امریکہ ایران مذاکرات کا اگلا دور ’اسلام آباد‘ میں ہو گا: ترجمان وائٹ ہاؤس کی تصدیق
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات ممکنہ طور پر اگلے مرحلے میں وہیں (اسلام آباد میں) ہوں گے جہاں پچھلی بار ہوئے تھے۔
بدھ کو وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ ’میں صرف ایک اہم نکتہ پیش کرنا چاہتی ہوں جو صدر ٹرمپ کے لیے بہت اہم ہے۔‘
’پاکستانی اس سارے عمل میں غیر معمولی ثالث ثابت ہوئے ہیں اور ہم اُن کی دوستی اور اس معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو بے حد سراہتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس مذاکراتی عمل میں پاکستانی واحد ثالث ہیں۔ اگرچہ کئی ممالک نے اپنے تعاون کی پیش کش کی ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ رابطے کا یہ سلسلہ پاکستانیوں کے ذریعے ہی جاری رکھا جائے، اور اسی طرح یہ عمل آگے بڑھ رہا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی خبریں غلط ہیں۔‘
کیرولین لیویٹ نے مزید بتایا کہ ’آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ کردی گئی ہے، ناکہ بندی ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے بحری جہازوں کے لیے کی گئی ہے۔‘
ترجمان وائٹ ہاؤس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’چینی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔‘
منگل کے روز صدر ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا تھا کہ ’ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ’اگلے دو دنوں میں‘ پاکستان میں ہو سکتا ہے، کیونکہ پہلا دور ہفتے کے آخر میں بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گیا تھا۔‘
صدر ٹرمپ نے اسلام آباد میں موجود نیو یارک پوسٹ کے ایک رپورٹر سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو وہیں رہنا چاہیے، واقعی، کیونکہ اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے، اور ہم وہاں جانے کی طرف زیادہ مائل ہیں۔‘
