Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’امریکہ سے تعلقات اس کے رویے پر منحصر‘، کِم جونگ کا جوہری ہتھیار بڑھانے کا عزم

ایک ہفتے تک پیانگ یانگ جاری رہنے والے نویں کانگریس کا اختتام فوجی پریڈ پر ہوا (فوٹو: روئٹرز)
شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن نے کہا ہے کہ وہ ملک کے جوہری ہتھیاروں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے امکانات واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے جمعرات کو شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا چینل کے سی این اے میں رپورٹ ہونے والے ان کے بیان کا حوالہ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی مقتدر جماعت ورکرز پاٹی کے ایک ہفتے تک جاری رہنے والے نویں اجلاس کا اختتام بدھ کو دارالحکومت پیانگ یانگ میں فوجی پریڈ کے ساتھ ہوا۔
اس موقع پر کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ ملک کی بین الاقوامی حیثیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ اس نے اگلے پانچ برس کے لیے اہم پالیسی اہداف بھی طے کیے ہیں۔
ان کے مطابق ’یہ ہماری جماعت کا ایک مضبوط عزم ہے کہ اپنی قومی جوہری حیثیت کو مزید وسعت دیں اور ایک جوہری ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو پوری طرح استعمال کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے اور نیوکلیئر ذرائع میں اضافے کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔‘
تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کی جانب سے پچھلے برس تخمینہ لگایا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے پاس تقریباً 50 وار ہیڈز جمع ہو چکے ہیں جبکہ مزید 40 کی تیاری کے حوالے سے اس کے پاس کافی مواد موجود ہے اور وہ تیاری کے سلسلے کو تیز کر رہا ہے۔
کے سی این اے کا کہنا ہے کہ انہوں نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کا ذکر بھی کیا جن میں وہ بھی شامل ہیں جو پانی کے اندر سے داغے جا سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے حملہ آور نظام، بغیر پائلٹ ڈرونز اور دشمن کی سیٹلائٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
سرکاری میڈیا پر جاری ہونے فوجی پریڈ کی تصاویر میں فوجیوں کو ال سنگ سکوئر میں مارچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے قریب ہی کم جونگ اُن، ان کی بیٹی اور سینیئر حکام کھڑے ہیں۔
پریڈ کے دوران جنگی طیاروں نے پروازیں بھی کیں۔
تصاویر میں کوئی ویسا فوجی ہارڈویئر دکھائی نہیں دے رہا جیسا اکتوبر میں ہونے والی پریڈ کے موقع پر دکھایا گیا تھا اور نہ ہی کے سی این اے نے ان کا ذکر کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے پچھلے دور حکومت میں کم جونگ اون سے ان کی تین ملاقاتیں ہوئی تھیں (فوٹو: روئٹرز)

اس موقع پر کم کی بیٹی جن کو جوئی اے کے طور پر جانا جاتا ہے، کی موجودگی سے وہ قیاس آرائیوں بڑھیں گی جو ان کو جانشین کے طور پر تیار کرنے سے متعلق ہیں۔
انہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہونے کا اشارہ دیا تاہم ساتھ یہ بھی کہا کہ ’شمالی کوریا کا امریکہ پالیسی پر سخت مؤقف‘ بھی برقرار رکھے گا۔
’اگر امریکہ اپنی محاذ آرائی کی پالیسی ترک کر دے اور ہمارے ملک کی موجودہ حیثیت کا احترام کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم امریکہ کے ساتھ اچھے انداز میں نہ چلیں۔‘
انہوں نے ابھی تک صدر ٹرمپ کی مذاکرات کے حوالے سے پیشکش کو قبول نہیں کیا جبکہ ان سے پہلی ٹرم کے دوران تین ملاقاتیں بھی کی تھیں۔
یونیورسٹی آف نارتھ کورین سٹڈیز کے سابق صدر یانگ موجن کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھلا چھوڑا ہے تاہم ان کے یہ ریمارکس جوہری تخفیف کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ 31 مارچ سے دو اپریل تک چین کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ شمالی کوریا کے کچھ ماہرین اور جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کا اندازہ ہے کہ اس موقع پر کم جونگ کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہو سکتی ہے۔

شیئر: