ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، قوم سے خطاب سے قبل ٹرمپ کا دعویٰ
جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کے لیے بند کر رکھا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جب تک اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو توانائی کی ترسیل کے لیے دوبارہ نہیں کھولا جاتا، کسی بھی جنگ بندی پر غور نہیں کیا جائے گا۔
تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ یہ دعویٰ’جھوٹا اور بے بنیاد‘ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ کے پاس جنگ بندی کے لیے ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، تاہم یہ اسی صورت ممکن ہے جب اس کے مخالفین یہ ضمانت دیں کہ دوبارہ جنگ شروع نہیں کریں گے۔
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ امریکی وقت کے مطابق رات 9 بجے اہم خطاب کریں گے، جو اس تنازع کے آغاز کے بعد ان کی پہلی اہم تقریر ہوگی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’پزشکیان نے ابھی ابھی امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس پر اس وقت غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کو کھولا جائے گا اور یہ تجارت کے لیے آزاد اور محفوظ ہوگی۔ اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے یا جیسا کہ کہا جاتا ہے، اسے پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے۔‘
امریکی صدر نے منگل کی شب کہا تھا کہ امریکی افواج ’بہت جلد‘ ایران میں اپنی کارروائیاں ختم کر دیں گی، اور اس کے لیے دو سے تین ہفتوں کا وقت درکار ہو سکتا ہے، جبکہ ان کی انتظامیہ ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور فضائی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران جب ان سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے صرف ایران سے نکلنا ہے، اور ہم بہت جلد ایسا کرنے والے ہیں، اور پھر سب کچھ نیچے آنا شروع ہو جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم کام مکمل کر رہے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ شاید دو ہفتوں میں، یا چند دن زیادہ لگ سکتے ہیں، ہم یہ کام مکمل کر لیں گے۔‘
جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز کہا کہ یہ آبنائے ملک کے ’دشمنوں‘ کے لیے بند ہی رہے گی۔
پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی تصدیق کی کہ انہوں نے خلیج میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل کا تھا۔ ایک برطانوی بحری سکیورٹی ایجنسی کے مطابق یہ جہاز قطر کے قریب نشانہ بنایا گیا، جس سے نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
