امریکہ کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ’ معاہدے پر دستخط کے درست وقت کے بارے میں ابھی انتظار کرنا ہوگا، تاہم یہ کل (اتوار) نہیں ہوگا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے متوقع مفاہمتی یادداشت پر اتوار کے روز دستخط نہیں کیے جائیں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ’ معاہدے پر دستخط کے درست وقت کے بارے میں ابھی انتظار کرنا ہوگا، تاہم یہ کل (اتوار) نہیں ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آئندہ چند دنوں میں ایسا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔
ایران کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ مذاکرات میں پیش رفت جاری ہے، تاہم معاہدے پر دستخط کے وقت اور حتمی مراحل کے بارے میں ابھی کچھ امور طے ہونا باقی ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری تنازعے کا خاتمہ کرے گا، اور معاہدے کا حتمی متن بھی طے پا چکا ہے۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان اب الیکٹرانک دستخط کے عمل کی تیاری کر رہا ہے، جو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے، جبکہ اس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ ’پاکستان اب الیکٹرانک دستخط کے عمل کی تیاری کر رہا ہے، جو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے، جبکہ اس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔‘
شہباز شریف نے جمعہ کے روز بھی کہا تھا کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے کی متن پر متفق ہو گئے ہیں جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہے، اور ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر معاہدے کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔
