فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کے منصوبوں کے لیے جب وفاقی ملازمین اور دیگر شہریوں نے پہلی بار رجسٹریشن فارم پُر کیے تو شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ ایک طویل انتظار بن جائے گا۔
ایسا انتظار جو برسوں پر محیط ہو گا، جس میں تنخواہوں سے کٹوتیاں جاری رہیں گی مگر زمین پر اینٹ رکھنے کی رفتار سُست پڑ جائے گی۔
مزید پڑھیں
-
پنشن اصلاحات ضروری ورنہ یہ بوجھ ناقابل برداشت ہو گا، اسحاق ڈارNode ID: 775446
کسی نے اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے گھر کا خواب دیکھا تھا، کسی نے بیٹی کی شادی سے پہلے اپنی چھت مکمل کرنے اور اس میں شفٹ ہونے کی امید باندھی تھی، اور کسی نے بڑھتے ہوئے کرایوں کی اذیت سے نجات کا راستہ سمجھ کر اپنی جمع پونجی جمع کرا دی تھی۔
مگر آج ڈیڑھ دہائی گزرنے کے بعد بھی ہزاروں خاندان نقشوں، اجلاسوں اور نظرِ ثانی شدہ منصوبہ بندیوں کے درمیان معلق کھڑے ہیں اور اور ہر سال نئی تاریخ دے کر انتظار کی گھڑیاں مزید طویل کر دی جاتی ہیں۔
سرکاری فائلوں میں اربوں روپے کی وصولی کا حساب موجود ہے، اجلاسوں کی کارروائیاں مکمل ہیں مگر سوال وہی ہے جن خوابوں کی بنیاد 2009 میں رکھی گئی تھی، وہ حقیقت کی چھت کب اوڑھیں گے؟
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے اسلام آباد اور راولپنڈی میں جاری منصوبوں کی تازہ ترین صورت حال اسی امید اور انتظار کی مِلی جُلی تصویر پیش کرتی ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اتھارٹی نے اپنے بڑے رہائشی منصوبوں کے لیے رجسٹریشن مہم کا آغاز سنہ 2009 میں کیا تھا۔ ابتدا میں ‘پہلے آئیے پہلے پائیے’ کی بنیاد پر ممبرشپ دی گئی اور درخواست گزاروں سے مختلف مدات میں رقوم وصول کی گئیں۔ سنہ 2015 کے بعد عبوری آفر لیٹر اور ایکسیپٹینس لیٹر جاری کیے جانے لگے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتھارٹی نے مختلف منصوبوں کی مد میں مجموعی طور پر قریباً 56 ارب روپے سے زائد رقم جمع کی، جو زمین کی خریداری، ترقیاتی اخراجات اور انتظامی امور پر خرچ کی جانا تھی۔
یہی وہ سرمایہ ہے جو ہزاروں سرکاری ملازمین نے اپنی جمع پونجی سے ادا کیا اور اب انہی منصوبوں پر پیش رفت ان کی دلچسپی کا سب سے بڑا محور ہے۔

فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت نو منصوبے زیرِ تکمیل ہیں جن پر گذشتہ 16 برسوں سے کام جاری ہے۔
انہی منصوبوں کے گردونواح میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز نے اسی عرصے میں لاکھوں کی تعداد میں گھر اور پلاٹس بنا کر بیچ دیے اور اب وہاں آبادیاں موجود ہیں جبکہ یہ سرکاری منصوبے بعض مقامات پر تو کاغذی کارروائی سے بھی آگے نہیں بڑھ سکے۔
بارہ کہو میں واقع گرین انکلیو ون ہاؤسنگ سکیم پر ترقیاتی کاموں کا آغاز سنہ 2020 میں ہوا۔ 3375 کنال پر مشتمل اس منصوبے میں 3282 پلاٹس شامل ہیں۔
سرکاری دستاویز کے مطابق 54 فیصد فزیکل کام مکمل ہو چکا تھا کہ اگست 2024 میں ترقیاتی سرگرمیاں رُک گئیں۔ وجہ یہ بنی کہ مشترکہ شراکت دار نے معاہدے کو مقررہ قیمت سے پیمائش کی بنیاد پر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
معاملہ ایگزیکٹیو بورڈ کے متعدد اجلاسوں میں زیرِ غور آیا اور نومبر 2024 میں سرکاری انجینیئرز کی ایک فنی ٹیم تشکیل دی گئی جس کی رپورٹ دسمبر 2025 میں پیش کی گئی۔
مرحلہ وار پیش رفت کے مطابق پہلے مرحلے کے مختلف حصے قریباً 38 تا 39 فیصد تک مکمل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کام دوبارہ شروع ہونے کے بعد قریباً ڈیڑھ سال میں منصوبہ مکمل کیا جا سکتا ہے، تاہم الاٹیز کی نظر اس بات پر ہے کہ عملی بحالی کب ہوتی ہے۔

اسی علاقے میں سکائی گارڈن ہاؤسنگ سکیم نسبتاً بہتر رفتار سے آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ 7333 کنال پر پھیلے اس منصوبے میں 5741 پلاٹس شامل ہیں۔ جسمانی پیش رفت قریباً 38 سے 39 فیصد کے درمیان ہے۔
سیکٹر اے میں 80 پلاٹس جولائی 2025 میں الاٹیز کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ مزید چھ بلاکس مئی، جون اور اگست 2026 تک مکمل ہونے کا ہدف رکھتے ہیں۔
اندازہ ہے کہ اگست 2026 کے اختتام تک 4348 پلاٹس قبضے کے لیے تیار ہوں گے۔ اگر یہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو ہزاروں خاندانوں کے لیے انتظار کی گھڑیاں کم ہو سکتی ہیں۔
اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 اور ایف 15 کا منصوبہ 10 ہزار 875 کنال پر محیط ہے اور اس میں 6800 پلاٹس شامل ہیں۔ یہ منصوبہ طویل عرصے تک عدالتی پیچیدگیوں کا شکار رہا۔
تاہم عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دیے جانے کے بعد معاملہ دوبارہ سماعت کے لیے بھیجا گیا۔ اگست 2025 میں ایگزیکٹیو بورڈ نے متعلقہ تعمیراتی ادارے کے ساتھ تصفیے اور منصوبے کی نظرِ ثانی شدہ لاگت کی منظوری دی۔
جنوری 2026 میں معاہدہ طے پایا اور فروری 2026 میں باقاعدہ آغاز کا خط جاری کیا گیا۔ منصوبے کی تکمیل کام شروع ہونے کے بعد تین برس میں متوقع ہے۔
پارک روڈ پر مارگلہ آرچرڈ منصوبہ 8 ہزار 380کنال پر مشتمل ہے اور اس میں 4611 پلاٹس شامل ہیں۔

اگست 2024 میں مفاہمتی یادداشت اور ستمبر 2025 میں سہ فریقی معاہدہ طے پایا۔ زمین فروری 2025 میں متعلقہ ادارے کے حوالے کی گئی۔
اس وقت سڑکوں اور پلاٹوں کی ہمواری اور درجہ بندی کا کام جاری ہے۔ تکمیل کا تخمینہ آغاز کے بعد قریباً دو برس رکھا گیا ہے، تاہم کام کی رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ کام اپنی طے شدہ مدت میں مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
سیکٹر جی 13 میں کشمیر ایوینیو اپارٹمنٹس کا منصوبہ 56 کنال پر مشتمل ہے اور اس میں 1467 فلیٹس شامل ہیں۔ کام کا آغاز مئی 2020 میں ہوا مگر رفتار سُست رہی اور اب تک قریباً 16 فیصد پیش رفت ہو سکی ہے۔
مئی 2024 میں نظرِ ثانی شدہ لاگت کی منظوری دی گئی جبکہ دسمبر 2024 میں ٹاور وار حکمت عملی منظور ہوئی۔ جنوری 2026 میں ایک ٹاور کے لیے منظوری نامہ جاری کیا گیا اور ضمانتی رقم جمع کرا دی گئی۔
تاہم بعض انتظامی امور کے باعث وضاحت کا عمل جاری ہے۔ تکمیل کا ہدف آغاز کے بعد تین برس رکھا گیا تھا اور چھ سال گزر جانے کے باوجود بھی ابھی کام پہلے مرحلے پر کھڑا ہے۔
راولپنڈی میں چکلالہ ہائٹس اپارٹمنٹس 508 کنال پر محیط بڑا منصوبہ ہے جس میں 3144 فلیٹس شامل ہیں۔ یہاں 51 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
بعض ٹاورز کا ڈھانچہ مکمل ہو چکا ہے اور اندرونی تکمیل کا کام جاری ہے جبکہ دیگر ٹاورز زیر تعمیر ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل مئی 2027 تک متوقع ہے اور موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ منصوبہ سب سے پہلے ثمر آور ہو سکتا ہے۔













