دنیا بھر میں شیر کے شکار کو شجاعت، ہمت اور جوان مردی کی علامت کے طور پر دیکھا اور بیان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی نسبت سے ہمت ور شخص کو 'شیر دل' کہا جاتا ہے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں بھی ہیں جب بعضے افراد کو شیر کو شکست دینے کی وجہ سے ’بابر‘ اور ’شیر شاہ‘ کے القاب سے یاد کیا گیا۔
لوگ شیر کی کھوپڑی اور کھالوں کو اپنے ڈرائنگ رومز کی زینت بنانے لگے اور ان کے شکار کے قصے نسل در نسل سنائے جانے لگے۔ جوں جوں بندوقوں کے نشانہ لگانے کی صلاحیت بڑھنے لگی شیروں کی تعداد کم ہونے لگی۔
ہندوستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے شیروں کی بہترین پناہ گاہ تھا جہاں گھنے جنگل بہتے دریا اور پہاڑوں کا ایک دلکش سلسلہ آج بھی نظر آتا ہے۔
مزید پڑھیں
بہرحال سنہ 1960 اور ستر کی دہائی کے اوائل میں انڈیا کے جنگلات میں ایک خاموشی اور ایک قسم کی سرگوشی ہونے لگی۔
یہ سرگوشی سال کے درختوں میں چلتی ہوا کی نہیں تھی بلکہ شیروں کی غیر موجودگی کی تھی جو ان کے سائے میں خاموشی سے کبھی خراماں خراماں شاہی انداز میں چلا پھرا کرتے تھے۔
شیر، جو کبھی برصغیر کے جنگل کا بادشاہ تھا آہستہ آہستہ غائب ہو رہا تھا۔ شکاریوں، مسکن کی تباہی اور انسانی بے اعتنائی نے مل کر اس کی دھاڑ کو خاموش کر دیا تھا۔ وہ دیہاتی جو کبھی دور سے آنے والی شیر کی آواز سے وقت کا اندازہ لگاتے تھے، اب شیر ان کے لیے صرف ایک یاد بن کر رہ گئے تھے۔
آزادی کے بعد ملک کو تقسیم کے درد کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کے سامنے اپنے پیٹ بھرنے کا چیلنج بھی تھا۔ ملک بتدریج ترقی کی راہ پر گامزن ہوا تو جنگلات کی کٹائی شروع ہو گئی۔ جنگلی جانوروں کا شکار بڑے پیمانے شروع ہو چکا تھا۔ اس دوران ایک اہلکار شیر کے دو بچوں کے ساتھ دہلی پہنچا۔
اور اس نے شیر کی ناپیدی کا شکوہ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی سے کیا۔ شیر کے بچے کے ساتھ اسی زمانے میں اندرا گاندھی کی تصویر سامنے آئی جس کے بعد ایک ایسا پروجیکٹ شروع ہوا جس نے شیروں کو نئی زندگی عطا کی۔
’نوبھارت ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جب اندرا گاندھی سنہ 1966 میں وزیراعظم بنیں تو جنگلات کو شدید خطرہ لاحق تھا جو آج بھی ہے۔ جنگلات کاٹے جا رہے تھے۔ کئی جگہوں پر، یہ تقسیم ہند کے مہاجرین کو آباد کرنے کے لیے کیا جا رہا تھا جبکہ دوسری طرف ایک نئے ہندوستان کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیںْ ڈیموں، کانوں، رئیل اسٹیٹ، انفراسٹرکچر اور صنعتی منصوبوں کے لیے قدرتی رہائش گاہیں تباہ ہو رہی تھیں۔

جنگلی جانوروں کا شکار کیا جا رہا تھا۔ کوئی بھی بندوق والا جنگل میں جانوروں کا خون بہا سکتا تھا۔ شکار جاری رہا، ٹرافیاں تقسیم کی گئیں، شیر کی کھالیں فروخت ہونے لگیں، یہاں تک کہ دہلی کے بازاروں میں بھی جنگلی جانوروں کی کھالیں فروخت ہوتی دیکھی گئیں۔
ایسے حالات میں اندرا گاندھی نے ایک طویل مدتی فیصلہ کیا۔ انڈیا کے جنگلات کو بچانے کے لیے جنگلی جانوروں کی حفاظت ضروری تھی۔ سب سے پہلے ٹائیگر کی شوٹنگ پر پابندی لگائی گئی جبکہ اس وقت یہ دلیلیں دی جا رہی تھیں کہ اس سے غیر ملکی زر مبادلہ آتا ہے۔
اسی دوران یکم اپریل سنہ 1973 کو پروجیکٹ ٹائیگر کا آغاز ہوا۔ یہ محض ایک تحفظی منصوبہ نہیں تھا بلکہ ایک عہد تھا، ایک وعدہ تھا کہ ہندوستان اپنے سب سے نمایاں حیوان کو داستانوں میں گم نہیں ہونے دے گا۔
پروجیکٹ ٹائیگر کی کہانی صرف پالیسیوں اور محفوظ علاقوں کی داستان نہیں ہے۔ دراصل یہ انسانی عزم، غیر متوقع کرداروں اور جنگلات کی کہانی ہے جو دوبارہ سانس لینا سیکھ رہے تھے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ رنتھمبور کے گھنے جنگلات میں ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں کئی کئی دن تک نہ شیر کے پنجے کے نشان کہیں دکھائی دیتے نہ ہی ان کی دھاڑ سنائی دیتی تھی ’جنگل خالی محسوس ہوتا تھا۔ ایک ایسے گھر کی طرح جسے سب چھوڑ کر چلے گئے ہوں۔‘
پروجیکٹ ٹائیگر کا آغاز نہایت سادگی سے ہوا، صرف نو محفوظ علاقوں کے ساتھ۔ تصور نہایت واضح تھا جس کے تحت شیر کے بنیادی علاقوں کو انسانی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے، شکار کے جانوروں کی تعداد بڑھائی جائے اور قدرت کو خود کو بحال کرنے دیا جائے۔ لیکن اس سادگی کے پیچھے عملی پیچیدگیاں پوشیدہ تھیں۔
اس کے لیے جنگلوں کے کنارے آباد پورے کے پورے دیہات کو منتقل کرنا تھا جو ایک جذباتی اور مشکل مرحلہ تھا۔ بہت سے لوگوں کے لیے جنگل صرف زمین نہیں تھا، یہ ان کی شناخت، روزگار اور تاریخ سے منسلک تھا۔
نیشنل ٹائيگر کنزرویشن اتھارٹی کے مطابق اس منصوبے کا آغاز نو ٹائیگر ریزروز سے کیا گیا۔ ان محفوظ علاقوں میں کور (مرکزی) اور بفر (حاشیائی) زونز کا تصور متعارف کرایا گیا، تاکہ شیروں کو انسانی مداخلت سے پاک ماحول میسر آ سکے اور ان کے شکار بننے والے جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہو۔

ابتدائی برسوں میں یہ بھی واضح ہوا کہ صرف قانونی تحفظ کافی نہیں ہو گا۔ چنانچہ جنگلاتی انتظامیہ نے مقامی آبادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کیا۔ بعض علاقوں میں دیہات کو بنیادی مساکن (کریٹیکل ہیبیٹیٹ) سے منتقل کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان جنگلات میں حیاتیاتی تنوع کی بحالی ممکن ہوئی۔
اس حوالے سے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی متعدد تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جہاں انسانی دباؤ کم ہوا، وہاں جنگلات اور جنگلی حیات میں تیزی سے بحالی نظر آئی۔
وقت کے ساتھ ساتھ سائنسی طریقۂ کار بھی متعارف ہوئے۔ شیروں کی گنتی کے لیے کیمرہ ٹریپس، ڈی این اے تجزیہ اور شماریاتی ماڈلز استعمال کیے جانے لگے۔
نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی اور وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی سنہ 2006 میں جاری کردہ مشترکہ رپورٹ اس جدید نگرانی کے نظام کی تفصیل فراہم کرتی ہیں۔
تاہم اس سفر میں چیلنجز بھی سامنے آتے رہے۔ سنہ 2004–2005 کے دوران سریسکا ٹائیگر ریزرو میں تمام شیروں کا غائب ہو جانا ایک بڑا دھچکا تھا، جس کا سبب غیر قانونی شکار تھا۔ اس واقعے نے پورے نظام پر سوالات اٹھائے مگر اسی کے نتیجے میں نگرانی کو مزید سخت کیا گیا۔ بعد ازاں سریسکا میں دوسرے ریزروز سے شیروں کو منتقل کر کے دوبارہ آباد کیا گیا جسے تحفظِ حیات کی تاریخ میں ایک اہم کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
مزید برآں، مختلف ماحولیاتی نظاموں میں شیروں کی اڈیپٹیشن بھی تحقیق کا موضوع رہی ہے۔
مثال کے طور پر سندربن کے دلدلی جنگلات میں شیروں کے تیراکی کرنے اور نمکین پانی کے ماحول میں رہنے کی صلاحیت کو عالمی ادارے یونیسکو اور ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر(ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی رپورٹس میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
آج انڈیا دنیا کے قریباً 70 فیصد جنگلی شیروں کا مسکن ہے جیسا کہ گلوبل ٹائيکر فارم اور این ٹی سی اے کی حالیہ مردم شماری والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کامیابی صرف ایک نوع کی بحالی نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کے استحکام کی علامت ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ شیر ایک ’امبریلا سپیسیز‘ یعنی گروہ اور ماحول میں پھلنے پھولنے والا جانور ہے یعنی اس کی حفاظت دراصل بے شمار دیگر جانداروں اور قدرتی وسائل کی حفاظت ہے۔ چنانچہ پروجیکٹ ٹائیگر نے نہ صرف شیروں کی تعداد میں اضافہ کیا بلکہ جنگلات، دریاؤں اور حیاتیاتی تنوع کو بھی نئی زندگی دی۔
صرف نو ریزروائرز سے شروع ہونے والے ٹائیگر پروجیکٹ نے ترقی کی منزلیں طے کی اور 53 سال میں اب پورے انڈیا میں اس کے تحت 58 محفوظ مقامات ہیں جہاں سنہ 2023 کی شیر شماری کے مطابق 3500 سے زیادہ شیر شیرنیاں ہیں۔
یوں پروجیکٹ ٹائیگر ایک سائنسی، انتظامی اور سماجی کوشش کی کامیاب مثال بن چکا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ بروقت اقدامات، تحقیق اور اجتماعی عزم کے ذریعے معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو بچایا جا سکتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں جب انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی شیروں کی تصویر والی وائرل ہوئی تو اس وقت کانگریس کی جانب سے اندرا گاندھی کی تصویر جاری کی گئی تھی جو کہ شیروں کی دوبارہ آبادکاری کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
آج اگرچہ ہر شخص شیر کو نہیں دیکھ پائے گا، ہر جنگل اس کی دھاڑ سے نہیں گونجے گا مگر انڈیا کے مختلف جنگلات میں، مرغزاروں اور دلدلی علاقوں میں، شیر زندہ ہے، ایک زندہ حقیقت کے طور پر، نہ کہ ماضی کی داستان کے طور پر۔
اور کبھی کبھار، اگر آپ صبح کے وقت جنگل کے کنارے خاموشی سے کھڑے ہوں، تو آپ اسے سن سکتے ہیں، صرف شیر کی دھاڑ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی بازگشت۔












