Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کرنے والے ایف بی آئی کے مزید اہلکار برطرف، ’قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ‘

اس بار ان اہلکاروں کو فارغ کیا گیا ہے جو مار اے لاگو میں دستاویزت چھپانے کے معاملے کی تحقیقات میں شامل تھے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کے حوالے سے کام کرنے والے مزید اہلکاروں کو فارغ کر دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے معاملے سے واقفیت رکھنے والے افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار ان اہلکاروں کو فارغ کیا گیا ہے جنہوں نے ریپبلکن کی چھپائی گئی خفیہ دستاویزات کی تحقیقات میں حصہ لیا تھا۔
یہ برطرفیاں صدر ٹرمپ کی جانب سے مقرر کیے گئے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے زیرنگرانی ہونے والے اسی سلسلے کی کڑی ہیں جس میں پچھلے برس بھی ایسے درجنوں ملازمین کو نکالا گیا تھا جنہوں نے یا تو صدر کے خلاف تحقیقات میں حصہ لیا تھا یا پھر جن کو انتظامیہ کے ایجنڈے کے خلاف سمجھا گیا تھا۔
پچھلے برس صدر ٹرمپ کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے محکمہ انصاف میں بھی پراسیکیوٹرز کی برطرفیاں ہوئی ہیں۔
ایف بی آئی ایجنٹس ایسوسی ایشن نے برطرفیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کو غیرقانونی اور قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
اس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’ایسی کارروائیاں افرادی قوت کو غیرمستحکم اور بیورو کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ قیادت پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں جبکہ بیورو کے مطلوبہ مقاصد کو پورا کرنے کی صلاحیت کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔‘
برطرفیوں کی اس تازہ کارروائی میں وہ ملازمین شامل ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی جانب سے مار اے لاگو ریزورٹ میں دستاویزات رکھنے کے معاملے پر تحقیقات میں حصہ لیا تھا۔
یہ ایک ایسا کیس ہے جو فلوریڈا کی ایک جائیداد کے بارے میں ہے اور اس کے نتیجے میں وفاقی استغاثہ کی جانب سے موجودہ صدر پر اپنے پہلے دور حکومت سے متعلق اعلیٰ خفیہ ریکارڈ اپنے پاس رکھنے کا الزام لگایا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔
اے پی کے مطابق اس معاملے سے براہ واقفیت رکھنے والے افراد نے ان برطرفیوں کے بارے میں تصدیق کی ہے اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

صدر ٹرمپ کے دوسری بار عہدہ سنبھالنے کے بعد ایف بی آئی سے پہلے بھی اہلکاروں کو فارغ کیا جا چکا ہے (فوٹو: اے پی)

ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ کُل 10 ملازمین کو فارغ کیا گیا جبکہ دوسرے نے بتایا کہ کم سے کم تعداد 10 ہے۔
ایف بی آئی نے ایسے ایجنٹوں کو بھی برطرف کیا ہے جنہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کے بارے میں تفتیش کی تھی۔
تحقیقات کے نتیجے میں ان پر فوجداری الزامات بھی لگے تاہم مار اے لاگو کیس کی طرح ان کو بھی نومبر 2024 میں صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد ان کو ایک طرف کر دیا گیا تھا کیونکہ محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ موجودہ صدر پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
یہ برطرفیاں اسی روز سامنے آئیں جب کاش پٹیل نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آئی نے صدر جو بائیڈن کے دور میں ان کے اور وائٹ ہاؤس کی موجودہ چیف آف سٹاف سوزی وائلز کے فون ریکارڈ طلب کیے تھے۔
اس کارروائی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ  یہ 2022 اور 2023 کے درمیان اس وقت ہوئی تھی جب وہ عام شہری تھے۔
اس سے قبل اے پی رپورٹ کر چکا ہے کہ 2022 میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے کاش پٹیل کو مار اے لاگو کیس کی تحقیقات کے ضمن میں گواہی کے لیے طلب کیا تھا۔

شیئر: