ہیں۔
وزیر افرادی قوت کا کہنا ہے مملکت میں آجر و اجیر کے معاملات کو بہتر اور فریقین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قوانین میں ترمیم کی گئی ہے۔
یہ تبدیلیاں مختلف شعبوں سے متعلق ہیں جن میں کان کنی، معدنیات، مینٹیننس اور آپریشنل ضوابط میں کی جانے والی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
بیرون ملک سے افرادی قوت درآمد کرنے والے ادارے، گھریلو ملازمین اور مین پاور سیکٹر سے متعلق اداروں کے لیے ضوابط مقرر کیے گئے ہیں۔
وزارتِ افرادی قوت کے مطابق اداروں کی درجہ بندی وہاں موجود کارکنوں کی تعداد کے مطابق کی گئی ہے۔
ایسے ادارے جہاں کارکنوں کی تعداد 20 سے کم ہے انہیں درجہ ’ج‘ میں رکھا گیا، 21 سے 49 کارکنوں والے ادارے ’ب ‘ اور 50 سے زائد اداروں کو ’الف‘ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
ان اداروں کی انتظامیہ کے لیے لازمی ہے کہ کارکنوں کی جسمانی صحت اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔
سنگین سیفٹی خلاف ورزی ریکارڈ ہونے کی صورت میں درجہ ’ج‘ کے ادارے پر 1500 ریال جبکہ ’ب‘ پر 2500 اور الف پر 5000 ریال جرمانہ عائد کیا جائےگا۔
آجر پر لازم ہوگا کہ وہ کام کی جگہوں پر ہیلتھ  اینڈ سیفٹی ضوابط کے نکات عربی اور انگلش میں واضح طورپر تحریر کریں، ایسا نہ کرنے کی صورت میں غیرسنگین خلاف ورزی درج کی جائے گی۔
 درجہ ’ج‘ کے اداروں پر 300 ، درجہ ’ب‘ پر 500 اور درجہ ’الف‘ کے اداروں پر ایک ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائےگا۔
ضوابط کے مطابق کارکنوں پر لازم ہے کہ وہ سیفٹی ضوابط پرعمل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں 300 ریال فی کارکن جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
آجر کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ کام کی جگہ پر فائرفائٹنگ سسٹم نصب کرے ایسا نہ کرنا ضوابط کی خلاف ورزی شمار ہوگی اور 300 سے 1000 ریال تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
کارکنوں کو ممنوعہ اوقات میں براہ راست دھوپ میں کام کرنے پر مجبور کرنے کی صورت میں ایک ہزار ریال فی کارکن جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کو میڈیکل انشورنس فراہم نہ کرنا قانون شکنی تصور کی جائے گی، اس صورت میں 300 سے ایک ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔
قانونِ محنت کی شق 168 کے تحت 15 برس سے کم عمر لڑکوں سے کام لینے پر درجہ ’ج‘ کی کمپنی یا ادارے پر 1000 ریال جبکہ درجہ ’ب‘ پر 1500 اور درجہ ’الف‘ پر 2 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ خواتین کارکنوں کے لیے زچگی کے لیے مقررہ چھٹی نہ دینا بھی خلاف ورزی ہوگی جس پر ایک ہزار ریال جرمانہ مقرر ہے۔
وہ ادارے جہاں نائٹ شفٹیں لگائی جاتی ہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ مقررہ ضوابط پر عمل کریں ایسا نہ کرنے کی صورت میں فی کارکن 300 ریال جرمانہ ہوگا۔

 

شیئر: