Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ناسا کا چاند مشن، خلابازوں کے پاس آئی فون 17 پرو میکس کی دلچسپ کہانی

خلابازوں کے سپیس کیپسیول میں سلور رنگ کا آئی فون 17 پرو میکس زیرو گریوٹی میں معلق دیکھا جا سکتا ہے۔ (فوٹو: ناسا)
بدھ کا دن تاریخ میں ایک اہم دن تھا نہیں جب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے آرٹیمس ٹو خلائی مشن لانچ کیا جو چاند کے گرد چکر لگانے کے لیے چار خلا بازوں کو ساتھ لے کر گیا۔
یہ 50 برس سے زیادہ عرصے کے بعد انسانوں کا پہلا قمری سفر ہے جو ناسا کے دو سال میں انسان کو چاند پر اُتارنے کے منصوبے میں ایک سنسنی خیز شروعات بھی ہے۔
جہاں اس مشن کے دنیا بھر میں چرچے ہیں وہیں خلابازوں کو فراہم کی گئی اشیا لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں جن میں خاص ذکر ایپل کے فون آئی فون 17 پرو میکس کا ہے جو خلا باز اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ 
اس سے پہلے نجی خلائی سفر کرنے والے مسافر سمارٹ فون استعمال کر چکے ہیں، لیکن فروری میں ناسا نے پہلی بار خلا بازوں کو سمارٹ فون ساتھ لے جانے کی اجازت دی، تاکہ وہ خلائی ٹیکنالوجی کے معیار کی جانچ کر سکیں۔ اور جلد ہی آئی فون نے بھی خلا میں اپنی جگہ بنا لی۔
کمیونٹی خلائی صحافی اوون سپارکس نے ناسا کی ویڈیوز میں آئی فون کو دیکھا اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس کی نشاندہی کی۔ پہلی ویڈیو میں خلا باز مشن کی تیاری کرتے نظر آتے ہیں، جہاں ایک معاون خلائی لباس کی جیب میں سمارٹ فون رکھتا ہے۔ اگرچہ سپارکس اسے آئی فون قرار دیتے ہیں، لیکن پچھلا حصہ نظر نہ آنے کی وجہ سے درست ماڈل کی شناخت مشکل ہے۔
دیگر ویڈیوز زیادہ واضح ہیں جہاں ایک کلپ میں اوریون کے کیبن کے اندر ایک خلا باز فون کو خلا میں معلق حالت میں اپنے ساتھی کی طرف بڑھاتا ہے۔ فون گھومتا ہے اور اس کا تین کیمروں والا ابھار صاف نظر آتا ہے، جو آئی فون 17 پرو کی پہچان ہے۔ یہ غالباً سلور رنگ کا ماڈل تھا، نہ کہ 'کاسمک اورنج' (جو ایک دلچسپ انتخاب ہو سکتا تھا)۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو دائیں جانب ایک سیاہ دائرہ بھی نظر آتا ہے، جو کوئی خفیہ کیمرا نہیں بلکہ ویلکرو پیچ ہے، تاکہ کششِ ثقل میں فون کو لباس یا جہاز کے مختلف حصوں سے چپکایا جا سکے۔
راکٹ سائنسدان سکاٹ مینلی نے بھی ایک ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ '50 برس قبل ایپل کمپنی قائم ہوئی تھی اور آج خلاباز خلائی سفر پر آئی فون کا استعمال کر رہے ہیں۔'
ایپل نے تاحال اس مشن پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم فروری میں کمپنی کا کہنا تھا کہ ناسا کی منظوری 'پہلی بار آئی فون کو مدار اور اس سے آگے طویل استعمال کے لیے مکمل طور پر اہل قرار دے گی۔'
دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی فون کا پہلا خلائی سفر2011 میں ہوا تھا، جب دوآئی فون 4 ماڈلز سپیس شٹل میں لے جائے گئے تھے۔ سپیس ڈاٹ کام کے مطابق وہ عام استعمال کے لیے نہیں تھے بلکہ ان میں ایک خاص ایپ نصب تھی، جس میں چار مرحلہ وار ہدایات موجود تھیں تاکہ خلائی سٹیشن کے عملے کو تجربات انجام دینے میں مدد مل سکے۔
اس تاریخی سفر کے لیے، جو ان چار خلا بازوں کو اب تک کی تاریخ میں انسان کو خلا میں دور ترین مقام تک لے جائے گا، ناسا نے ان کے لیے متعدد سہولیات کا انتظام کیا ہے۔
کھانے پینے سے آغاز کیا جائے تو ان اشیا میں کافی، سبز چائے، لیموں کا شربت، انناس کا مشروب، چاکلیٹ ناشتے کا مشروب، ٹورٹیلا، سبزیاں، ناشتے کے لیے ساسیج، کاجو، بادام، میکرونی اینڈ چیز، پھول گوبھی، پڈنگ، بسکٹ اور دیگر اشیا شامل ہیں۔
مجموعی طور پر اس مینو میں 189 منفرد اشیا شامل ہیں، جن میں 10 سے زائد اقسام کے مشروبات، 9 طرح کے ذائقہ بڑھانے والے اجزاء اور 5 مختلف قسم کی چٹنیاں/ساسز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ خلا بازوں کے لیے ایک نہایت جدید ٹائلٹ نظام بھی موجود ہے، جو لانچ کے بعد کچھ دیر کے لیے خراب ہو گیا تھا، تاہم بعد میں اسے بحال کر لیا گیا۔
واضح رہے آرٹیمس 2 دراصل آرٹیمس 3 کے لیے ایک آزمائشی مشن ہے، جس میں عملہ چاند کے اگلے سفر سے قبل تمام آلات اور اہم نظاموں کی جانچ کرے گا، جہاں چاند کے قطبی خطے میں ایک تاریخی لینڈنگ کی جائے گی۔
 
 

 

شیئر: